عموماً لوگ کہتے ہیں کہ گاہک اور موت بتا کر نہیں آتے اور یہی بات شائد قدرتی آفات کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اکتوبر 2005ء، جولائی 2010ء اور 26 اکتوبر 2015ء کو دیکھا کہ لمحوں میں کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔ حالیہ زلزلے جس کی شدت پاکستان میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق8.1 ہے، نے صوبہ خیبر پختون خواہ کے دو سو بتیس انسانوں کی جان لی، چودہ سو پندرہ لوگ زخمی ہوئے، چار سو پچانوے سکول تباہ ہوئے، تریسٹھ ہزار سات سو پچانوے عمارات کو جزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ پچیس ہزار چار سو چوانوے مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ پاکستان میٹرولوجی ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر جہاں سے یہ معلومات لی گئی ہیں، وہاں صوبہ پنجاب میں ایک بھی عمارت کو جزوی یا مکمل طور پر تباہ رپورٹ نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ حالیہ زلزلے کے بعد سب سے پہلے اور اب تک اپنی نوعیت کا واحد دلخراش واقعہ لاہور میں پیش آیا جہاں ایک فیکٹری زمین بوس ہو گئی جس میں نہ جانے کتنے مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ فیکٹری میں کام کرنے والے مزدوروں کا کہنا تھا کہ زلزلے سے عمارت کو نقصان پہنچا تھا جس کی اطلاع مالک کو دی گئی تھی لیکن پھر بھی یہ فیکٹری ان ہی مزدوروں کا ہی مدفن ٹھہری۔ زلزلے کے بعد ریاستی مشینری نے تیزی سے کام شرو ع کیا جو اب تک جاری ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا اورعوام کو امداد پہنچانے کے لئے ایک ہوگئے جو کہ خوش آئند ہے، لیکن یہ کام عجلت میں کیا گیا۔ نقصانات کے اندازے کے لئے مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں جس میں سرکار کے مختلف محکموں سے نمائندوں کو شامل کیا گیا اور ہم سب کو پتہ ہے کہ تمام محکموں کے لئے ممکن نہیں تھا کہ ہر ایک ٹیم کے لئے اپنا نمائند ہ دے سکیں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو عمارات کے نقصانات کا اندازہ لگانے میں ماہر تھے، ہر ایک ٹیم میں شامل نہ ہوسکے۔ ٹیموں کی کمی کی وجہ سے دور دراز علاقوں کے مکین سروے سے باہر رہ گئے جبکہ ایک خبر کے مطابق سترہ سو جعلی درخواستیں بھی امداد کے لئے جمع کرائی گئی ہیں۔ جیسے ہی رقوم کی ترسیل شروع ہوئی، تو مکانات کے مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان امداد کے حصول پر اب تو تو میں میں شروع ہوگئی ہے۔ اکثر لوگوں کو شکایت ہے کہ گھر میں مقیم ہونے کی وجہ سے نقصان ان کا ہو ہے اور امداد مالک کو دی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ براہ راست متاثر ہونے والے لوگوں کے لئے امدادی رقوم میں حصہ نہیں۔ علاوہ ازیں بہت سارے لوگوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ سروے میں نقصانات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا ۔ کسی کا ایک کمرہ مکان تباہ ہوا ہے یا دس کمرے سب کو دو دو لاکھ روپے دیئے جا رہے ہیں اور یہی حال جزوی طورپر متاثر ہونے والے مکانوں کا بھی ہے۔ لہٰذا امداد مساویانہ تو ہے مگر منصفانہ نہیں۔ یہ مسائل اپنی جگہ اب اس پور ے عمل کے دوسری پہلو کو دیکھئے۔ ملاکنڈ ڈویژن اور ملحقہ علاجات میں گزشتہ ایک عشرے میں انسانی آفات کے علاوہ بہت بڑے قدرتی آفات رونما ہوئے ہیں اور یہاں کے لاکھوں لوگ نقصان اٹھا چکے ہیں جس کا ابھی تک ہم ازالہ نہ کرسکے۔ کئی ایک وجوہات کی بنا ہمارا پورا خطہ قدرتی آفات کے لئے موزوں بنتا جا رہا ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ ایسی آفات کے مستقبل میں رونما ہونے کے امکانات ہیں، تو سوال اٹھتا ہے کہ واقعات رونما ہونے کے بعد لینے والے اقدامات پر تو جہ دی جاتی ہے مگر ان آفات کی شدت کو کم کرنے اور روکنے پر بات کیوں نہیں ہوتی؟ کیا ہر سال نئی آفت اکر شہریوں کی جان لیتے رہے گی؟ کیا ہر بار عوام قطار بنا کر امداد کے لئے منتظر رہیں گے؟ جواب کس سے مانگیں ، معلوم نہیں۔ اکثر سنتا ہوں، یہ اعمال کا نتیجہ ہے۔تاریخ کے بدترین زلزلہ اکتوبر 2005ء کے بعدسوات شرکتی کونسل نے ’’زلزلے کے اثرات اور آئندہ کا لائحہ عمل‘‘ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا جس میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر یونٹ کے قیام کے لئے ضلعی حکومت کو تجویز دے دی گئی۔ یہ تجویز ضلعی اسمبلی میں پیش ہوئی اور بھاری اکثریت سے منظور بھی ہوئی لیکن آج تک پتہ نہیں چلا کہ یونٹ کیوں نہیں بنا؟ اسکے بعد ایک آرڈیننس کے ذریعے قومی سطح پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور صوبوں کے سطح پر پراونشل ڈیزاسٹرمینجمنٹ اتھارٹیز قائم کی گئیں جبکہ یہ نظام اضلاع تک پھیلانے کا کہا گیا تھا۔ توقع تو یہ تھی کہ یہ ادارے آفات کے بعد کام کرنے کے ساتھ ساتھ قبل از وقت تیاری بھی کریں گے۔ ایک نظام وضع کریں گے جو آفات کے تدارک یا اس کی شدت کو کم کر یں گے، مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ مقامی سطح پر اس ادارے کا کوئی وجود نہیں،لہٰذا ان سے متعلقہ کام احسن طریقے سے ہونے کے امکانات کم ہیں۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آفات جہاں تباہی لے کر آتی ہیں، وہاں یہ ایسے مواقع بھی ساتھ لاتی ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر آگے بھی جایا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں گزارش ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ حالیہ زلزلے میں متاثرہونے والے تمام افراد کو امدادی رقم انکے نقصانات کے حساب سے دی جائے، امداد لینے والوں کوآمادہ کیا جائے کہ وہ ملنے والی رقم اسی مکان پرلگائیں۔ نئی تعمیرات میں تعمیراتی اصولوں کا اطلاق یقینی بنائیں۔ جو لوگ دوسروں کے مکانات میں رہائش پزیر تھے جن کا نقصان بھی ہو چکا ہے، ان کے لئے الگ امداد کا اعلان کیا جائے۔ دو طرفہ احتساب کو یقینی بنانے کے لئے امداد لینے والوں کی معلومات عوام کے سامنے رکھ دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
789 total views, no views today


