فرانس کے ایک ائیر پورٹ پر شاہی پروٹوکول کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ارد گرد باڈی گارڈ چابک دست کھڑے تھے۔ تینوں افواج کا ایک دستہ گارڈ آف آرنر پیش کرنے کے لیے تیار تھا۔ اعلیٰ حکام قطار میں کھڑے تھے۔ ایمبولینس گاڑیاں اسٹارٹ حالت میں تھیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کا ایک قافلہ کیل کانٹوں سے لیس مکمل تیاری کی حالت میں تھا۔ سلامی پیش کرنے کے لیے تیس توپ دھانے کھولے گولے داغنے کو تیار تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی ملک کا سربراہ یا کوئی اہم شخصیت فرانس کے دورے پر آ رہی ہے۔ اچانک فضا میں طیارہ نظر آیا۔ سارا عملہ الرٹ ہوگیا۔ طیارے کی لینڈنگ کے ساتھ ہی تیس توپوں نے وقفے وقفے سے فائر کرکے سلامی دی۔ گارڈ آف آرنرز پیش کیا گیا۔ اب مہمان کے باہر آنے کا انتظار تھا۔ لیکن یہ کیا، جہاز کے کارگو دروازے سے ایک بڑی تابوت اُتاری گئی۔ اعلیٰ حکام احتراماً تابوت کے پاس آگے بڑھے جبکہ دوسری طرف سے ڈاکٹروں اور نرسوں کے قافلے نے دوڑ کر تابوت کو اپنے نرغے میں لینا چاہا۔ اس تابوت کو فرانس کے ہوائی اڈہ پر ایک ملکی سربراہ کی حیثیت سے پروٹوکول دیا گیا تھا۔
قارئین کرام! یہ تابوت حکومت مصر کے اُس فرعون کی تھی جو ہزاروں سال پہلے حضرت موسیٰؑ کے دور کا تھا۔ اس حنوط شدہ لاش میں کچھ تبدیلیاں ایسی محسوس کی گئی تھیں جس سے اس کے خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ حکومت مصر کو یہ فکر کھائی جا رہی تھی کہ اگر لاش خراب ہوگئی، تو مصر کے ملک و قومِ کا ایک اہم ورثہ اور تاریخ مشکلات سے دوچار ہوجائے گی۔ ایک عظیم تاریخ کے عظیم نشان اور ورثے پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
قارئین کرام! یہ واضح رہے کہ مصری قوم آج بھی اپنے تاریخی ورثے ’’فراعنہ مصر‘‘ پر فخر کرتی ہے۔ اپنی پرانی تہذیب و تمدن پر ناز کرتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو پہلے مصری کہنے پر فوقیت دیتے ہیں، بعد میں اپنا تعارف عرب یا مسلمان کی حیثیت سے کرتے ہیں۔ اس لیے حکومتِ مصر نے فرعونِ مصر کی حنوط شدہ لاش کو علاج کے لیے فرانس بھیجتے وقت یہ درخواست کی تھی کہ یہ ہمارا اب بھی شہنشاہ ہے، لہٰذا اس کا استقبال ایک زندہ بادشاہ کی طرح کیا جائے۔
قارئین کرام! کسی قوم کا تاریخی ورثہ صرف اُس کی تہذیب و تمدن ہوتا ہے جس سے اُس قوم کے تاریخی پس منظر، تہذیب و تمدن کے تسلسل، درجہ بہ درجہ تبدیلیوں کی ایک طویل داستان کا ادراک ہوتا ہے جس سے اُس قوم کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاریخی ورثہ کا کوئی مذہب یا دین نہیں ہوتا۔ وہ صرف اور صرف تاریخ کا تسلسل ہوتا ہے اور اس طرح تاریخ کا بھی مذہب نہیں ہوتا۔ تاریخ اور ورثے کی گرفت ہوتی ہے اور یہ گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے ڈھیلی نہیں کرسکتی۔
ضلع سوات کے اصل باشندوں کی بھی ایک تاریخ ہے، ورثہ ہے۔ سوات کے باہر والے بھی سن لیں اور اندر رہنے والے موقع پرست اور مفاد پرست بھی سن لیں کہ سوات کے جیالے اور بہادر باشندے اپنی تاریخ اور ورثہ کی حفاظت پر کوئی سودا بازی یا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
