مینگورہ،برہ بانڈئی کے علاقہ سنڈھیرئی کے رہائشی شیرعالم خان نے کہاہے کہ ان کے پڑوس میں موجودمخالف فریق کے شاہ ذواللہ نامی شخص نے ہمارے خلاف جھوٹی اوربے بنیاد ایف آئی آر درج کرائی جس کے بعدمیرے بھائی ،بیٹے اوربھتیجے سمیت چھ افرادکوجیل بھیج دیا گیا جس میں میرے ایک زخمی نواسے سمیت دونواسے نابالغ بھی ہیں،سوات پریس کلب میں دیگررشتہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مخالف فریق بلاوجہ ہمارے پیچھے پڑاہوا کئی بار ہمارے نواسوں اوربیٹوں پرچاقو اورپستول سے حملے کئے جس میں ایک عام بچے سمیت میرانواسہ بھی زخمی ہواہے تاہم علاقے میں جرگوں کے ذریعے کئی مرتبہ صلح اور راضی نامے بھی ہوئے مگراس کے باوجود بھی مخالف ہمیں چین سے نہیں بیٹھنے دیتا،انہوں نے کہاکہ دوتین ہفتے قبل مخالفین نے ایک بارپھر میرے نواسوں پر فائرنگ کی جس میں میرانواسہ اکرام زخمی ہوامگر کانجوپولیس ہماری فریادسننے کو تیار نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخالفین سے ملی ہوئی ہے تاہم پاک فوج کے جوانوں نے مخالف کوگرفتار کرکے پولیس کے حوالے کردیاجس کے بعداسے جیل بھیج دیا گیا اس وقت ہمارے چھ لوگ پیرمحمدخان،دوست محمدخان،شیرعالم خان،شیرافضل خان،عمرعلی اوراکرام شامل ہیں جیل میں ہیں جن کے خلاف جھوٹی اوربے بنیاد ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے ،انہوں نے کہاکہ ہم غریب اورمخالف فریق بااثر ہیں لہٰذا حکومت اوردیگر اعلیٰ وذمہ دارحکام ہمارے اس مسئلے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے ہمیں انصاف فراہم کریں،اس موقع پر عبدالرحیم،رحیم خان،امجدعلی،اکبرعلی اور ان کے دیگررشتہ داربھی موجود تھے۔ علاقہ کانجو کے رہائشی عقیل روان،اعظم خان ،وزیر،ڈاکٹر اعظیم خان دلیل خان اوراصغر خان نے کہاہے کہ ان کے مخالف فریق شیرعالم خان نے میرے بھانجے شاہ ذواللہ پرحملوں کے جھوٹے الزمات لگاکر ان کیخلاف جھوٹی ایف آئی آر کٹوائی جو کہ گذشتہ تیئس دنوں سے جیل میں ہے،مخالف فریق کیساتھ کئی بارصلح اور راضی نامے کی کوشش کی گئی مگر وہ آمادہ نہیں ہورہا،ظلم بھی ہمارے ساتھ ہوا اور بندہ بھی ہمارا جیل میں پڑا ہے،سوات پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کچھ عرصہ بیشتر شاہ ذواللہ گھر کے قریب کوارٹرتعمیر کررہاتھا کہ مخالف فریق نے آکر اس سے سامان چھین لیا تاہم شاہ ذواللہ خاموشی سے گھر چلا گیا جس کے بعد مخالف مختلف حیلوں بہانوں سے انہیں تنگ کرتے رہیں جبکہ کئی بار حملے بھی کئے ،انہوں نے کہاکہ شاہ ذواللہ گھر کے علاوہ گھر میں کوئی مردموجود نہیں اور وہ بھی جیل میں ہے ،ہم نے مخالفین کیخلاف بارہ اگست کو کانجو پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کراناچاہی تو وہاں پر رپورٹ درج کرانے سے معذرت کی گئی جس کے بعدڈی پی او کو انکوائری کیلئے درخواست دی گئی جس پر کارروائی کرتے ہوئے مجسٹریٹ کے سامنے گواہوں کے بیانات کے بعد مخالف فریق کے رشتہ داروں کو جیل بھیجوا دیا گیا جس پراب مخالفین کبھی پولیس پر رشوت اور سفارش کا الزام لگانے لگے اورکبھی خودکو غریب اورہمیں بااثرظاہرکرکے ہمدریاں حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ پولیس اس کیس میں بالکل غیر جانبدارہے اورہم چاہتے ہیں کہ جو بھی قصوروارہواسے ضرور سزاملے۔
550 total views, no views today


