سوات،محکمہ تعلیم کے زیراہتمام پانچویں جماعت کے طلبا سے لینے والے ٹیسٹ میں پشتو شامل کیاجائے اور سوات میوزیم میں حجرہ ماڈل بحال کیاجائے، عثمان اولسیار، سواستوا رٹ اینڈ کلچر ایسوسیشن کے زیر اہتمام پبلک لائبریری سیدوشریف میں دہشت گردی سے فنون لطیفہ پراثرات اور آرٹسٹ کے کردار کے موضو ع پر اجلاس منعقد ہوا جس میں سوات، ملاکنڈ اور دیگر علاقوں سے بڑی تعدا د میں ارٹسٹوں ، شاعروں اور کلچر سے وابستہ افراد نے شرکت کی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عثمان اولسیار نے کہاکہ اس علاقے میں جہاں دہشت گردی اور غیریقینی حالات نے دوسرے شعبوں پر اثرات ڈالے وہاں اس سے ارٹ اور ارٹسٹ بھی متاثرہوئے اور ارٹسٹوں نے اپنے ارٹ میں موضوعات کو ان حالات کے مناسبت سے بنا ڈالاہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیدوشریف کے ارٹسٹ ناصر شین نے کہاکہ حالات سے قبل ہمارے فن پاروں کے موضوعات الگ تھے مگر حالات کے بعد اس میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہم نے تعلیم پرپابندی، ٹوٹاقلم،خواتین کے ساتھ مظالم وغیرہ اجاگرکئے مراد ارٹسٹ نے کہاکہ ان حالات میں طالبان کے طرف سے ان پر پابندی تھی مگر معاشرے کے دیگر لوگوں نے بھی اس خوف کو مزید بڑھادیاتھا۔ جس کی وجہ سے ان کے کام پر برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عطاء اللہ جان ایڈکیٹ نے کہاکہ فنون لطیفہ اور ارٹ ان معاشروں میں پروان کرتے ہیں جن میں روزگار ہوں اور معاشرے میں لوگوں کو پیٹ کی فکر لاحق نہ ہو مگرہمارے ہاں لوگ اپنے مسائل سے باہر نہیں وہ کیاخاک فن پارے بنائینگے حلاں نکہ پختونوں میں بین الاقوامی معیار کے ارٹسٹ اور فنکار موجود ہے۔ روح الامین نایا ب نے کہاکہ ہمارے معاشرے میں ارٹ اور ارٹسٹ کی کوئی قدر نہیں ہم بحثیت قوم ہر کام میں انہتاپسند ہے اور انسان کے بنائے ہوئے فن پاروں کو چھوڑ کر قدرت کے فن پاروں کی یہاں قدر نہیں ۔ چارسدہ سے تعلق رکھنے والے حیات روغانی نے کہاکہ اس طرح کے اجلاس منعقدہونے چاہئے تاکہ آگاہی کا یہ سفر جاری رہیں صحافی فضل خالق نے کہاکہ ارٹ اور کلچر سے روشناس کرنے کے لئے سکولوں،کالجوں اور یونی ورسٹی میں آگاہی کے سیشن ہونے چاہے تاکہ ہمارے نئی نسل کو اپنی کلچر اور ارٹ سے روشناس کیاجاسکیں اور مزید ایسے لوگ جن میں صلاحتیں ہیں ان کو سامنے لایاجاسکیں۔ اس موقع پر صحافی نیازاحمدخان نے کہاکہ ہمارے نئی نسل کو اپنے کلچر اور رویات سے باخبر کرنے چاہئے تاکہ ان کے رویوں میں تبدیلی آسکیں ۔ پشتو شاعر برکت علی برکت نے کہا ارٹسٹ کا کردار ہرمعاشرے میں اہم ہوتاہے اور وہ حالات سے متاثرہو کر معاشرے کی اصلاح کرتاہے یہ اس طرح ان کی اہمیت ان حالات میں مزید بڑھ گئی ہے۔اس کے علاوہ اجلاس میں ڈاکٹر محب وزیر، سلیم ناشاد، سحر بونیری، یوسف جان یوسف، شمس فگار، حنیف قیس، آفتاب سپرلے،بشیر احمد بشیر ، احمد حسین ندیم ، محمدگل وغیر ہ نے حصہ لیا۔اجلاس میں متفقہ طورپر ارٹ اور ارٹسٹوں کے حوصلہ افزائی جاری رکھنے کا فیصلہ ہوا اور قرارداد کے زریعے حکومت سے مطالبہ کیاکہ این ٹی ایس ٹیسٹ میں پشتو زبان کو شامل کیاجائے اور سوات عجائب گھر میں پشتونوں کے روایتی حجرے کا ماڈل لگایاجائیں۔
772 total views, no views today


