اگر مغربی اقوام میں چارلی چپلن کو کامیڈی دنیا کا بے تاج بادشاہ مانا جاتا ہے، تو میں ریاستی دور کے شریف گل العروف ’’شرپ گل‘‘ کو سوات اور پشتون علاقوں کی کامیڈی کا بے تاج بادشاہ مانتا ہوں۔ اس کے کامیڈی گروپ میں عمر واحد المعروف ’’پتلی‘‘ ایک مشہور کردار تھا۔ میں عمر واحد سے غالباً دس بارہ سال پہلے ملا تھا، سمبٹ گاؤں (بر سوات) میں۔ اس وقت وہ ’’کلی وال‘‘ کے نام سے مشہور تھا اور اس کی صحت جواب دے چکی تھی۔ اس کی مالی حالت بھی ابتر تھی کہ مملکت خداداد میں ہر فن کار کا آخری وقت تنگ دستی میں ہی گزرا کرتا ہے۔ میرا آج کا مضمون اس کی زندگی کے چھپے گوشوں کے متعلق ہے۔ عمر محمد، منڈا کے ہاتھوں پتلی بنا تھا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ ایک دن شرپ گل کو کسی نے شادی کی خوشی میں دارمئی گاؤں (بر سوات) مدعو کیا تھا۔ شادی کی تقریب میں منڈا نے ہی شرپ گل سے باتوں باتوں میں عمر محمد کا ذکر کیا اور کہا کہ لالا، میں نے تمہارے لیے ایک ایسی نایاب شے چھپا کر رکھی ہے کہ زندگی بھر تم نے نہیں دیکھی ہوگی۔ شرپ گل نے آہ بھر کر کہا کہ پھر تو مجھے اپنی قسمت پر ناز ہونا چاہیے۔ منڈا نے جواباً کہا کہ ’’لالا دو سو روپیہ مجھے دے دو، پھر دیکھو کہ میں تمہیں کتنے قیمتی لعل سے نوازتا ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو جو چور کی سزا، وہی میری۔‘‘ شرپ گل نے پیشگی دو سو روپیہ منڈا کو تھما دیے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ وقت گزرتا گیا اور اسی اثنا میں دارمئی گاؤں کے باز ملک کے ہاں شادی کی تقریب منعقد ہوگئی۔ شرپ گل اپنے طائفے کے ہم راہ دارمئی روانہ ہوا اور کچھ دیر بعد باز ملک کے حجرے میں اپنے فن کاروں کے ساتھ براجمان ہوا۔ باز ملک کے حجرے میں منڈا نے عمر واحد (پتلی) کو اعتماد میں نہ لیتے ہوئے شرپ گل سے ملا دیا۔ شرپ گل پہلی ہی ملاقات میں سمجھ گیا کہ عمر واحد میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ عمر واحد کو اللہ تعالیٰ نے حسن بھی انتہائی زیادہ دیا تھا۔ جو بھی اسے دیکھتا بس دیکھتا ہی رہ جاتا۔ سو شرپ گل بھی اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا۔ منڈا نے جب یہ ماجرا دیکھا، تو جلدی سے اُس نے پتلی کا ہاتھ تھام لیا اور شرپ گل کے سامنے سے اسے ہٹا لیا۔
ساز اور آواز کی محفل جم جانے کے بعد دوپہر کا کھانا لگ گیا۔ نور شریف نے اپنے بیٹے عمر واحد (پتلی) سے ایک کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ فن کار اس کمرے میں ہیں۔ تم جاؤ اور اُن کے چائے پانی کا بندوبست کرآؤ۔ وہ کوزہ اور چلمچی ہاتھ میں اور تولیہ کندھے پر رکھ کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ تاکہ مہمان ہاتھ دھو کر کھانا کھا سکیں۔ جب شرپ گل نے اسے اس حالت میں دیکھا، تو اس سے رہا نہیں گیا اور اس کو کہا کہ جہاں ہو وہاں ہی کھڑے رہو۔ عمر واحد نے جواباً کہا کہ مجھے اپنا کام کرتے ہوئے اچھا لگتا ہے اور اس طرح وہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ یوں کھانا لگ گیا۔ باہر کام بہت زیادہ تھا لیکن شرپ گل نے پتلی کو باتوں میں لگا لیا۔ کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ پتلی کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ ٹیلنٹ دیا ہے اور ’’قدرِ زر، زرگر شناخت‘‘ کے مصداق شرپ گل اس ہیرے کو تراشنے کی فکر میں تھا۔ اتنے میں نور شریف نے پتلی کو باہر سے آواز دی کہ کام میرا ہاتھ بٹاؤ۔ بار بار آواز دینے کے بعد بھی پتلی جب باہر نہ آیا تو نور شریف خود فن کاروں کے کمرے میں چلا گیا۔ وہاں نور شریف معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔ ساز اور آواز کی محفل ختم ہونے کے بعد شرپ گل اور اس کا طائفہ رخصت ہوا۔ چند دنوں تک لوگ موسیقی کی محفل پر بحث و مباحثہ کرتے رہے اور پھر لوگ اپنے اپنے کاموں میں جت گئے۔
گاؤں میں پتلی اپنے اصل نام عمرواحد سے جانا جاتا تھا۔ جنگل میں بکریاں چراتے وقت منڈا ہوتا اور پتلی۔ ناچ گانا، موج مستی اور ہنسی مذاق ان کا روز کا معمول تھا۔ منڈا ایک تاجر کا بیٹا تھا اور پتلی گاؤں کے نائی کا بیٹا تھا۔ پتلی روز اپنی بکریاں چرانے جنگل لے جاتا تھا، جہاں ان دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔
دن گزرتے رہے۔ ہفتے مہینوں میں بدلنے رہے کہ ایک دن شرپ گل اپنے طائفے کے ساتھ لالکو کی جانب روانہ ہوا۔ لالکو کے میاں جی نے انھیں شادی پر محفل جانے کے لیے مدعو کیا تھا۔ شرپ گل کا راستہ دارمئی گاؤں سے گزرتا تھا۔ منڈا نے پتلی سے کہا کہ یہ لوگ مہمان ہیں، ان کے ہم راہ دو چار قدم لے لیتے ہیں۔ منڈا نے شرپ گل سے علیک سلیک کیا اور کہا کہ میں یہاں چائے کے لیے آپ کو روک لیتا، لیکن لالکو یہاں سے دور پڑتا ہے اور پھر آپ لوگوں کو دیر ہوجائے گی، اس لیے ہم کچھ فاصلے تک آپ کا ساتھ دے دیں گے۔ جب یہ دونوں اپنے گاؤں کی حدود سے باہر چلے گئے، تو منڈا نے شرپ گل سے کہا کہ اب آپ آگے کا سفر جاری رکھیں اور ہم اپنے گاؤں لوٹ جائیں گے۔ شرپ گل نے انھیں واپس جانے نہیں دیا اور بہ ضد ہوا کہ اگر آپ واپس جاتے ہیں، تو میں اور میرے ساتھی لالکو نہیں جائیں گے۔ منڈا نے پتلی سے کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں۔ اگر ہم انھیں منع کریں گے، تو یہ ناراض ہو جائیں گے۔ اس لیے مجبوراً ان کے ساتھ جانا ہی پڑے گا اور کل صبح سویرے ویسے بھی لالکو سے اپنے گھروں کو واپس آجائیں گے۔ پتلی نے گلو خلاصی کی خاطر لاکھ عذر پیش کیے، مگر کچھ پیش نہ گئی۔ تھوڑی دور چلتے ہی شرپ گل نے لڑکیوں کا لباس صندوق سے نکالا اور پتلی سے کہا کہ لو یہ پہن لو۔ پتلی سمجھ گیا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ اس نے مجبوراً لڑکیوں کے کپڑے پہن لیے اور زیر لب شرپ گل کو بے نقط سناتا رہا۔
آگے جاکر جو کچھ ہوا اسے بیان نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔
1,316 total views, no views today