اسی سوات کی ضلع کی حیثیت سے پہلے ایک ریاستی حیثیت تھی۔ یہاں بادشاہت تھی۔ وہ اچھی تھی یا بری، یہ الگ بحث ہے لیکن وہ ہمارا ورثہ ہے، اور اس دور کی عمارات وغیرہ ہماری تہذیب و تمدن کے انمٹ نشان ہیں۔ وہ نشان ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ جو نقصان ہوگیا ہے، وہ تو ویسے بھی ہوا ہے، لیکن مزید ہماری کسی تاریخی عمارت یا کسی بھی نشانی کو تلف کرنا ناقابل برداشت ہوگا۔ والئی سوات نے پختو دور کی اگر بارہ دریاں، مورچے اور قلعے گرائے تو ظلم کیا۔ اب اگر ریاستی دور کی کسی عمارت یا یادگار کو مٹایا جائے گا، گرایا جائے گا، دوبارہ تعمیر کرنے کے بہانے یا بازاروں، سڑکوں کو چوڑا کرنے کا جواز لے کر، تو سوات کے عوام سخت سے سخت مزاحمت کریں گے۔
جہانزیب کالج صرف ایک عمارت نہیں کہ اسے گرالو اور دوبارہ تعمیر کرو، یہ ہماری تاریخ ہے، ہمارا ورثہ ہے۔ بر سہا برس کے تعلیمی تسلسل کی ایک حسین اور تاریخی داستان ہے۔ اس عمارت کے ساتھ حافظ عثمان صاحب، کرنل فیض اللہ خان خٹک، مظفر حسین، پروفیسر دانشمند، پروفیسر شاہ دوران، پروفیسر کیانی، حضرت رحیم، پروفیسر اخلاق احمد، پروفیسر عباس اور پروفیسر اچھے میاں جیسے قابل احترام، قابل قدر بے شمار اساتذہ کی یادیں وابستہ ہیں۔ ہم کالج کے تمام کمرے، دفتر، برآمدے اُن باعزت، ہستیوں کے نام سے منسوب کرنا چاہتے ہیں۔ جہانزیب کالج کے برآمدوں، بارہ دریوں، راہداریوں اور سبزہ زاروں سے اب بھی اُن تاریخی شخصیات کی مہک سی آتی ہے۔ شوکت واسطی کی شخصیت کون بھول سکتا ہے؟
جہانزیب کالج سدا اسی طرح اپنی شان و شوکت سے قائم و دائم رہے گا (ان شاء اللہ)۔ ہم سواتی اسے دیکھتے رہیں گے اور یہ ہمیں دیکھتا رہے گا۔ اس کے حسین اور خوبصورت بدن پر جہاں جہاں خراش آئے ہیں، وقت اور حالات نے جہاں زخم لگائے ہیں، اُن تمام کی مرہم پٹی مرمت کی شکل میں کرنی چاہئے۔
زندہ اور باشعور قوموں کا شیوہ یہ ہے کہ جلد از جلد جہانزیب کالج سے بڑی، خوبصورت اور بالکل اسی ناک نقشے اور آرکیٹیک پر شان دار نئی عمارت ’’جہانزیب کالج‘‘ کے ہی نام پر بنائی جائے، لیکن جہانزیب کالج کو اپنی جگہ پر قائم رکھا جائے، اس ترقی یافتہ دور میں اس کی بحالی چنداں مشکل کام نہیں لیکن بات اخلاص اور نیک نیتی کی ہے۔
قارئین کرام! جہانزیب کالج صرف ایک درس گاہ نہیں، سوات کی خوبصورت سرزمین پر علم و قلم کا تاج محل ہے اور تاج محل گرائے اور مٹائے نہیں جاتے بلکہ قائم دائم رکھے جاتے ہیں۔جہانزیب کالج بھی قائم دائم رہے گا۔ کیوں کہ یہ ہمارا ورثہ ہے۔ اپنے ذاتی مفادات اور موقع پرستی کے لیے سازشی عناصر سواتی عوام کے ساتھ مختلف حیلوں اور بہانوں کے نام پر اپنا گھناؤنا کھیل بند کر دیں۔ سوات کے عوام اب سب کچھ جان چکے ہیں اور جاگ چکے ہیں۔
تعمیر کے نام پر گراتے ہوئے دیوار کو دیکھو
یہ میری تاریخ، میرا ورثہ، میری پہچان ہے دوستو
