بریکوٹ ، بریکوٹ انتظامیہ کے زیر اہتمام کھلی کچہر ی کا انعقاد کیا گیا جس میں علاقے کے معززین ،نومنتخب بلدیاتی نمائندے،سرکاری محکموں آفسروں کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔کھلی کچہری میں علاقے کے مسائل بیان کئے جن میں گرڈ اسٹیشن کی جاری کام پر عدم اعتماد ،سوئی گیس کی فراہمی میں تاخیر ،بریکوٹ بازارکے ،تعلیم ،صحت اور دیگر بنیادی مسائل شامل تھے اور موجودہ ایم پی ایز،ایم این ایزکو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔تفصیلات کے مطابق کمشنر ملاکنڈ کے خصوصی ہدایات پر بریکوٹ سب ڈویژن آفس میں اسسٹنٹ کمشنر محمد عمیر نے کھلی کچہری کا انعقاد کیا ۔اس کھلی کچہری میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد فہیم خان ،ٹی ایم او بریکوٹ فضل ربی خان تحصیل ناظم گوہر ایوب ،نائب ناظم ڈاکٹر عزت الرحمان ،ایس ایچ او بشیر خان ،تحصیل کونسلر فضل اکبر خان ،قومی جرگے کے صدر صدیق علی خان ،بریکوٹ بازار صدر معراج الدین ،ویلیج کونسل نجیگرام کے ناظم فضل ودود باچا،بریکوٹ غربی کے ناظم عماد خان ،فضل معبود خان،ویلیج کونسل کوٹہ شرقی کے جنرل کونسلر امجدعلی خان،پاکستا ن مسلم لیگ(ن) تحصیل بریکوٹ صدر عزیز اللہ خان بدا،عزیز احمد،کے علاوہ دیگر سیاسی وسماجی حلقوں کے علاوہ وفاقی و صوبائی سرکاری محکمو ں کے سربراہان موجود تھے ۔کھلی کچہری میں سب سے بڑا مسلہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر میں سست روی پر شد ید تنقید کیا گیا اور کہاکہ فوری طور پر بریکوٹ گرڈ اسٹیشن پر کام تیز کیاجائے ۔علاقہ اباخیل موسیٰ خیل میں سوئی گیس کے پائپ لانز بچھائے گئے ہیں مگر ابھی تک علاقے کو سوئی گیس کی فراہمی نہ ہوسکی ۔حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے بریکوٹ کے لنک روڈز اور راستے دریا برد ہوچکے ہیں جو کہ اب بھی وہی کی وہی پڑے ہیں اس کی مرمت پر حکومت کی طرف سے کوئی دھیان نہیں ۔محکمہ پبلک ہیلتھ پر مختلف علاقوں کے معززین نے الزام لگاتے ہوئے کہاکہ بریکوٹ فضل اباد او ر کوٹہ میں کئی سال پہلے ٹیوب ویلز تعمیر ہوچکے ہیں مگر ابھی تک اسے چالونہ کیاسکا جس کی وجہ سے علاقے میں پانی کی شدید قلت ہے ۔بریکوٹ میں 74لاکھ روپے کی لاگت سے صاف پانی توسیع منصوبہ پرانے پائپوں کو ہٹا کر نئے پائپس لگائے گئے تھے وہ دو سال بعد بھی بے کار پڑے ہیں ۔گورنمنٹ ہائی سکول ابوہا کے اب گریڈیشن کے دوسال مکمل ہونے کے باوجود بھی پائیر سکنڈری کلاسز شروع نہ ہوسکے ۔نجیگرام روڈ پر تارکول کا نام ونشان نہیں ریاست کے دور میں آخری با ر تعمیر ہوا تھا۔گورنمنٹ مڈ ل سکو ل کی بلڈنگ وسیع ہونے کے باوجود ہائی سکول کا درجہ نہیں ملا ۔آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہائی سکول کا درجہ دیا جائے ۔گورتئی میں مین شاہراہ پر بند کلوٹ کو فوری طور پر تعمیر کیا جائے ۔پیر بابا روڈ فضل آباد ی کالونی میں متعد د سکولز ہونے کی بدولت مین شاہراہ پر بریکرز بنائیں جائیں اب تک اس روڈ پر معقد د بار حادثات رونما ہو چکے ہیں ۔ڈومسائل کیلئے شرط فارم ب کو فوری طور پر ختم کیا جائے کیونکہ اس کی وجہ سے طلباء و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا پڑتاہے ۔بریکو ٹ بازار میں امن وامان کے لئے کیمرے نصب کیا جائے او ر تجاوازت ہٹانے کے بعد نکاس اب کے نالے پر بندکام دوبارہ چالو کیا جائے کیونکہ اس نالے کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات ہیں ۔بریکوٹ ہسپتال کے سامنے فلٹر پلانٹ جس پر 48لاکھ روپے لاگت آئی تھی بند ہونے کی وجہ سے عوام صاف پانی سے محروم ہیں اس پلانٹ پر تین نوکر بھی ہیں مگر پلانٹ بے کار پڑا ہے ۔ علاقے کے مسائل کے بیان ہونے کے بعد محکمو ں کے سربراہان نے مسائل کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہ سرکاری محکموں کے سربراہان عوام کی خدمت کے لئے ہیں اور انشاء اللہ خدمت کریں گے ۔اب جو مسائل بیان کردئیے گئے ہیں ان کے حل کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں گے ۔بعد میں اسسٹنٹ کمشنر بریکوٹ نے کہاکہ کھلی کچہریوں کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس فورم پر علاقے کے مسائل سامنے آئیں اور اس کے حل کے لئے مشترکہ کوششں بروکار لائیں ۔
534 total views, no views today


