چھبیس اکتوبر کو آنے والے زلزلے نے جہاں خیبر پختون خوا کے دوسرے علاقوں کو متاثر کیا، وہاں ملاکنڈ ڈویژن کے اہم ترین ضلع سوات جس کی آبادی پچیس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، کو بھی شدید متاثرکیا۔ زلزلے کے تیسرے دن وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے ضلع شانگلہ کا دورہ کیا اور متاثرہ لوگوں کی خیریت دریافت کی اور وہاں سے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپسی اختیار کی۔ وزیراعظم کے ساتھ ہی پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور صوبے کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی دورے کئے، مگر عمران خان اور وزیر اعلیٰ نے واپسی پر سوات کا مختصر دورہ کیا۔ سیدو شریف میں زلزلہ میں زخمی ہونے والوں کی عیادت کی اور ضلعی انتظامیہ کو متاثرہ لوگوں کی بروقت مدد کرنے کا حکم بھی دیا۔
وزیر اعظم کے دورہ¿ شانگلہ او ر پھر وہاں سے واپسی اختیار کرنے پر سوات کے لوگوں نے مسلم لیگ اور خاص کر امیرمقام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا کہ امیرمقام سیاسی میدان سوات کو گردانتے ہیں مگر وزیر اعظم کو سوات آنے نہیں دیا۔ یہ اور بات ہے کہ ضلع شانگلہ کے لوگ بھی وزیراعظم کی طرف سے کچھ خاص اعلان نہ کرنے پر ناراض تھے۔ شاید سوات کے لوگوں کی شکایت کو دور کرنے کے لئے آخر کار پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو انجینئر امیرمقام نے آنے پر راضی کرلیا۔ انھوں نے چودہ نومبر کو زلزلے کے بارہ دن بعد سوات کے متاثرین کا احوال جاننے کے لئے تحصیل بریکوٹ کے علاقہ شموزو کا دورہ کیا جس میں انھوں نے متاثرہ گاﺅں بھی دیکھے۔ اس موقع پر سوات کے ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزیر نے میاں نوازشریف کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ”سوات میں زلزلے سے چونتیس افراد جاں بحق ہوئے ہیں جن میں بتیس افراد کو چھ لاکھ روپے کے امدادی چیک بھی دیئے جاچکے ہیں۔ دو افراد کے لواحقین کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے ان کی رقم امانتاً ان کے پاس محفوظ پڑی ہے۔ اس طرح دو سو ترپن زخمیوں میں بھی زیادہ تر متاثرہ لوگوں کو امدادی رقم دی جاچکی ہے۔ البتہ ساڑھے تین ہزار سے زائد مکانات اور عمارات کو نقصان پہنچاہے جن کے مالکان کی امداد کی جا رہی ہے۔ فوری طورپر بیشتر متاثرین کو ٹینٹ اور کچھ کو فوڈ پیکیج دیا جاچکا ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں حکومتی مشینری عوام کے ساتھ ہے۔ تمام اے سیز، پٹواریوں اور دیگر عملے کی چھٹیاں منسوخ کی جا چکی ہیں اور ہنگامی بنیادوں پر متاثرین کی مدد جاری ہے۔“
اس طرح میاں نواز شریف نے اپنی تقریر میں ڈی سی سوات اور دیگر عملے کی تعریف کی اور ہدایات جاری کیں کہ تمام متاثرین کی جلد از جلد مدد کی جائے۔ میاں نواز شریف نے حکم دیا کہ سخت سردی آنے سے پہلے ہی متاثرہ لوگوں کو عمارات کی دوبارہ بحالی کے لئے رقم دی جائے۔ اس کے ساتھ وزیر اعظم نے سوات کے لئے ایک مرتبہ پھر چکدرہ سے کالام تک موٹروے طرز پر سڑک کی تعمیر کا اعلان کیا۔ یہی وعدہ انہوں نے تین سال قبل منگلور میں کڈنی ہسپتال کے افتتاح کے موقع پر سوات کے عوام کے ساتھ پہلے بھی کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ وزیر اعظم پاکستان بن گئے، تو سوات کے عوام کو ”سپر ہائے وے“ کا تحفہ دینگے۔ بعد میں انہوں نے مذکورہ وعدہ بھلا دیا۔ میاں صاحب کی اس روش پر سوا ت میں خوب تنقید ہوچکی ہے۔
قارئین کرام! سوات کے زلزلہ زدگان میں زیادہ تر لوگ میاں صاحب کے حالیہ دورے سے نالاں نظر آ رہے ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے متاثرین زلزلہ کے لئے کسی بھی قسم کے امداد ی پیکیج کا اعلان نہیں کیا بلکہ انہوں نے ایک طرح سے صوبائی حکومت کی طرف سے دیئے گئے امدادی پیکیج کو اپنے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی۔
میاں نواز شریف پاکستان کے وزیر اعظم ہےں اور ایک بڑی پارٹی کے سربراہ بھی ہےں۔ انہیں خیبر پختون خوا میں مضبوط ترین سیاسی حریفوں کا سامنا ہے۔ انھیں اپنی پوزیشن اور پارٹی دونوں کو اس علاقے میں مستحکم کرنا ہے، مگر اب شائد ان کی اگلے انتخابات میںبھی اس علاقے سے کامیابی کی کوئی امید نظرنہیں آ رہی۔ سیاسی پنڈت میاں صاحب کے حالیہ دورے کو ایک طرح سے ”خانہ پری“ قرار دے رہے ہےں۔ گوکہ سوات کے لئے انہوں نے چکدرہ سے کالام تک میگاپراجیکٹ کا اعلان کیاہے، مگر لوگ اسے بھی ماضی کی طرح صرف خالی اعلان سمجھ رہے ہیں۔
مذکورہ دورے کو مسلم لیگ کے مرکزی نائب صدر امیرمقام نے بھی کیش کرنے کی کوشش کی ہے مگر وزیراعظم کی تقریب میں مقامی صحافیوں کو نظر انداز کرنا امیرمقام کو بہت مہنگا پڑگیا۔ صحافیوں نے میاں نوازشریف کے دورے کو کم اور ان کے لئے آئے ہوئے مسلم لیگیوں کے احتجا ج کو زیادہ کوریج دی۔ اس طرح کے موقعوں پر پارٹی کے ناراض ارکان احتجاج کرتے رہتے ہیں مگر انجینئر امیرمقام کی حدسے زیاد خود اعتمادی ان کو لے ڈوبی۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم کی تقریب میں کوئی غیر معمولی اعلان بھی نہیں ہوا۔ میاں صاحب کا دورہ جو خالص متاثرین زلزلہ کے لئے تھا، اس سے لوگوں میں خاصی مایوسی پھیلی اور اس دورے نے مسلم لیگ کی ساکھ میں بہتری کی بجائے اسے مزید گرا دی۔ اہل سوات سوچتے ہیں کہ وزیراعظم کو سوات میں خوش آمدید کہنے ”ضلع شانگلہ“ کے ناظم اعلیٰ اور انجینئر امیر مقام کے فرزند نیاز امیر مقام کی کیا تُک بنتی ہے۔ سوات میں موجود سینئرمسلم لیگیوں کو حسب سابق وزیراعظم کی تقریب میں دعوت نہیں دی گئی جس سے سوات میں مسلم لیگ کے اندر جاری اختلافات کو مزید تقویت مل گئی۔
670 total views, no views today


