طالب علمی کے دور میں ایک مزاحیہ اسٹیج شو میں حصہ لیا تھا جس میں ایک عطائی ڈاکٹر کا کردار میں نے ادا کیا تھا، جسے بے حد سراہا گیا تھا۔ عطائی ڈاکٹر کا نام ڈاکٹر حکیم قلقلا خان تھا اور اس نے اے بی سی سے لے کر ایکس وائی زیڈ تک تمام کورسز اور ڈگریاں اپنے بورڈ پر لکھی ہوئی تھیں۔
حکیم قلقلاخان کے علاوہ ڈرامے کے باقی دو کرداروں میں ایک اس کا اسسٹنٹ خشخشو تھا اور ایک مریض۔ ڈرامہ خشخشو کی دبنگ انٹری سے شروع ہوتا ہے جس میں وہ ناچتے ہوئے کلینک میں داخل ہوتا ہے اور گنگناتے ہوئے صفائی شروع کرتا ہے۔ گانے کے بول کچھ اسطرح ہوتے ہیں۔
مریضوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے
جو ڈاکٹر نہ جانے تو ہم کیسے جانیں
صفائی مکمل کرنے کے بعد خشخشو، ڈاکٹر صاحب کی آمد کا اعلان کرتا ہے۔ ’’باادب، باملاحظہ، ہوشیار، ختنے کرانے والا نائی، پارٹ ٹائم قصائی، شیطان کا چھوٹا بھائی، ڈاکٹر، حکیم صاحب، عطائی، حکیم قلقلا خان سودائی تشریف لارہے ہیں۔‘‘ اعلان ہونے کے بعد حکیم قلقلا خان نازل ہو جاتے ہیں اور آتے ہی خشخشو پر برسنا شروع کر دیتے ہیں: ’’تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ نائی کی جگہ شہنشاہِ سرجری کہا کرو اور پارٹ ٹائم قصائی کا اعلان صرف بقر عید والے سیزن میں کیا کرو۔ اچھا خاصا منافع مل جاتا ہے، کھال اتارنے اور گوشت بنانے کا۔‘‘ خشخشو سر کھجا کر معذرت کرتا ہے اور یوں حکیم صاحب کی بات ادھوری رہ جاتی ہے۔ اتنے میں ایک مریض کراہتے ہوئے اندر داخل ہوتا ہے: ’’ہائے میں مرگیا۔‘‘ حکیم صاحب مریض کو بیٹھنے کا اشارہ کردیتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا ہوا؟ مریض جواباً کہتا ہے کہ ’’ڈاکٹر صاحب، میں اس مرض سے تنگ آگیا ہوں، اب جی چاہتا ہے کہ خودکشی کرلوں۔‘‘ حکیم صاحب بڑے اعتماد سے جواب دیتے ہیں: ’’نا نا نا، تم کیوں زحمت کرتے ہو، آخر میں کس لئے ہوں؟‘‘ مریض کہتا ہے: ’’ویسے ڈاکٹر صاحب، آپ نے سائن بورڈ پر ٹھیک لکھا ہے کہ دانت بغیر تکلیف کے نکالے جاتے ہیں۔‘‘ حکیم صاحب فخریہ انداز میں پوچھتے ہیں: ’’درست فرمایا لیکن تمہارا کیا مطلب ہے؟‘‘مریض معصومانہ انداز میں جواب دیتا ہے: ’’مطلب یہ ہے کہ آپ نے میرے دانت نکال دئیے تھے لیکن تکلیف وہی کی وہی ہے۔‘‘ اس پر خشخشو کی ہنسی نکل جاتی ہے جسے حکیم صاحب کی ’’چنگیزانہ نظر‘‘ فوراً زائل کردیتی ہے۔ ’’تو اب آپ اس مرض کے سلسلے میں آئے ہیں۔‘‘ حکیم صاحب گفتگو کا رخ موڑنے کے لئے نیا سوال داغتا ہے: ’’نہیں جناب! بلکہ میں تو یہ پوچھنے کے لئے آیا تھا کہ جب سے آپ نے میرا آپریشن کیا ہے، اس وقت سے میرے پیٹ میں سے ٹک ٹک کی آوازیں آ رہی ہیں۔‘‘ اس پر خش خشو زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے حکیم صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’میں نہیں کہہ رہا تھا کہ گھڑی میں نے چوری نہیں کی بلکہ آپ نے مریض کے پیٹ میں چھوڑ دی ہوگی۔‘‘ اسے سنتے ہی مریض بے ہوش ہوتا ہے۔ حکیم قلقلاخان اس مرتبہ انتہائی ڈر جاتا ہے اور پانی کے چھینٹے مریض کے منھ پر مارتا ہے۔ مریض کی ادھ کھلی آنکھیں دیکھ کر فوراً سوال کرتا ہے: ’’پیسے کہاں رکھے ہیں اور کوئی آخری خواہش؟‘‘ مریض بے بسی میں جواب دیتا ہے کہ ’’بس کسی اچھے سے ڈاکٹر کو بلائیں۔‘‘
