پاکستان کی آزادی کو اڑسٹھ سال ہوچکے ہیں لیکن پختون قوم آج بھی خود کو غلام تصور کرتی ہے۔ کیونکہ پختونوں نے انگریزوں کیخلاف جو جد و جہد کی تھی۔اس جدوجہدکا مقصد صرف انگریزوں کو نکالنا نہیں تھا بلکہ انگریزوں کے بنائے گئے قوانین اور غلامانہ نظام سے آزادی حاصل کرنا بھی تھا۔ اس آزادی کے لئے لاکھوں معلوم و نامعلوم شہیدوں اور غازیوں نے جان و مال کی قربانیاں پیش کیں۔ غازئ ملت سرتور فقیر سے لیکر باچاخان تک پختون قوم کے عظیم لیڈروں نے لازوال قربانیاں پیش کیں لیکن بدقسمتی سے یہ فرزندان ملت اپنی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ ہاں، یہ بات صحیح ہے کہ انگریزوں کو اس دھرتی سے نکالنے میں وہ کامیاب رہے لیکن اصل ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ کیونکہ گوروں کے جانے کے بعد ان کے ایجنٹوں نے احسن طریقے سے اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے مملکت خداداد کو ٹھیک اسی طرح غلام بنائے رکھا جس طرح انگریز چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ پاکستان کے قبائیلی علاقوں میں آج بھی ظلم وجبر کا کالا قانون ایف سی آر نافذالعمل ہے جو پاکستان کے آئین کی روح اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے بالکل منافی ہے۔ ایف سی آر میں نہ توکسی شہری کے مال و جان کا تحفظ ہے اور نہ انسانی حقوق نامی شے۔ فاٹا کے غیور پختون جن کو اہل اقتدار پاکستان کی بغیر تنخواہ آرمی گردانتے ہیں اور ہر جگہ فاٹا کے پختونوں کی غیرت اور ہمت کی مثالیں بیان کرتے تھکتے نہیں لیکن جب بھی ان قبائل کے حقوق کی بات آتی ہے، تو پھر ان قبائیلیوں کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ چند دن پہلے فاٹا کے پارلمنٹیرینز نے قومی اسمبلی میں ایک قرداد جمع کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کو پختونخوا میں ضم کیاجائے جو ایک احسن اقدام ہے، لیکن پنجاب کی بیورو کریسی اور حکمران طبقے نے دبے الفاظ میں مخالفت شروع کر دی۔ وہ نہیں چاہتے کہ یہ غیور قبائل ایف سی آر جیسی لعنت سے آزاد ہوکر ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیں۔ ایک طرف پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس قرارداد کے حق میں جلسے و جلوس نکالتی ہیں، تو دوسری طرف مٹی بھرعناصر قبائل کو غلام رکھنے پر مصر ہیں اور پارلیمینٹ کے اندر اور باہر ایف سی آر کے حق میں دلائل دیتے نظر آرہے ہیں۔
یہاں ذہن میں ایک سوال انگڑائیاں لیتا ہے کہ اگر ایف سی آر کے اتنے فوائد ہیں اور یہ ایک اچھا قانون ہے، تو پھر وہ نام نہاد محب وطن اس قانون کو پورے پاکستان میں کیوں نافذ نہیں کرتے؟ یہاں میں قارئین کرام کو ایف سی آر کے آمرانہ قانون کی ایک جھلک دکھاناچاہتا ہوں۔ فرنٹیر کرائمز ریگولیشن دفعہ ۱۲شق ۲ میں لکھا گیا ہے کہ جب ڈپٹی کمشنر کسی شخص کو شیڈول دوم کے تحت سزادے، تو وہ جرم کے لئے مقررہ سزا کے بدلے یا جرمانے کے علاوہ اسے سات سال تک قید کی سزادے سکتا ہے، ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء کے دفعہ ۳۹۳ کے تحت کوڑے لگوا سکتا ہے، پانچ سال تک سزا دے سکتا ہے یا پھر اسے سات سال تک ملک بدری کی سزا دے سکتا ہے۔ اسی دفعہ ۱۲ شق ۳ کے تحت تعزیرات پاکستان کے دفعہ ۳۰۲ یا ۳۹۵ کے تحت مجرم پائے گئے شخص کی غیر منقولہ جائیداد حکومت کے حق میں ضبط کی جائے گی۔
