’’میں اس ضمن میں یہ بات کرنا چاہ رہا ہوں کہ میں پاکستان ایکس سروسز سوسائٹی کا سربراہ بھی ہوں۔ صدر ہوں اس کااور منتخب صدر ہوں۔ متفقہ طور پر منتخب ہوگیا تھا، حالانکہ میں نے اپنے آپ کو پیش نہیں کیا تھا لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ جب سیاست دانوں یا بیروکریٹس کا یا جاگیرداروں کا احتساب کیا جائے، تو ہمارے فوجیوں کو استثناء دی جائے، ہرگز نہیں۔ بلکہ میں گزارش کروں گا اپنے فوجی ادارے سے اور جنرل راحیل شریف سے بالخصوص کہ آغاز اس کا ہم ہی سے کریں اور میں یہ کہہ چکا ہوں کہ سب سے پہلے مجھ سے آغاز کریں، کیونکہ میرے اوپر بھی بہت سے الزامات ہیں۔ میں نے تو یہ قسم کھائی ہوئی ہے اس ملک کے لئے کہ اس ملک پر اپنی جان دونگا اور وہ قسم ساقط نہیں ہوئی۔ میرے ریٹائرڈ ہونے کے بعد، توآج اگر میری جان لینے سے بات بن سکتی ہو، تو مجھے اس سے بڑھ کر انعام مل ہی نہیں سکتا۔ اس لئے میں یہ درخواست کرتا ہوں آپ سے کہ میرا احتساب شروع کریں اور وہ تمام کالی بھیڑیں جو ہماری صفوں کے اندر ہیں، میں یہ نہیں کہتا کہ جرنیل نہیں، بلکہ جرنیلوں نے بھی لمبے لمبے ہاتھ مارے ہیں، چاہے وہ ہماری تنظیم کا ممبر ہی کیوں نہ ہو اور کئی ایسے ہیں جو ہمارے ممبرز ہیں، ان کو بھی بے شک پکڑیں۔ اس پر ہمارا کوئی اعتراض نہیں آئے گا اور ہم عنقریب ایک قراداد بھی بھیجیں گے جس میں ہم کہیں گے کہ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا کہ اگر ہمارے کسی بھی تنظیمی ممبر پر ہاتھ ڈالا جاتا ہے اور یہ پوچھا جائے جیسا کہ حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا تھا کہ’’ اے عمرؓ، آپ کو یہ اتنی چادرکہاں سے ملی کہ تمہاری قمیص بن جائے، تم لمبے آدمی ہو اور بیت المال سے تو ایک چادر ملی تھی۔‘‘ آپ سب سے پوچھیں۔ حمید گل سے پوچھیں اور آپ کسی ایکس، وائی، زیڈ جرنیل سے پوچھیں کہ یہ تمہار گھر، یہ تمہارے اللے تللے، یہ تمہار ازندگی گزارنے کا انداز، کہاں سے آیا اور اگر وہ اسے ثابت نہیں کرسکتا، تو بحق سرکار ضبط کریں اور اسے پھانسی چڑھائیں اور جو سزا دینا چاہیں دیں۔ آپ کا خزانہ بھر جائے گا۔ خدا کی قسم اس حکومت کو اور کسی سے لینے کی ضرورت نہیں ہوگی ۔ آپ کے لئے راستے بہت آسان ہیں، بشرطیکہ کہ آج ہم یہ فیصلہ کردیں کہ من حیث القوم ہم ساتھ دیں اس ادارے کا جو اگر یہ کام کرنے نکلا ہے، ان کو حوصلہ دیں اور ان کو کہہ دیں کہ کر گزرو جو بھی اب کرنا ہے، کیونکہ یہ آخری لمحہ ہے اس کے بعد یہ لمحہ غالباً ہمیں میسر نہ آئے گا۔‘‘ یہ الفاظ اس نے موت سے چند دن پہلے کہے تھے، جب وہ صحیح سلامت اور تندرست تھے۔ تندرستی و صحت ایسی کہ جوانوں کو رشک آئے اور تجربہ ایسا کہ بزرگ مرید بنے۔ یہ الفاظ ہیں اس بہادر جرنیل کے کہ جو اَب ہم میں نہیں رہا، جس نے اپنے کیریئر کے دوران میں ہر پروموشن پہلے لی اور درکار کورس بعد میں کیا، جو پہلی بار بطور کیپٹن انٹیلی جنس سروس میں آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس مقام پر جا پہنچا کہ خود میجر تھا لیکن اس کی تخلیق کردہ انٹیلی جنس حکمت عملی اسکول آف ملٹری انٹیلی جنس میں کرنل رینک کے آفیسرز کو پڑھائی جارہی تھی، جس نے بطور بریگیڈئر برطانیہ کے ’’رائل وار کالج‘‘ کا کورس یہ کہہ کر مسترد کیا: ’’انگریز کون ہوتا ہے مجھے جنگ سکھانے والا، ملک کا دفاع اپنی مٹی کے فہم سے آتا ہے اور یہ فہم میرے پاس ہے۔‘‘ جس نے بطور ڈی جی ایم آئی جنرل ضیاء الحق سے کہا”You are the man of status quo” جس کی کمان میں ملتان سے پاکستان کے آرمڈ ڈویژن نے کشمیر کی جانب پیش قدمی شروع کی، تو بھارت کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی فوجی مشق ’’براس ٹیک‘‘ منسوخ کرنی پڑی، جس نے فوجی سروس کے دوران میں کبھی گاڈز نہیں رکھے، جس سے جنرل ضیاء الحق نے کہا:’’سنا ہے تم نے وزیراعظم محمد خان جونیجو کو ان کی برطرفی کے منصوبے سے پیشگی آگاہ کردیا تھا؟‘‘ تو جواب دیا: ’’جی ہاں، کیونکہ بطور ڈی جی آئی ایس آئی یہ میری ذمہ داری تھی۔‘‘ جو بطور کور کمانڈر پہلی بار راولپنڈی آیا اور ٹین کور کی سیکورٹی ٹیم نے ایئر پورٹ پر حصار میں لیا، تو اس ٹیم کو یہ کہہ کر چلتا کردیا: ’’تمہیں تمہاری ماوؤں نے وطن کے دفاع کے لئے جنا ہے، حمید گل کے دفاع کے لئے نہیں۔‘‘ جو صرف مسجد کی صف میں محمود وایاز کے یکجا ہونے کا قائل نہ تھا بلکہ کورکمانڈر کی حیثیت میں دسترخوان پر بھی محمو د وایاز کو یکجا کردیا کرتا تھا، جس نے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا چارج یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا: ’’میں فوج میں ٹینک بنانے کے لئے نہیں چلانے کے لئے آیا ہوں۔ میں کسی فیکٹری کا منیجر نہیں، فوجی ہوں۔‘‘ اور نتیجتاً صدر غلام اسحاق خان کے سمجھانے کے باوجود وقت سے قبل ریٹائرمنٹ قبول کرلی، جو آرمڈ سروسز سے تو ریٹائر ہوا لیکن ’’سروسز‘‘ مرتے دم تک انجام دیتا رہا، جو میدان جنگ میں صف دشمناں کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد خطرناک ثابت ہوا، جس نے ڈی جی آئی ایس آئی ہوتے ہوئے اپنی بیٹی کے قاتل شوہر کو معاف کردیا، جو پاکستان آرمی کی تاریخ کے سب سے طاقتور جرنیل کی حیثیت سے مدتوں یاد رکھا جائے گا، ہاں! وہی ’’حمید گل‘‘ جو اَب ہم میں نہیں رہا، جو کہا کرتا تھا کہ ’’مجاہد کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوا کرتے‘‘ وہ جرنیل اب کوچ کرگیا۔ جن لوگوں کے لئے پاکستانیت ایک مسلک کا درجہ رکھتی ہے، ان کے لئے حمید گل صاحب ایک امام کا درجہ رکھتے ہیں۔ حمید گل پاکستان میں بستے تھے اور پاکستان حمید گل میں بستا تھا۔ آخر کو وہ ایک فوجی تھے۔ عسکریت ان کے خون میں دوڑتی تھی۔ وہ عسکریت کی رگوں میں دوڑتے تھے۔ شجرہ یہ کہتا ہے کہ وہ یوسف زئی پٹھان تھے۔ شاہ اسماعیل شہیدؒ کا قافلہ سوات سے گزرا، تو حمید گل کے پڑدادا اس کی پہلی صف میں جا کھڑے ہوئے۔ شاہ صاحب شہید ہوئے۔ تحریک کے تارپود بکھرے، تو لاہور سدھار گئے۔ خلجی خاندان نے پناہ دی۔ دادا باقاعدہ فوج میں شامل ہوگئے۔ والد تحریک خلافت کے سرگرم رکن ہوئے۔ پیشروؤں کی راہ پہ چلتے ہوئے حمید گل پاک آرمی میں شامل ہوئے۔ کہتے ہیں کہ سالار جب حمید گل کی ذہنی استعداد کو ان کی عمر سے میچ کرتے، تو رشک کرتے۔ وہ لوگ واقعی قابل رشک ہوتے ہیں جو اپنے اعتماد پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے خود کو چیلنج کے حوالے کردیتے ہیں۔ افغان جہاد کے لئے حمید گل کو چنا نہیں گیا تھا۔ انہوں نے نگاہ انتخاب پہ خود اپنی پلکوں سے دستک دی تھی۔ قسمت کی دیوی نے انہیں مشکیں کسنے کو کہہ دیا۔ اگلے لمحے کوہ و دمن کی چٹانوں پہ انہوں بسیرا کیا۔ بجلی کی طرح نظر کوہ و بیاباں پہ رکھی۔ جنگی حکمت عملیاں اور خفیہ چال بازیوں کی الٹ پھیر اپنی جگہ، مگر علاقائی صورت حال کو مسلسل اپنے حق میں رکھ کر انہوں عالمی فوجی دماغ کو بھی متاثر کیا۔ افغان قومی قیادت کو مسلسل ایک سمت میں رکھنا، بلاشبہ جنرل حمید گل کا بڑا کارنامہ تھا۔ وہ معرکہ جو جنرل حمید گل کو سونپا گیا تھا، وہ اس میں سرخرو ٹھہرے۔ اپنے وقت کی سپرپاور کو اپنی قیادت میں جس جنگجو نے دریا آمو کے اس پار دھکیلا ہو، اس کے لئے اس سے بڑی کامیابی کیا ہوسکتی ہے؟ ریٹائرڈ ہوئے مگر ’’ٹائرڈ‘‘ کبھی نہیں ہوئے۔ وہ اسلام آباد کلب اور لاہور کے رائل پام گالف کلب کی شاموں میں غرق ہونے کے بجائے اپنے مشن کے ہی اسیر رہے۔ جنرل حمید گل کے نوے فی صد امور سربستہ راز ہیں جن کی حساسیت کے سبب انہیں عیاں نہیں کیا جاسکتا۔ آپ میں سے کس کو معلوم تھا کہ یونیورسٹی میں کالج بیگ کے ساتھ گھومتا ہوا وہ خوبصورت نوجوان، جو پوری انہماک سے اپنی کلاسز اٹینڈ کررہاتھا اور جو گراؤنڈ میں کھیلنے کے بجائے کتاب پڑھا کرتا تھا۔ سیاہ رنگ کا چشمہ پہن کر آس پاس پر نظر رکھا کرتا تھا۔ وہ خوبصورت نوجوان جو اصل میں اس ملک کی نگہبان آنکھوں میں سے ایک تھا۔ وہ اگر پچھلے ہفتے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید نہ ہوتا اور اس کو اگر چودہ اگست کو تمغۂ جرات نہ ملتا، تو آپ کو کیسے پتا چلتا کہ ان کانام سجاد کامران تھا جو آئی ایس آئی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھا۔ ٹھیک اسی طرح آپ کو جنرل حمید گل کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ مجھے بھی آپ کے دکھ کا احساس ہے کہ آپ کو روسی لڑکیوں کے پہلومیں نہانے کاقرار واقعی موقعہ ان نگہبان ہاتھوں کی وجہ سے دستیاب نہ ہوسکا، لہٰذا آپ اپنی اندر کی غلاظت کو قومی ہیرو پر نکال رہے ہیں۔ حمیدگل کے بہانے سے جس طرح آپ ملکی افواج اور قومی وقار کو داغدار بنانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ یقیناًقابل مواخذہ ہے اور حیا کا متقاضی بھی۔ آپ کے سروپا تنقیدی کالم اور سوشل میڈیائی حملوں پر ہر بندہ یہی کہہ سکتا ہے کہ آپ لوگوں کی بھی تھوڑی سی گریس ہونی چاہئے۔ تھوڑے سے اقدار ہونے چاہئیں، تھوڑی سی شرم ہونی چاہئے۔ تھوڑی سے حیاء ہونی چاہئے۔ (نوٹ: کالم مرتب کرنے کے لئے اساتذۂ کرام جناب رعایت اللہ فاروقی اور فرنود عالم کے برقی کالموں سے خوب استفادہ کیا گیا ہے۔)
863 total views, no views today