ڈاکٹر بننا انتہائی مشکل کاموں میں سے ایک ہے۔ اس کو بین الاقوامی سطح کی تحقیقاتی رپورٹوں نے دنیا میں رائج الوقت ڈسپلنز میں سب سے مشکل ڈسپلن قراردیا ہے۔ انٹر میں اعلیٰ نمبر لینے کے بعد انٹری ٹیسٹ اور پھرچھ سات سال کی انتھک محنت کے بعد ہی بندہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ ڈاکٹر کہلائے اور لوگوں کا علاج کرسکے، لیکن باقی شعبوں کی طرح اس میں بھی ہمارے لوگوں نے شارٹ کٹ ڈھونڈ لیا ہے۔ اب اصل والے ڈاکٹر بے شک حکومت کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ جائے اور سروس اسٹرکچر سمیت دیگر مسائل کا رونا روئے۔ ان عطائیوں کی ہروقت چاندی ہوتی ہے۔ عطائی ڈاکٹر بننے کے تین معروف طریقے ہیں۔ پہلی قسم کے عطائی ڈاکٹر وہ ہوتے ہیں جوکسی بھی سرکاری ہسپتال میں لیب اسسٹنٹ، کلرک، چوکیدار یا ڈرائیور ہوتے ہیں اور وہاں سے یہ دیکھا دیکھی ڈاکٹر بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ عموماً اونچے پہاڑی علاقوں مثلاً کشورہ، تلیگرام جیسے علاقوں میں اپنے جوہر دکھاتے ہیں۔ دوسری قسم کے عطائی ڈاکٹر کسی بھی اسپیشلسٹ ڈاکٹر کے اسسٹنٹ رہ چکے ہوتے ہیں اور وہاں سے یہ لوگ بیعت ہو کر میدانِ طب میں جلوہ افروز ہو جاتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں بسیرا کرلیتے ہیں جیسے گلی باغ، دکوڑک، الہ آباد، عالم گنج۔ تیسری قسم کے عطائی ڈاکٹر وہ ہوتے ہیں جو چھ ماہ کا پیرا میڈیکل کورس کرلیتے ہیں۔ اس قسم کے عطائی ڈاکٹر قصبوں میں زیادہ ملتے ہیں جیسے چارباغ اور خوازہ خیلہ۔چونکہ انہیں اپنی ’’پیشہ ورانہ تعلیم ‘‘پر گھمنڈ کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے، لہٰذا ان کے کلینکس(جنہیں وہ کبھی کبھار ہسپتال بھی کہہ جاتے ہیں) بڑے شاندار ہوتے ہیں اور ان کے پاس سے نئے لڑکے کام سیکھ کر، میدانِ طب میں داخل ہوکر اپنا اور اپنے ’’استاد‘‘ کا نام روشن کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے مریدانِ خاص کو پہاڑی علاقوں میں ’’دوکان‘‘ کھول کر دے دیتے ہیں جہاں اسپیشلسٹ کے طور پر تیسری قسم کے عطائی ڈاکٹر ہفتہ وار بنیادوں پر بھی جاتے ہیں۔ نیز ان کے مریدانِ باوفا اوپر کے گاؤں میں مریضوں کو ان کی طرف ریفر بھی کرتے رہتے ہیں۔