فرانس کے ایک ائیر پورٹ پر شاہی پروٹوکول کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ارد گرد باڈی گارڈ چابک دست کھڑے تھے۔ تینوں افواج کا ایک دستہ گارڈ آف آرنر پیش کرنے کے لیے تیار تھا۔ اعلیٰ حکام قطار میں کھڑے تھے۔ ایمبولینس گاڑیاں اسٹارٹ حالت میں تھیں۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کا ایک قافلہ کیل کانٹوں سے لیس مکمل تیاری کی حالت میں تھا۔ سلامی پیش کرنے کے لیے تیس توپ دھانے کھولے گولے داغنے کو تیار تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی ملک کا سربراہ یا کوئی اہم شخصیت فرانس کے دورے پر آ رہی ہے۔ اچانک فضا میں طیارہ نظر آیا۔ سارا عملہ الرٹ ہوگیا۔ طیارے کی لینڈنگ کے ساتھ ہی تیس توپوں نے وقفے وقفے سے فائر کرکے سلامی دی۔ گارڈ آف آرنرز پیش کیا گیا۔ اب مہمان کے باہر آنے کا انتظار تھا۔ لیکن یہ کیا، جہاز کے کارگو دروازے سے ایک بڑی تابوت اُتاری گئی۔ اعلیٰ حکام احتراماً تابوت کے پاس آگے بڑھے جبکہ دوسری طرف سے ڈاکٹروں اور نرسوں کے قافلے نے دوڑ کر تابوت کو اپنے نرغے میں لینا چاہا۔ اس تابوت کو فرانس کے ہوائی اڈہ پر ایک ملکی سربراہ کی حیثیت سے پروٹوکول دیا گیا تھا۔
قارئین کرام! یہ تابوت حکومت مصر کے اُس فرعون کی تھی جو ہزاروں سال پہلے حضرت موسیٰؑ کے دور کا تھا۔ اس حنوط شدہ لاش میں کچھ تبدیلیاں ایسی محسوس کی گئی تھیں جس سے اس کے خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ حکومت مصر کو یہ فکر کھائی جا رہی تھی کہ اگر لاش خراب ہوگئی، تو مصر کے ملک و قومِ کا ایک اہم ورثہ اور تاریخ مشکلات سے دوچار ہوجائے گی۔ ایک عظیم تاریخ کے عظیم نشان اور ورثے پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
قارئین کرام! یہ واضح رہے کہ مصری قوم آج بھی اپنے تاریخی ورثے ’’فراعنہ مصر‘‘ پر فخر کرتی ہے۔ اپنی پرانی تہذیب و تمدن پر ناز کرتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو پہلے مصری کہنے پر فوقیت دیتے ہیں، بعد میں اپنا تعارف عرب یا مسلمان کی حیثیت سے کرتے ہیں۔ اس لیے حکومتِ مصر نے فرعونِ مصر کی حنوط شدہ لاش کو علاج کے لیے فرانس بھیجتے وقت یہ درخواست کی تھی کہ یہ ہمارا اب بھی شہنشاہ ہے، لہٰذا اس کا استقبال ایک زندہ بادشاہ کی طرح کیا جائے۔
قارئین کرام! کسی قوم کا تاریخی ورثہ صرف اُس کی تہذیب و تمدن ہوتا ہے جس سے اُس قوم کے تاریخی پس منظر، تہذیب و تمدن کے تسلسل، درجہ بہ درجہ تبدیلیوں کی ایک طویل داستان کا ادراک ہوتا ہے جس سے اُس قوم کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاریخی ورثہ کا کوئی مذہب یا دین نہیں ہوتا۔ وہ صرف اور صرف تاریخ کا تسلسل ہوتا ہے اور اس طرح تاریخ کا بھی مذہب نہیں ہوتا۔ تاریخ اور ورثے کی گرفت ہوتی ہے اور یہ گرفت اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت اسے ڈھیلی نہیں کرسکتی۔
ضلع سوات کے اصل باشندوں کی بھی ایک تاریخ ہے، ورثہ ہے۔ سوات کے باہر والے بھی سن لیں اور اندر رہنے والے موقع پرست اور مفاد پرست بھی سن لیں کہ سوات کے جیالے اور بہادر باشندے اپنی تاریخ اور ورثہ کی حفاظت پر کوئی سودا بازی یا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
