بریکوٹ ، اگر ایم این اے اور ایم پی ائے بجلی بحران کے ذمہ دار نہیں تو پھر کون ذمہ دار ہوگا ‘ اپنے اپ کو چیئرمین کہنے والے شخص کو اگر سہ فریقی اتحاد کی جیت پر یقین نہیں تو میں چیلنج دیتا ہوں کہ وہ ائے اور بریکوٹ کے مین چوک میں دوبارہ الیکشن کرتے ہیں ‘دوسری بار جیت کر دکھا ؤں گا ‘ اپنے اپ چیئرمین کہنے والے اب کونسا ڈرامہ راچا رہے ہوں ‘ کل تک پی پی پی کے بغل میں بیٹھے تھے آج پی ٹی ائی اور کل کا پتہ نہیں کہ کونسے پارٹی میں جاؤں گے ‘ ان خیالات کا اظہا ر ویلج کونسل شرقی کے چیئرمین ظفر علی خان نے اخباری نمائندوں سے با ت چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ اپنے اپ کو چیئرمین کہنے والے شخص نے بعض اخبارات میں بیان دیا ہے کہ ظفر علی کو سہ فریقی اتحا د نے دھوکے سے جیتوایا ‘ میں آج یہ چیلنج دیتا ہوں کہ ائیں اور بریکوٹ کے مین چوک میں دوبارہ الیکشن کرتے ہیں ‘ پھر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائیگا ‘ اپنے اپ کو چیئرمین کہنے والے شخص سن لیں کہ ہم وہ لوگ نہیں کہ پیسوں اور دیگر مراعات سے بھیک جائے ‘ پیسے کے بل بوتے پر غرور کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے یہ شخص کہتے ہیں کہ ایم این اے اور ایم پی ائے نے ترقیاتی کام کیا ‘ یہ قوم کا حق ہے نہ ایم این اے اور نہ ایم پی ائے نے اپنے جائیداد اور نہ گھر کو بھیج کر یہ کا م کئے ہیں یہ اس قوم کا حق ہے ‘ قوم نے ایم این اے اور ایم پی ائے پر اعتماد کیا ہے اور اُسے اسلمبیوں میں بھیجے ہیں تا کہ قو م کو درپیش مسائل حل کریں ‘ اسلئے ایم این اے اور ایم پی ائے کا یہ حق بھی بنتا ہے کہ متعلقہ اداروں کے ذریعے بجلی بحران پر قابو پاسکیں ‘ علاقے میں بجلی بحران کے ذمہ دار ایم این اے اور ایم پی ائے ہوتے ہیں ‘ بعض لوٹے اتنے گِر جاتے ہیں کہ پالش لگانے میں حد سے تجاوز کرجاتے ہیں ‘ ہمارے حلقے کے ایم پی ائے اور ایم این اے کو ہم نے اسلئے اسمبلیوں میں بھیجے ہیں کہ وہ ہمارے مسائل حل کریں ‘ لیکن یہ بغیر چیئرمین بنے ہوئے اپنے اپ کو چیئرمین کہنے والے اس پر بھی ناراض ہوتے ہیں ‘ کہ ہم اپنے ممبران اسمبلی سے اپنے مسائل کے حل کے بات بھی نہ کریں ‘ میں سہ فریقی اتحاد میں شامل یعنی عوامی نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کا بے حد مشکور ہوں کہ ان کے محنت اور اعتماد سے میں ویلج کونسل شرقی کا چیئرمین منتخب ہوا ہو۔
760 total views, no views today


