مینگورہ،کرم ایجنسی کے رہائشی اکبرگل حال لیبرکالونی پانڑ مینگورہ نے کہاہے کہ ایک سال قبل میری پندرہ سالہ بیٹی کو اس کے ماموں ابراہیم ،سیدکریم اورسیدرحیم نے اغواء کرکے دیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ہاتھ فروخت کردیا ہم نے تھانہ کوکارئی میں رپورٹ درج کرائی پولیس نے دوملزموں کو گرفتار کرلیا جو ایک ہفتہ بعدرہا ہوگئے جبکہ بعض ملزموں نے ضمانت قبل ازگرفتاری کرائی اوراس وقت تمام ملزمان کھلے عام پھررہے ہیں مگر ایک سال گزرنے کے باوجود بھی میری بیٹی کاکوئی پتہ نہ چل سکاجس کی تلاش میں ہم دردرکی ٹھوکریں کھارہے ہیں،سوات پریس کلب میں بیوی بچوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میری پندرہ سالہ بیٹی زینب کی منگنی ہوئی تھی جسے ان کے تین ماموؤں نے گھر سے اٹھاکر اغواکرکے فروخت کردیا ہم نے اغوا کی رپورٹ درج کرائی مگر بعدپولیس نے لڑکی کی اپنی مرضی سے جانے کی رپورٹ درج کی جبکہ گرفتار ملزمان رہا ہوگئے جبکہ بعض نے بی بی اے کرائی جو اس وقت آزا دگھوم پھررہے ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم بیٹی کی تلاش میں سرگرداں ہیں ملزما ن بااثراورہم غریب وبے بس ہیں جس کے سبب شدید پریشانی میں مبتلا ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم نے اعلیٰ حکام کو درخواستیں بھی دیں مگر بیٹی کا کوئی پتہ نہیں چلا گھر میں غموں اورپریشانیوں نے ڈھیرے جمالئے ہیں جس کی وجہ سے گھر کا سکون اورسکھ چین بربادہوا ،انہوں نے مرکزی وصوبائی حکومت سمیت پولیس حکام اوردیگر ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ زینب کی بازیابی میں کرداراداکرکے ملزموں کو سخت سے سخت سزادلائیں اور ہمیں انصاف فراہم کریں۔
688 total views, no views today


