ٓ فوج کے روانہ ہوتے ہی اس نے ہر پڑاؤ، ہر محاصرے اور ہر جنگ کے موقع پر مفصل ہدایات محمد بن قاسم کو بھیجیں، تاکہ وہ کوئی فوجی غلطی نہ کر بیٹھے اور فوج کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے۔ چچ نامہ میں دی گئی حجاج و محمد بن قاسم کی خط و کتابت اور اس کی داخلی شہادتوں سے یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے کہ سندھ کی مہم کی کامیابی کی پوری ذمہ داری حجاج بن یوسف پر تھی نہ کہ محمد بن قاسم پر۔ جب فوج سندھ کی جانب روانہ ہوتی ہے، تو وہ اسے مشورہ دیتا ہے کہ:’’دشمن کے ملک میں پہنچو، تو کشادہ میدان میں قیام کرنا، تا کہ کھلے رہو اور جنگ کے وقت چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بٹ جانا اور مختلف الگ الگ سمتوں سے آنا۔‘‘
ارمابیل کی فتح کے بعد حجاج نے ہدایت دی کہ دیبل پہنچ کر بارہ گز چوڑی، چھ گز اونچی خندق کھودنا، دشمن سے مقابلہ کرتے وقت خاموش رہنا اور جب تک حکم نہ ملے جنگ شروع مت کرنا۔
دیبل کے محاصرے کے دوران میں جب منجنیق سے پتھر پھینکنے کا سوال آیا اور جعونہ نامی شخص نے مشورہ دیا کہ منجنیق کو دو گز کاٹ دیا جائے، تو محمد بن قاسم نے خود فیصلہ کرنے کے بجائے حجاج کو لکھا۔ اس نے اجازت دے دی اور ساتھ ہی میں یہ بھی لکھا کہ: ’’جب جنگ کے لیے آگے بڑھو، تو مناسب یہ ہے کہ سورج کی طرف پشت رکھو، تاکہ دشمن کو اچھی طرح دیکھ سکو۔ دیبل کی فتح کے بعد جب محاصرین نے امان مانگی، تو محمد بن قاسم نے اس لیے انکار کیا، کیوں کہ اس کے پاس حجاج کی اجازت نہیں تھی۔ دیبل پر قبضہ کے بعد حجاج نے ہدایات دیں کہ لشکر کی ضروریات کی جو چیز قبضہ میں آئے، وہ لشکر پر خرچ کرنی چاہئے۔ کھانے پینے کی چیزیں فراخ دلی سے لشکریوں پر تقسیم کرنی چاہئیں۔ ملک فتح ہونے اور قلعوں کے قبضہ میں آنے کے بعد رعایا کے آرام اور باشندوں کی دلجوئی کی کوشش کرنا۔ اگر کسان، صنعت کار اور دستکار آسودہ ہوں گے، تو ملک سر سبز اور آباد رہے گا۔
جب راجہ داہر سے فیصلہ کن جنگ کا وقت آیا، تو اس موقع پر بھی حجاج نے ہر ہر لمحہ اور موقع پر محمد بن قاسم کو ہدایات دیں۔ جن پر عمل کرکے اس نے جنگ میں کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ داہر کو دریائے مہران عبور مت کرنے دینا۔ دشمن کا مقابلہ کشادہ میدان میں کرنا اور لشکر کی ترتیب کا خیال رکھنا۔ ایک دوسرے خط میں لکھا کہ دریا عبور کرتے وقت گھاٹ کے کنارے اچھی طرح دیکھ لینا اور دریا پار کرنے کا مکمل انتظام کرنا۔ فوراً بعد ایک اور خط میں ہدایت کی کہ دریا ایسی جگہ سے پار کرنا جہاں دلدل یا کیچڑ نہ ہو اور لشکر کو تکلیف نہیں پہنچے۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ دریائی چوڑائی اور لمبائی کا نقشہ اسے بھیجاجائے، تاکہ وہ اسے بتائے کہ دریا کہاں سے پار کرنا چاہئے۔ جب محمد بن قاسم مہران کے مغربی کنارے پر پڑاؤ ڈالے جنگ کے انتظام میں تھا، تو حجاج نے اسے لکھا کہ ’’مجھے تمہاری روش نا پسند ہے۔‘‘ یہ تنبیہ اس نے اس لیے کی کہ محمد بن قاسم ہر ایک کو امان دے رہا تھا۔ حجاج نے پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے اسے لکھا کہ ’’رذیل اور شریف ایک سے سلوک کے مستحق نہیں۔ ایسا کرنے سے کم عقلی ثابت ہوگی اس نے مزید لکھا کہ بے کار پڑے رہنا خطرناک ہے۔ کیوں کہ جنگ میں دیر ہوئی، تو پھر جنگ کے اخراجات کہاں سے آئیں گے؟ لہٰذا اسے حکومت اور سیاست کے طریقوں پر عمل کرنا چاہئے۔ اس کے بعد لکھتا ہے کہ سندھ کے سرداروں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرو، ان سے معاہدے کرو، انہیں مراعات و جاگیریں دو۔ اگر کسی کو قاصد مقرر کرو، تو اس کی عقل و دانش مندی کو پہلے دیکھ لو۔ سندھ کی فتح کے بعد یہاں کی رعایا پر جزیہ عائد کرنا اور انہیں مذہبی آزادی دینا حجاج کی ہی ہدایات پر ہوا۔ سندھ میں عربوں کی پہلی فتح دیبل کی تھی۔ اس فتح کی وجہ عربوں کا تجربۂ جنگ اور ان کے نئے ہتھیار تھے۔ خصوصیت سے منجنیق کے استعمال نے محاصرین کے حوصلے پست کردیئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قلعہ کی آبادی میں عربوں سے جنگ کرنے کے سلسلہ میں کوئی اتحاد نہیں تھا۔ اس نا اتفاقی کی نشاندہی ان لوگوں سے ہوتی ہے جو قلعہ سے نکل کر عربوں کے کیمپ میں آئے اور امان طلب کی۔ دیبل کے فتح کے بعد تین دن تک ہتھیار بند لوگوں کا قتل عام ہوا۔ دیبل کے مشہور بت خانہ پر بھی عربوں نے قبضہ کرکے وہاں لوگوں کو قتل کیا۔ یہاں پر سات سو دیوداسیاں بتوں کی خدمت پر مامور تھیں۔ انہیں گرفتار کرکے ان کے زیورات پر قبضہ کیا گیا۔ مولانا ہاشمی فرید آبادی نے اس واقعہ کے بارے میں کچھ اس طرح لکھا ہے کہ ’’بڑے مندر کی مُرلیاں سات سو تھیں جو بتوں کی پرستاری سے نکل کر مسلمانوں کی کنیزی میں داخل ہوئیں۔‘‘
دیبل سے جو مال غنیمت ملا اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کے لیے علیحدہ کردیا گیا اور باقی مال فوج میں عہدوں و مرتبوں کے لحاظ سے تقسیم ہوا۔ مال غنیمت میں راجہ داہر کی دو لڑکیاں بھی تھیں جنہیں حجاج کے پاس روانہ کیا گیا۔
جنگ کے قابل مردوں اور مندر کے بھکشوؤں کے قتل عام کے بعد قلعہ سے مزاحمت کے تمام آثار ختم ہوگئے۔ حجاج نے محمد بن قاسم کو ہدایت کی کہ وہاں مسلمانوں کو آباد کیا جائے۔ چنانچہ زمین کے قطعات ان میں تقسیم کئے گئے اور چار ہزار مسلمانوں کو وہاں آباد کیا گیا۔
دیبل کے فتح کے بعد عربوں کو مسلسل کامیابیاں ہوئیں اور انہوں نے نیرون کوٹ، سیوستان، سیسم، باسیوی، اشیہار، راوڑ، لہرور، وہلیلہ، برہمن آباد، اروڑ، بابیہ، اسکلندہ، سکہ اور ملتان فتح کئے۔ راوڑ کی جنگ میں راجہ داہر بہادری سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ اس کے مارے جانے کے بعد سندھ میں عربوں کے خلاف مزاحمت ختم ہوگئی اور سندھ پر ان کا قبضہ مکمل ہوگیا۔
فتوحات کے نتیجہ میں عربوں کو کثیر تعداد میں مال غنیمت ہاتھ آیا۔ سونا، چاندی اور قیمتی سامان کے علاوہ عورتوں، بچوں اور مردوں کو کنیزیں و غلام بنایا گیا۔ راوڑ کے قلعے سے خزانہ و مال اور ہتھیاروں کے علاوہ غلاموں اور کنیزوں کی تعداد تیس ہزار تھی۔ برہمن آباد میں سب ہتھیار بند قتل ہوئے اور ان کے متعلقین جو گرفتار ہوئے ان کی تعداد تیس ہزار تھی۔ اس طرح ملتان کی فتح کے بعد قابل جنگ مرد قتل کئے گئے اور عورتوں و بچوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا گیا۔ بُدھ کے چھ ہزار پچاری بھی غلام بنائے گئے۔ (جاری ہے)
1,180 total views, no views today


