گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب ضلع سوات کا شمار پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے عظیم درسگاہوں میں سے اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔یہ عظیم درسگاہ سوات کے سابق حکمران میاں گل عبدالحق جہانزیب (والی صاحب)نے 1952میں تعمیر کرکے ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں کو ایک منفرد تحفہ عطا کیا جو کہ اب پورا صوبہ خیبر پختونخوا کے درسگاہوں میں ایک عظیم مرتبہ رکھتا ہے اور وطن عزیز پاکستان کے کونے کونے میں طلباء جہانزیب کالج کا نام ایک اچھے طرز پر پکارتے ہیں ۔آج کل جہانزیب کالج میں ہزاروں کے تعداد میں طلبہ وطا لبات اپنے مستقبل کو سنوارنے کیلئے اس عظیم درسگاہ میں پڑھ رہے ہیں اور ایک اعلی معیار کے تعلیم حاصل کر نے میں مگن رہتے ہیں جن میں بہت سارے طلبہ وطالبات اگے بڑھ کر قومی وبین الاقوامی سطح پر ایک خاص مقام پر پہنچ چکے ہیں اور اس کے بدولت وہ طلباء جہانزیب کالج کو ایک اچھے اور قابل فخر انداز سے یاد کررہے ہیں ۔اور آج کل یہ کالج یونیورسٹی لیول کے سطح پر علاقے کے طلباء کو تعلیم فراہم کررہے ہیں اور انٹر ،بیچلر ماسٹر پروگراموں کے علاوہ بی ایس چار سالہ پروگرام (BS hons)کا آغاز بھی گزشتہ کئی سالوں سے کیا ہے جس میں طلبہ وطالبات باہر جانے اور مہنگے تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اپنے ہی علاقے میں رہ کر ڈگری کے مختلف پروگرامات میں سستا اور اعلیٰ معیار کے تعلیم حاصل کررہے ہیں جوکہ لاچار اور غریب طلباء کیلئے انتہائی مفید ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں یونیورسٹی میں لوگ زیادہ فیس دے رہے ہیں جو کہ جہانزیب کالج کے طلبہ وطالبات کیلئے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے کیونکہ جہانزیب کالج کے اساتذہ بھی اپنا ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔
قارئین کرام !گزشتہ روز دیکھا کہ سوات کے عظیم درسگاہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج کے طلباء اپنے مطالبات کیلئے کالج سے سوات پریس کلب تک نکل آئے اور اپنے مطالبات کیلئے آواز بلند کیا اور سینکڑوں کے طلباء کے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز جس پر مختلف مطالبات نظر آرہے تھے او ر اپنے حقوق کیلئے طلباء نے اپنے احتجاج کو پیس واک (peace walk)کا نام دیا ۔پتہ نہیں کہ یہ نام احتجاج اور سٹرائک کے بجائے کیوں دیا گیا یہ ایک الگ ایشو ہے لیکن ایک انتہائی دلچسپی اور انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور جہانزیب کالج کے قابل فخر طلباء نے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلاکسی تفریق ،بلا کسی پارٹی بازی اور بلا کسی سیاسی بچوں کا نام استعمال کرنے کے بجائے پیس واک کا نام دیا ۔اور یہ جہانزیب کالج کے طلباء کے نونہالوں یلئے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے کہ اب وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے متحد ہوگئے ہیں اور یہ بھی ایک مسرت کے بات ہے کہ روز بروز جہانزیب کالج کا معیار تعلیم بہتر ہوتا جارہا ہے اور سیاسی بچوں کے سیاسی سرگرمیوں میں کافی حد تک کمی نظر آرہے ہیں۔ان باتوں پر جہانزیب کالج کے انتظامیہ پرنسپل،اساتذہ ،طلباء اور دیگر عملہ داد دینے کے قابل ہے کیونکہ سیاسی بچوں کے سرگرمیاں نہ ہونے سے طلباء دیگر سرگرمیوں کے بجائے اپنا توجہ تعلیم حاصل کرنے پر مرکوز کررہے ہیں اور یہ طلباء کیلئے فائدہ مند ثابت ہورہے ہیں ۔
