قارئین کرام! دو نومبر2015ء کو بروز پیر میں اپنے ایک مریض کے ساتھ سیدو شریف سنٹرل ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں رات گیارہ بجے تک موجود رہا۔ وارڈ میں آٹھ بجے کے بعد عملہ موجود نہ تھا اور عملے کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو کم عمر نوجوان بغیر یونیفارم کے عوام پر’’مسیحائی‘‘ کا ہنر سیکھنے کے لئے پر تولنے لگے۔ وہ انسانی جانوں کے ساتھ بلاکسی خوف و خطر کھیل رہے تھے۔ ایسا لگ رہاتھا کہ یہ نوجوان کسی ملازم کے چہیتے تھے۔ ایک لمحے مجھے محسوس ہوا کہ ہمارے مریض کو شاید بخار چڑھا ہے، تو میں وارڈ میں موجودعملے کے کمرے میں حاضر ہوا اور وہاں پر عام کپڑوں میں موجود اشخاص سے بخار چیک کرنے کی درخواست کی۔ ان میں سے ایک نے جواب میں کہاکہ بخار چیک کرنا ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمارے پاس تھرمامیٹر بھی موجود نہیں ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھے دوسرے شخص نے مجھ سے کہا کہ بھائی، تھرمامیٹر اتنا مہنگا آلہ نہیں ہے۔ آپ اسے بازار سے باآسانی بازار خرید سکتے ہیں۔ آپ تھرمامیٹر خرید کر لے آئیں، ہم بخار چیک کرلیں گے۔
قارئین کرام! اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ ایک چھوٹا سا تھرمامیٹر اگر سینٹرل ہسپتال کے سرجیکل وارڈ میں موجود نہیں ہے، تو آپ اندازہ لگا لیں کہ وہاں مہنگی ادویہ (سرکاری) کیوں کر میسر ہوسکتی ہیں؟ مجھے مخاطب کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ وہ کوئی کلاس فور ملازم تھا۔ برسبیل تذکرہ، اس سے کچھ دیر پہلے شانگلہ پورن کا رہائشی مریض بجلی کی گیارہ ہزار لائن کا تیز جھٹکا لگنے سے بری طرح جھلس کر زخمی ہوا تھا جس کے ہاتھ میں ہڈیاں صاف نظر آرہی تھیں۔ وارڈ میں خالی بیڈ نہ ہونے کی وجہ سے گھرسے لائی گئی چارپائی میں وہ پوری رات اسی طرح پڑا رہا۔ مریض کے لواحقین کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے انھیں کہا ہے کہ بروقت علاج ہونے سے شائد ہاتھ کا کچھ حصہ کٹنے سے بچ جائے۔ اس عالم میں گیا رہ بجے تک ان لوگوں نے وارڈ میں ڈاکٹرتو دور کی بات طبی عملے کے دیگر افراد ماسوائے مذکورہ دو افراد کے نہیں دیکھے۔ ان کے بقول جب وہ اپنے مریض کو لائے تھے، تو اس وقت اک آدھ ڈاکٹر موجود تھا۔ اس نے مریض کی حالت دیکھ کر اسے آرتھوپیڈک وارڈ لے جانے کا کہا۔کچھ دیر بعد اسے آرتھوپیڈک وارڈ والوں نے واپس سرجیکل وارڈ بھیج دیا۔ پھر ڈاکٹر شائد آٹھ بجے چلے گئے تھے۔ مناسب علاج اور عملے کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے صبح سویرے ہم نے مریض کو مین سیدوشریف روڈ پر رکھ کر احتجاج شروع کیا۔ کافی دیر کے بعد ہسپتال کے عملے تک خبر پہنچی۔ تب کہیں جا کر وہ وہاں تک پہنچے اور ہم کو دلاسہ دیکر احتجاج کو ختم کیا ۔
قارئین کرام! ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جس کی جہاں حکومت ہوتی ہے، وہاں کے انتظامی معاملات بھی اس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ وہاں اس پارٹی کے کارکنوں کا راج ہوتا ہے اور اعلیٰ عہدوں پر بھی اس کے لوگ فائز ہوتے ہیں۔ اگر اس کے کارکن سرکاری ملازمین ہوں، تو وہاں کوئی اس کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ کوئی کسی ناانصافی کے خلاف احتجاج کر بھی لے، تو وہ بے معنی ہوتا ہے۔ کوئی بھی ہو، وہ چاہے جتنا بھی انقلاب، انصاف اور تبدیلی یا پھر معیار کے وعدے کرلے لیکن نتیجہ مرغی کی وہی ایک ٹانگ کے مصداق ہی نکلتا ہے۔ بقول شخصے، شراب وہی پرانی کی پرانی ہے، بس بوتل اور لیبل نیا ہے۔
یہاں مریضوں کے نام پر طبی ادویہ آتی ہیں۔ وہ ایکسپائر ہوجاتی ہیں مگر مریضوں کو نہیں دی جاتیں۔ مریضوں کو تو صرف کمیشن والی ادویہ میسر ہیں۔ سرکاری ادویہ اسٹوروں میں سڑ جاتی ہیں۔ وہ تو بھلا ہو انٹی کرپشن افسر عبدالعلیم خان کا کہ اس نے کئی چھاپوں کے دوران سیدو شریف ہسپتال میں غیر پیرا میڈیکل اہلکاروں اور زائدالمیعاد ادویہ برآمد کیں۔ مذکورہ افسر کی ایمانداری سوات کے چند لوگوں کو قبول نہیں۔ شائد یہی لوگ سوات کے ہسپتالوں کی خراب صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ ایماندار اور بے داغ لوگ کبھی اپنے احتساب سے نہیں ڈرتے اور ان کے دروازے ہر وقت احتساب کیلئے کھلے ہوتے ہیں ۔
694 total views, no views today


