سوات ، یکم دسمبر 2015 ء کو ڈسٹرکٹ کونسل سوات کے ملازمین کو تین (3) ماہ کی تنخواہیں ادا نہ کردی گئی تو ضلع ناظم کے دفتر کو تالے لگا کر بند کردیں گے ملازمین کو مسلسل تین (3) ماہ کی تنخواہیں نہ ملنا لوکل گورنمنٹ اور انصاف کے دعویداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، علی رحمن۔ ملازمین فاقومیں پر مجبور ہے انہیں ان کا حق ان کی دہلیز پر پہنچایا جائے ورنہ تالہ بند ہڑتال سمیت سڑکیں بلاک کردیں گے، ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ڈسٹرکٹ کونسل سوات کے ملازمین کا اپنی تین (3) ماہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کیخلاف ضلع ناظم سوات کے دفتر میں مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ایپکا کے صدر علی رحمن، جنرل سیکرٹری مشتاق احمد خان اور آل سوات درجہ چہارم ملازمین کے صدر سید خطاب نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے ڈسٹرکٹ کونسل سوات کے 28 ملازمین کی تنخواہیں تاحال بند ہیں اور مذکورہ ملازمین فاقوں پر مجبور ہے۔ انصاف کے دعویداروں سمیت ضلعی حکومت بھی مذکورہ ملازمین کی داد رسی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کونسل سوات جو کہ ضلع ناظم اور نائب ضلع ناظم کا دفتر ہے یہاں پر عوامی مسائل کے حل کیلئے لوگ آتے جبکہ یہاں پر موجود ملازمین کا یہ حال دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ عوام کا خداہی حافظ۔ انہوں نے ڈیڈ لائن دی ہے کہ اگر یکم دسمبر 2015ء کو تمام ملازمین کو تنخواہیں ادا نہ کی گئی تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے اور ضلع ناظم سوات کے دفتر ڈسٹرکٹ کونسل کو تالے لگا کر بند کردیں گے۔ لہٰذا حکام بالا سمیت لوکل گورنمنٹ کے نمائندے اور انصاف کے دعویدار ملازمین کے حال پر رحم کھا کر ان کی مدد کرکے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
684 total views, no views today