قارئین کرام !گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج کے طلباء نے مختلف مطالبات کی بناء پر اپنا پیس واک کیا جس میں کالج کے ائی ٹی بلاک اور گرلز ہاسٹل کو خالی نہ کرانے اور لیب ٹاپ سکیم میں جہانزیب کالج کو نظر انداز کرنا شامل تھا لیکن میں کچھ وضاحت سے قلم بیان کرنا چاہتا ہوں کہ کالج ہذا میں بی ایس چار سالہ پروگرام کے طلبہ وطالبات کو بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے اور یہ خود میں نے تین ماہ کے قلیل دورانیہ میں محسوس کیا ہے اس وقت میں خود تین ماہ کیلئے جہانزیب کالج اور ان کے اساتذہ کے طالبعلم رہا مجھے فخر ہے جہانزیب کالج ،ان کے قابل احترام محترم اساتذہ کرام اور ان کے طلباء پر کہ اس طلباء کو ایسے اساتذہ مل چکے ہیں کہ اساتذہ اپنے طالب علموں کے ساتھ نہایت پیار وخلوص کے ساتھ محنت کررہے ہیں ۔لیکن یہاں پر ایک بات میں اپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ یونیورسٹی لیول پر استاد محترم کو دن میں ایک کلاس لینا پڑتا ہے ،لیکن جہانزیب کالج میں بی ایس چار سالہ پروگرام کے کلاسز بعد از دوپہر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ او ر طلباء دونوں کو سخت مشکلات سامنے ارہے ہیں اور اگر ایک استاد صبح کے وقت میں اپنا کلاسز لے لیں اور پھر بعد از دوپہر دوبارہ کلاسز لے رہے ہیں تو کیا خاک یہ بچوں کو صحیح طریقے سے پڑھائے ۔کیا یہ اساتذہ انسان نہیں ہے ؟اور عجیب بات یہ بھی ہے ان تھکے ہوئے اساتذہ کو پھر سیکنڈ شپ کے بی ایس کلاسوں کے تنخواہوں میں حکومت ٹال مٹول کررہے ہیں ۔کیا یہ ایک استاد کے ساتھ ظلم نہیں ہےَ ؟؟؟اور اس بات کا سیدھا اثر پڑھنے والے طلبہ وطالبات پر بھی ہورہے ہیں کہ ملاکنڈ ڈویژن کے سینکڑوں طلبہ وطالبات جہانزیب کالج میں سیکنڈ شپ میں پڑھتے ہیں اور یہ بچے بعد از دوپہر اپنے کلاسز لیتے ہیں اور کافی سارے طالبعلموں کو بہت سے مشکلات درپیش آتے ہیں ۔جس کی وجہ سے طلباء کا بعد از دوپہر کلاسوں میں دلچسپی بھی نہیں رہتے ۔
قارئین کرام ! آج کل جہانزیب کالج کے طلباء ایک عجیب سے کشمکش میں مبتلا ہے کیونکہ ان کوبہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ان میں بہت سارے باتیں ہے جو میں یہاں پر بیان کرنا چاہتا ہوں جس میں ایک یہ کہ جہانزیب کالج پندرہ سو طلباء کیلئے تعمیر کیا گیا ہے لیکن اب اس میں ہزاروں کے تعدا د میں طلباء پڑح رہے ہیں ،کالج کے لائبریری میں کتابوں کا مسئلہ ہے اور طلباء کیلئے کتابیں بہت کم ہے ،طلبہ کے ہاسٹل کا بھی بہت سنگین مسئلہ ہے ،لیب میں سامان نہیں ہے اور طلبہ ایکسپریمنٹ اور ریسچ کیلئے دوسرے یونیوسٹیوں میں جانے پر مجبور ہے ،اساتذہ کے بھی کمی ہے ،ٹرانسپورٹ کا بھی مسئلہ ہے ،ایڈمینسٹریشن بلاک میں کرپٹ لوگ موجود ہے اور وہ ڈیوٹی کرنے کے بجائے بی ایس کے طلباء کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش آتے ہیں ۔اور سب سے بڑا مسئلہ کے جہانزیب کالج کے طلباء کو لیپ ٹاپ سکیم میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے ۔
جہانزیب کالج کے طلباء بھی ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کے تحت تعلیم حاصل کررہے ہیں لیکن اس کے ساتھ یہ ناروا سلوک اخر کیوں ہورہا ہے ؟جہانزیب کالج کے قابل فخر اور نڈر طلباء نے اپنے مطالبات کیلئے واک /احتجاج کا انعقاد کیا ۔ابھی متعلقہ حکام ہائیر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان ،ممبران اسمبلی اور دیگر حکام کو چاہئے کہ وہ جہانزیب کالج کے طلبہ و طالبات کے مسائل کو بھرپور طریقے سے حل کرنے میں اپنے کردار ادا کریں اور جہانزیب کالج کے طلباء کو دوسرے طالبعلموں کے برابر حقو ق فراہم کریں۔
634 total views, no views today