پچھلے دنوں ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ صاحب سے اس کے پرانے ڈرائیور کا پوچھا، تو بتایا گیا کہ وہ اب ایک عدد کلینک نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ چلارہے ہیں۔ اپنی ذاتی گاڑی خرید لی ہے اور ایک عدد نیا کلینک کھولنے کا ارادہ بھی ہے۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ اپنے ارگرد کا ڈیٹا اکھٹا کرنا شروع کیا، تو پتہ چلا کہ ٹوپیاں سینے والے مشہورِ زمانہ شاعرنے بھی ایک فلاحی ادارے میں کام کرکے ’’کورس‘‘ مکمل کردیا ہے اور اب اپنا ذاتی کلینک کھول کر مریضوں کو علاج اور دوائی کے ساتھ ساتھ تازہ غزلوں سے بھی نوازتے رہتے ہیں۔ پڑھا لکھا آدمی تھا، لہٰذا اس فیلڈ میں آکر نیک نامی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
یہ بھی پتہ چلا کہ پہاڑوں میں کتا لے کر شکار ڈھونڈ نے والا، آج کل نئے طرز کے شکار ڈھونڈنے لگا ہے۔ موصوف جب اسٹور سے اپنے کلینک کے لئے دوائیاں خریدنے آتے ہیں، تو کچھ اسطرح آرڈر دیتے ہیں: ’’شیر والی گولیوں کے پانچ جبکہ بلڈ پریشر کے سات اور شوگر کے نو پیکٹ پیک کردو۔ الرجی اور گیس کے حوالے سے بھی کچھ دکھاؤ۔ آج کل گیس کا مرض کافی زیادہ ہوگیا ہے۔‘‘ دوکاندار پوچھتا ہے کہ بلڈ پریشر اور شوگر کی کونسی گولیاں؟ تو جواب دیا جاتا ہے: ’’بس کوئی بھی‘‘ اور پھر آہستہ سے اسے کہتا ہے: ’’بس، مارجن زیادہ ہو۔‘‘
ساتھ والے گاؤں میں ایک بندہ تو گیان پرکاش (معروف چلڈرن اسپیشلسٹ) کے ساتھ چھ ماہ کام کرکے ’’ماہرِ امراضِ اطفال‘‘ بن گیا ہے اور وہاں رش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ ویسے اس موصوف کی تعلیم بھی میٹرک ہی ہے لیکن میٹرک چونکہ بیس سالہ پرانا ہے، لہٰذا اسے بھی معتبر مان لیا جائے۔
ایک نامی گرامی سابقہ منتخب مقامی رہنما تو دو بھائیوں اور ایک شاگردِ خاص کو خلیفۂ مجاز بناکر مختلف علاقوں میں تعینات بھی کرچکا ہے۔
دینے کو تو مثالیں اور بھی ہیں اور لکھنے کو میرے پاس الفاظ بھی بہت ہیں، چھاپنے کے لئے ’’روزنامہ آزادی‘‘ کے پاس جرأت بھی ہے اور کہنے کو میرے پاس حوصلہ بھی۔لیکن اور مثالیں پڑھ کر آپ نے کیا کرنا ہے؟ ایسی مثالیں تو گلی گلی اور قریہ قریہ آپ کو دیکھنے کی خاطر مل جائیں گی۔ اس مسئلے کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے، لیکن سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے رنجیدہ ہونے کی نہیں۔ میں نے ہمت کرکے اپنے گردوپیش پر لکھ دیا ہے اور جب موقع ملے گا تواسے رپورٹ کرنے میں تامل سے کام بھی نہیں لوں گا۔ آپ بھی ہمت کریں اور ان عطائیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔ پروفیشنل ڈاکٹر ہو یا پروفیشنل حکیم، کوالیفائیڈ نرس (جنرل نرسنگ اور بی ایس این والے) اور یا ڈی ایچ ایم ایس کرنے والے تجربہ کار پریکٹیشنرز سب کے سب دودھ کے دھلے نہیں ہوں گے۔ ان سے بھی انسانوں والی عام غلطیاں ہوں گی لیکن کم از کم وہ اپینڈکس کے مریض کو میتھوڈین نہیں دیں گے اور نہ ہی بخار کی نوعیت کو جانے بغیر انجکشن لگاکر آپ کے بچے کو اپاہج بنائیں گے۔
اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے، عطائی، قصائی یا مسیحائی۔
1,104 total views, no views today


