ایک بار پھر فضائے بسیط میں معلق زمینی گولے نے کروٹ لی اور چھبیس اکتوبر 2015ء کا دن اپنے دامن میں خوف اور دلوں کو جھنجھوڑ دینے والا سورج لے کر طلوع ہوا۔ دو بج کر نو منٹ پر اچانک زمین کے فرش کو قالین کی طرح خالق کائنات نے جیسے ایک سرے سے پکڑ کر ہلکی سی جنبش دی۔ زمین کے قالین پر موت اور تباہی کی لہریں زمین کی سطح پر موجود قدرتی اور غیر قدرتی ساختوں کو اپنے دامن میں ہلکورے دینے لگی اور آسمان کی وسعتوں سے ایک غیر محسوس سی غیبی آواز اُٹھتی چلی گئی کہ ’’اے غافل انسانو، میں موجود ہوں۔ مجھے مت بھولو۔ مجھے کبھی نیند نہیں آتی۔ اے میری اذان سن کر کان لپیٹنے والو، اے وہ نوجوانو، جو آج انٹرنیٹ کی دنیا اور فحاشی کے مناظر میں مد ہوش ہوچکے ہو۔ اے وہ سیاست دانو، جو عوام کی امانتوں کا پاس نہیں رکھتے۔ سن لو کہ میں کہیں نہیں گیا۔ دیکھ لو میری برپا ہونے والی قیامت کی ایک جھلک۔ دیکھ لو اُس بری قیامت کا ہلکا نمونہ۔‘‘ یہ بھی قارئین کرام اکتوبر ہی کا مہینہ تھا۔ بالکل 2005ء کے اکتوبر کی طرح اور ہمارے شاعر حضرات اکثر دسمبر کی خنکی اور سرد تنہائیوں کی وجہ سے اسے ستمگر مہینہ کہتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں تو یہ ’’خطاب‘‘ اکتوبر ہی کے حصے میں آیا ہے۔ اللہ کا قانون مکافات اُس وقت تک کسی قوم کی کامل تباہی کا فیصلہ نہیں کرتا جب تک اس میں کچھ قابل لحاظ بھلائی موجود ہے۔ برے لوگوں کی اکثریت کے مقابلے میں اگر ایک قلیل عنصر بھی ایسا پایا جاتا ہو جو بدی کو روکنے اور نیکی کے راستے کی طرف بلانے کے لیے کوشاں ہو، تو اللہ تعالیٰ اُسے کام کرنے کا موقع دیتا ہے اور اُس قوم کی مہلت میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔ جو ابھی خیر سے بالکل خالی نہیں ہوئی ہے۔ مگر جب حالت یہ ہوجائے کہ کسی قوم میں آٹے میں نمک کے برابر بھی خیر باقی نہ رہے، تو ایسی صورت میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ جو دو چار نیک انسان اس کی بستیوں میں برائی کے خلاف لڑتے لڑتے تھک کر عاجز آچکے ہوں۔ اُنہیں وہ اپنی قدرت سے کسی نہ کسی طرح بچا کر نکال دیتا ہے اور باقی لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو ہر ہوش مندمالک اپنے سڑے ہوئے پھلوں کے ساتھ کرتا ہے۔ شائد یہی وجہ تھی کہ آٹھ اعشاریہ ایک کی شدت کے تاریخی زلزلے میں جب عمارتیں ایسے جھول رہی تھیں جیسے ربڑ کی بنی ہوں، جب موت اور زندگی کے درمیان فرق نہ ہونے کے برابر رہ گیا تھا، جب تباہی و بربادی ایک قدم کے فاصلے پر تھی، اچانک زمین کا ہلنا تھم گیا۔ شائد وہ عظیم ہستی ہمیں ایک اور موقع اور مہلت دینا چاہتی ہے۔ شائد یہ دھرتی ابھی خیر سے خالی نہیں ہوئی۔ شائد ہم میں ابھی وہ لوگ موجود ہیں جو بدی کو روکنے اور نیکی کے راستے کی طرف بلانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سورۃ التغابن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن سے ہی آتی ہے۔‘‘ قارئین کرام! یہ بہر حال کسی نہ کسی مصلحت کی بنا پر ہوتا ہے جسے انسان نہ جانتا ہے نہ سمجھ سکتا ہے۔ جس طرح ایک پرندہ صرف اپنے گھونسلے کی تعمیر کی صلاحیت رکھنے کی وجہ سے اگر ایفل ٹاور اور برج الخلیفہ جیسی بلند عمارتوں کی تعمیر کوناممکن سمجھے، تو یہ اُس کی محدود عقل کا قصور ہے۔ یہی حال ہماری محدور عقل کا ہے۔ ہم اُس کی مصلحتوں کو کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ ایک چیونٹی سمندر کے بارے میں کیا جانے؟ ہمیں اس موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ دانا اور ذی فہم انسان وہ ہوتے ہیں جو بارش برسنے سے پہلے اپنے کچے گھروں کی چھتوں کی لیپا پوتی کرلیتے ہیں۔ ہمیں چیزوں کو ٹھیک کرنا ہوگا، خواہ وہ روحانی ہوں یاجسمانی اور طبعی۔ کیوں کہ عمارتوں کی بنیادیں تب ہی محفوظ ہوں گی جب ان میں خلوص کا پانی، ایمانداری کی ریت اور محنت کا سیمنٹ شامل ہو۔ ’’ہمارے کردار کی مضبوطی ہی ہمارے ماحول کو محفوظ بناتی ہے۔‘‘ اگر ہماری اخلاقی حالت سدھر جائے، تو تھوڑی سی محنت اور سرمائے سے بہت سارے کام آسانی اور مضبوطی سے ہوں گے اور نقصانات کم سے کم ہوں گے۔ بڑوں نے سچ کہا ہے کہ بے ایمانی کا پیٹ بہت بڑا ہوتا ہے۔ بہت سے بِل اسے بھرنہیں سکتے۔ ہر آفت اپنے ہمراہ آزمائش ضرور لاتی ہے۔ آج ہم سب ایک امتحان میں ہیں۔ دکان کے تھڑے یا بیٹھک میں بیٹھ کر چائے سڑکتے ہوئے لوگوں کے جانی و مالی نقصان پر افسوس سے سر ہلانے کی بجائے عملی میدان میں کودنا ہی وقت کی پکار ہے۔ ایسے ہی جواں ہمت لوگوں کے دم سے انسانیت کا بھرم قائم رہتا ہے اور زخموں پر مرہم کی طرح خدمت کا اثر قائم رہتا ہے۔ اور مجبور و بے کس اور زخموں سے چور انسانوں کو بہت بڑا سہارا ملتا ہے۔اسی لیے زلزلے کے پہلے ہی روز سے جب الخدمت سوات کے تحصیل کبل کے ناظم جناب عبدالرشید (ٹنڈیل) صاحب نے مجھے فون پر میرے بیٹے عنایت اللہ کو جلد سنٹرل ہسپتال پہنچنے کا کہا، تو راقم نے تاخیر سے کام نہیں لیا۔ رات ایک بجے تک وہ ہسپتال میں دوسرے درجنوں ساتھیوں کے ساتھ مصروف خدمت رہے۔ دوسرے روز وہ سب مٹہ چلے گئے اور وہاں پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ کیوں کہ حدیث میں مذکور ہے کہ تمام مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں اور جسم کے کسی ایک حصے میں تکلیف ہو، تو درد سارا جسم محسوس کرتا ہے۔ ہم سب والدین کو ایسے کٹھن مراحل میں اپنی جوان اولاد کو انسانیت کی خدمت کے لیے بھیجنا چاہئے ایسی ہنگامی صورت حال میں ہمیشہ افرادی خدمات کی قلت کا سامنا ہوتا ہے۔ ہسپتال والوں کے پاس اتنا بڑا عملہ نہیں ہوتا۔ الخدمت فاؤنڈیشن کے جوانوں نے دن رات ایک کرکے دکھی انسانیت کی جو خدمت کی ہے، اُس کا اجر اُنہیں اللہ ہی دے سکتا ہے۔ اور غیر جانب دار اداروں اور سول سائٹی نے ان کی بے لوث خدمات کا اعتراف کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندوں باالخصوص بلدیاتی نمائندوں کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ حکومتی امداد شفاف طریقے سے صرف متاثرین تک ہی پہنچے۔ کیوں کہ کچھ خود غرض اور مفاد پرست شیطانی چیلے اس بھیڑ بھاڑ اور ہنگامی صورت حال میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی مذموم کوشش کریں گے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پچھلے دنوں اخبارات میں خبر چھپی تھی کہ چند سال پہلے جو گھر گھر سروے ہوئی تھی۔ اُس میں جزوی اور مکمل تباہ شدہ گھروں کو جو معاوضات دیئے گئے تھے، اُس کی فائل دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ کیوں کہ اُس میں بے قاعدگیاں ہوئی تھیں۔ ایک ہی گھر کو تین گھر ثابت کرکے اور جن کی منڈیر تھوڑی سی لڑھکی تھی کو جزوی نقصان کے خانے میں ڈال کے حقداروں کے حقوق پر ڈاکہ اور حکومت کو چونا لگایا گیا تھا۔ چوں کہ سردی کا بھوت سروں پرسوار ہوچکا ہے۔ بہت سے ہمارے مسلمان بہن بھائی کھلی چھت تلے یا بے دیوار گھروں میں سمٹ سکڑ کر اس خنکی کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔ اس لیے حکومتی کارندوں اور بلدیاتی نمائندوں سے ہماری درخواست ہوگی کہ جتنا جلد ممکن ہو۔ حکومتی امداد ان تک پہنچ جانی چاہئے۔ جس طرح دیر سے ملنے والا انصاف مظلوم کے آنسو نہیں پونجھ سکتا، اسی طرح تاخیر سے ملنے والی امداد بھی مجروحین کے زخموں کا مرہم نہیں بن سکتی۔ نہ ہی اپنے مقاصد پورا کرسکتی ہے۔
782 total views, no views today


