گذشتہ دنوں ایک اخبار میں بہت ہی رنگین تصویر پر نظرپڑی جس میں سوات سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے چمکتے ستارے ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ نو منتخب کونسلروں کے اجتماع سے پارٹی عہدیداروں نے خطاب کے دوران ڈھیر سارے بلند بانگ دعوؤں کے علاوہ اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ کرپٹ عناصر سے معاشرے کو پاک کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ چیئرمین ڈیڈک ایم پی اے فضل حکیم خان نے کہا کہ وہ عوامی احتساب کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ اس قسم کی باتیں صوبائی حکومت میں شامل تقریباً ہر ایک عہدیدار سے سننے کو مل رہی ہیں جو دلکش ہونے کے علاوہ خیبر پختونخواہ کی خوشحالی اور ترقی کی نوید بھی ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت کرپشن کے خلاف بھر پور کوشش کر رہی ہے، کیوں کہ پہلے ہی تین وزراء بدعنوانی اور اختیارات کے نا جائزاستعمال کی وجہ سے بر طرف کئے جا چکے ہیں۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سرکاری ہسپتالوں اور اسکولوں میں بہتری آئی ہے۔ بائیو میٹرک نظام نے ڈاکٹروں اور اساتذہ کرام کی حاضری یقینی بنانے میں مدد کی ہے۔ مانیٹرنگ کی وجہ سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے۔ اس کے باوجود اب بھی ڈھیر سارے لوگ خاص طور پر غریب عوام مسائل کے سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں اور حکومت کی طرف دیکھتے ہوئے کسی مسیحا کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال میں عوامی مسائل حل کئے بغیر تحریک انصاف کی عوامی عدالت میں سر خرو ہونے کی توقع کرنا دیوانے کی بڑ ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کو عوامی مسائل حل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے سیاسی مسائل اور الجھنوں میں اس طرح پھنس چکی ہے کہ اب ان سے جان چھڑانا اس کے لے درد سر بن چکا ہے۔ پارٹی کے لئے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے بعد ضلع اور تحصیل کی سطح پر حکومت سازی ہے۔ کیونکہ اس کے لئے تحریک انصاف کو نہ صرف اپنی نا پسندیدہ پارٹیوں کے ساتھ اتحاد کرنا پڑ رہا ہے بلکہ اسے مخالف اتحادوں کا بھی سامنا ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے ’’تبدیلی‘‘ کے نام پر پورے صوبے کی طرح سوات میں بھی کلین سویپ کیا تھا۔ ’’نیا پاکستان‘‘ اس کے منشور میں شامل ہے۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں انقلاب لانا اس کے جیالوں اور رہنماؤں کا تکیہ کلام ہے۔ ابتدائی دنوں میں اپنے وعدوں کی تکمیل پر تحریک انصاف نے بھر پور توجہ دی تھی اور ’’تبدیلی‘‘ کی راہ پر سفر بھی شروع کیا تھا لیکن شاید اسلام آباد دھرنے کی وجہ سے اپنے اہداف تک رسائی میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان کے مطابق دھرنے کی نتیجے میں ایک طرف پاکستانی قوم میں سیاسی شعور بیدار ہوا ہے، تو دوسری طرف جوڈیشل کمیشن کا بننا وطن عزیز کے سیاسی افق پر ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی۔ خان کی یہ بات کس حد تک ٹھیک ہے؟ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی بہتر طریقے سے کرے گا۔
اب تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں ’’ڈی سیٹ‘‘ کئے جانے کا مسئلہ در پیش ہے۔ ایم کیو ایم اور جے یو آ ئی (ف) نے تحریک انصاف کے ارکان کی رکنیت منسوخ کرنے کی تحریک کے تحت قومی اسمبلی میں قرار دادیں پیش کی ہیں جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دھرنے کے دوران تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے استعفے دیے تھے، لہٰذا ان کا اسمبلی میں بیٹھنے کا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ بہرحال حکومت اور اپوزیشن دونوں اس بات سے اتفاق کرتے نظر نہیں آ رہے ہیں، کیونکہ اس سے ایک اور سیاسی بحران سامنے آنے کا خدشہ ہے۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ مسئلہ افہام و تفہیم سے حل ہو جائیگا۔دوسری طرف صوبائی حکومت کو قومی وطن پارٹی کو صوبائی حکومت میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ قومی وطن پارٹی کو حکومت کا حصہ بنایا جائے لیکن عمران خان اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ کیونکہ اس پارٹی کو کرپشن کے الزام میں حکومت سے باہر کیا گیا تھا۔
اس طرح ضلعی سطح پر تحریک انصاف کو عوامی مسائل حل نہ کرنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ سوات کی سڑکیں کھنڈرات بن گئی ہیں۔ خاص طور پر بحرین سے کالام تک تو سڑک کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہاں کے مقامی باشندے پریشان ہیں بلکہ سیاحت کی غرض سے آنے والے مہمانوں کے لئے یہ جنت نظیر وادی اب دوزخ بن چکی ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈ نگ پورے ملک کا مسئلہ ہے لیکن واپڈا اور حکومت کے مطابق ان علاقوں میں لوڈشیڈنگ کم کی جائیگی جہاں بِل زیادہ جمع کیے جاتے ہوں۔ سوات سو فیصد ریکوری والا علاقہ ہے لیکن پھر بھی یہاں کے عوام بارہ سے اٹھارہ گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ کم وولٹیج بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ڈھیر سارے علاقے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ عوام کو پانی حاصل کرنے کے لئے دور دراز علاقوں تک جانا پڑتا ہے۔ سوات یونیورسٹی چھ سال سے کرایہ کی بلڈنگ میں کلاسز چلا رہی ہے، اگر چہ اس کے نام پر چارباغ میں ایک وسیع رقبے پر زمین بھی قبضے میں لے لی گئی ہے لیکن وہاں ابھی تک چار دیواری بھی مکمل نہیں کی گئی ہے۔ اس طرح بعض علاقوں میں چوروں اور ڈاکو ؤں کی وجہ سے امن و امان کی صورتِ حال بھی پریشان کن ہے اور لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں۔ رہی سہی کثر مہنگائی نے پوری کر دی ہے جس نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ بے روزگاری کا تو یہ عالم ہے کہ اس پر بات کرنے کو سرے سے جی نہیں چاہ رہا۔
ایسی صورتِ حال میں تحریک انصاف کے رہنماؤں کا اپنے آپ کو عوامی احتساب کے لئے پیش کرنا میرے خیال میں دانش مندی نہیں ہے۔ اگرچہ عوامی احتساب میں ابھی تین سال باقی ہیں لیکن کیا پورے صوبے میں بالعموم اور سوات میں بالخصوص تحریک انصاف عوامی مسائل حل کئے بغیر اپنی مقبولیت قائم رکھ پائیگی؟ کیا یہ پارٹی عوامی عدالت کا سامنا کر پائیگی؟
ان سوالات کا جواب جاننے کے لئے شاید آئندہ عام انتخابات تک انتظار کرنا پڑے۔ کیونکہ اگر موجودہ حکومت اپنا پانچ سالہ دور پورا کرتی ہے، تو تب کہیں جا کر عوامی عدالت لگے گی لیکن اگر تحریک انصاف نے عوامی مسائل حل کرنے پر توجہ نہیں دی، تو ہو سکتا ہے کہ عوامی عدالت کو تین سال تک بھی انتظار نہ کرنا پڑے اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ خیبر پختونخوا کی عوامی عدالت کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے۔
878 total views, no views today