اسی سوات کی ضلع کی حیثیت سے پہلے ایک ریاستی حیثیت تھی۔ یہاں بادشاہت تھی۔ وہ اچھی تھی یا بری، یہ الگ بحث ہے لیکن وہ ہمارا ورثہ ہے، اور اس دور کی عمارات وغیرہ ہماری تہذیب و تمدن کے انمٹ نشان ہیں۔ وہ نشان ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ جو نقصان ہوگیا ہے، وہ تو ویسے بھی ہوا ہے، لیکن مزید ہماری کسی تاریخی عمارت یا کسی بھی نشانی کو تلف کرنا ناقابل برداشت ہوگا۔ والئی سوات نے پختو دور کی اگر بارہ دریاں، مورچے اور قلعے گرائے تو ظلم کیا۔ اب اگر ریاستی دور کی کسی عمارت یا یادگار کو مٹایا جائے گا، گرایا جائے گا، دوبارہ تعمیر کرنے کے بہانے یا بازاروں، سڑکوں کو چوڑا کرنے کا جواز لے کر، تو سوات کے عوام سخت سے سخت مزاحمت کریں گے۔
جہانزیب کالج صرف ایک عمارت نہیں کہ اسے گرالو اور دوبارہ تعمیر کرو، یہ ہماری تاریخ ہے، ہمارا ورثہ ہے۔ بر سہا برس کے تعلیمی تسلسل کی ایک حسین اور تاریخی داستان ہے۔ اس عمارت کے ساتھ حافظ عثمان صاحب، کرنل فیض اللہ خان خٹک، مظفر حسین، پروفیسر دانشمند، پروفیسر شاہ دوران، پروفیسر کیانی، حضرت رحیم، پروفیسر اخلاق احمد، پروفیسر عباس اور پروفیسر اچھے میاں جیسے قابل احترام، قابل قدر بے شمار اساتذہ کی یادیں وابستہ ہیں۔ ہم کالج کے تمام کمرے، دفتر، برآمدے اُن باعزت، ہستیوں کے نام سے منسوب کرنا چاہتے ہیں۔ جہانزیب کالج کے برآمدوں، بارہ دریوں، راہداریوں اور سبزہ زاروں سے اب بھی اُن تاریخی شخصیات کی مہک سی آتی ہے۔ شوکت واسطی کی شخصیت کون بھول سکتا ہے؟
جہانزیب کالج سدا اسی طرح اپنی شان و شوکت سے قائم و دائم رہے گا (ان شاء اللہ)۔ ہم سواتی اسے دیکھتے رہیں گے اور یہ ہمیں دیکھتا رہے گا۔ اس کے حسین اور خوبصورت بدن پر جہاں جہاں خراش آئے ہیں، وقت اور حالات نے جہاں زخم لگائے ہیں، اُن تمام کی مرہم پٹی مرمت کی شکل میں کرنی چاہئے۔
زندہ اور باشعور قوموں کا شیوہ یہ ہے کہ جلد از جلد جہانزیب کالج سے بڑی، خوبصورت اور بالکل اسی ناک نقشے اور آرکیٹیک پر شان دار نئی عمارت ’’جہانزیب کالج‘‘ کے ہی نام پر بنائی جائے، لیکن جہانزیب کالج کو اپنی جگہ پر قائم رکھا جائے، اس ترقی یافتہ دور میں اس کی بحالی چنداں مشکل کام نہیں لیکن بات اخلاص اور نیک نیتی کی ہے۔
قارئین کرام! جہانزیب کالج صرف ایک درس گاہ نہیں، سوات کی خوبصورت سرزمین پر علم و قلم کا تاج محل ہے اور تاج محل گرائے اور مٹائے نہیں جاتے بلکہ قائم دائم رکھے جاتے ہیں۔جہانزیب کالج بھی قائم دائم رہے گا۔ کیوں کہ یہ ہمارا ورثہ ہے۔ اپنے ذاتی مفادات اور موقع پرستی کے لیے سازشی عناصر سواتی عوام کے ساتھ مختلف حیلوں اور بہانوں کے نام پر اپنا گھناؤنا کھیل بند کر دیں۔ سوات کے عوام اب سب کچھ جان چکے ہیں اور جاگ چکے ہیں۔
تعمیر کے نام پر گراتے ہوئے دیوار کو دیکھو
یہ میری تاریخ، میرا ورثہ، میری پہچان ہے دوستو
978 total views, no views today


