سوات، سوات کے اہم سیاسی شخصیت و شاہی خاندان کے سپوت میانگل شہریار امیر زیب نے کہا ہے کہ ذہین طلباء کا داخلوں سے رہ جانا نقصان دہ ہے خصوصاً سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے طلباء کے مستقبل داؤ پر لگ چکے ہیں، اگر سرکاری کالجوں میں جگہ کم ہے تو کوٹہ سسٹم کو ختم کرکے این ٹی ایس ٹیسٹ کے ذریعے داخلے دیئے جائے تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو،ذمہ دار لوگ ہر ضلع میں سرکاری کالجوں کو فعال کرنے کے ساتھ ان کوبہتر سہولیات فراہم کرے تاکہ بچے پڑھ لکھ کر ملک و قوم کی کام آسکیں، امسال نو سو سے زائد نمبر لینے والے طلباء کو بھی سرکاری کالجوں میں داخلہ نہیں ملاجن میں زیادہ تر تعداد سرکاری سکولوں سے کامیاب ہونے والے طلباء کی ہے،ان خیالات کا اظہار میانگل شہریار امیرزیب نے اپنے دفتر میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا مگر افسوس کا مقام ہے کہ سوات میں سینکڑوں بچے داخلوں سے محروم رہ گئے ریاستی دور میں تعلیم عام کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جاتے تھے آج بھی سوات میں ریاستی دور میں بنائے گئے تعلیمی درسگاہوں سے لوگ مستفید ہورہے ہیں مگر آبادی کے بڑھتے ہوئے تناسب سے ریاستی دور میں بنائے گئے تعلیمی اداروں میں جگہ کم پڑ چکی ہے لہذا حکومت وقت نئے درسگاہوں کا قیام یقینی بنائے ،میانگل شہریار امیر زیب نے ذمہ داروں سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ داخلوں سے رہ جانے والے طلباء میں زیادہ ترغریب گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو پرائیوٹ کالجوں میں پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ کہاں سے تعلیم حاصل کرینگے،کیا ان کو تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے؟صوبائی حکومت فی الفور داخلوں سے محروم رہ جانے والے طلباء کیلئے متبادل انتظامات کرے اور ائندہ ایسے صورتحال سے بچنے کیلئے بر وقت نئے کالجوں کا قیام ممکن بنائیں۔
704 total views, no views today