اس طرح دفعہ نمبر ۲۳ میں لکھا گیا ہے کہ کسی ایسی جگہ پر کوئی شخص زخمی حالت میں یا جہاں کوئی لاش برآمد ہو جس کو قتل کیا گیا ہو، جہاں پر کوئی دیہاتی آبادی یا اس کا حصہ رہ رہا ہو، تو اس دیہاتی آبادی یا اس کے کسی حصے میں رہنے والے لوگ دفعہ ۲۲ کے تحت ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان فیصلوں کیخلاف کہیں پر بھی نظرثانی کے لئے اپیل نہیں کیا جاسکتا۔
ایف سی آر کے تحت پولی ٹیکل ایجنٹ بیک وقت پولیس کا کام بھی کرتا ہے اور فیصلہ بھی خود کرنے کا مجاز ہے۔ مطلب پولی ٹیکل ایجنٹ ایڈمنسٹریٹر بھی ہے، سول جج، سیشن جج، چیف جسٹس اور تحقیقاتی افسر بھی ہے۔وہ ہر فن مولا ہے یعنی دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ والوں کو چاہئے کہ اسے نئے عجوبہ کے طورپر اپنی کتاب میں شامل کریں۔
قارئین کرام! اس آمرانہ اور ظلم کے قانون میں اور بھی ایسے دفعات اور شقیں موجود ہیں جو چیخ چیخ کر وحشی ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔ صوبائی اور وفاقی قبائلی علاقے شاید دنیا میں واحد علاقے ہوں جہاں سے قومی نمائندے عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر صوبائی و قومی اسمبلی اور سینٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہ پورے پاکستان کے لئے قانون سازی کرسکتے ہیں لیکن آئین پاکستان کے آرٹیکل ۲۴۷ کے شق ۳ کے مطابق اپنے حلقۂ انتخاب کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کرسکتے ۔
آزادی سے لیکر آج تک غیر پختون بیورو کریسی اپنی مرضی کے قوانین ہمارے سر پر تھوپتی چلی آ رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پختون دھرتی کو تجربہ گاہ بنایاگیا ہے، تو غلط نہیں ہوگا۔
کچھ دن پہلے وفاقی حکومت نے فاٹا میں آئینی اصلاحات کے نام سے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں فاٹا کی کوئی نمائندگی نہیں ہے اور نہ اس کمیٹی میں کوئی پختون وجود ہی ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت اس کام میں کتنی مخلص ہے۔ وہ لوگ قبائیلیوں کے لئے قانون سازی کرینگے جن کو پختون کلچرکا علم ہے نہ وہاں کی روایات کے بارے میں انھیں کچھ پتا ہی ہے۔
فاٹا کے اکثریتی عوام پختونخوا میں ضم ہونے کی باتیں کرتے ہیں اور ایسا ہونا بھی چاہئے۔ ایک طرف یہ فاٹا کے عوام کے مفاد میں ہے، تو دوسری طرف پختونوں اور پختونخوا کے حق میں بھی ہے۔ ایک طرف پختون قوم متحد ہوگی، تو دوسری طرف انگریزوں کی کھینچی ہوئی لکیریں مٹ جائیں گی اور پختون قوم ایک بار پھر اپنی زبردست قومی طاقت اور اتحاد کیساتھ بحال ہوجائے گی۔
آخر میں ایک اجتماع کا ذکر کرناچاہتا ہوں جو دو ہفتے قبل سعودی عرب کے مرکزی شہر ریاض میں اے این پی سعودی عرب نے قائم مقام صدر جناب ظہور احمد صاحب کی صدارت میں منعقد کیا تھا۔ اس پروگرام میں اے این پی اپر دیر کے صدر جناب راجہ امیرزمان خان نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔ اس پروگرام میں پارٹی کارکنان اور فاٹا سے تعلق رکھنے والوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس اجتماع میں فاٹا کو پختونخوا میں ضم کرنے کے حق میں ایک قرارداد بھی پیش کی گئی جو کثرت رائے سے منظور ہوئی۔ مقررین نے حکومت وقت سے پُرزور اپیل کی کہ فاٹا کو قبائیلیوں کی خواہشات کے عین مطابق جلد از جلد پختونخوا میں ضم کیا جائے۔
اب دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
730 total views, no views today


