امام الانبیا حضرت محمد مصطفیﷺ کا ایک خصوصی وصف یہ بھی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے جتنے صحیفے اور آسمانی کتابیں نازل کی ہیں، سب میں آپﷺ کا تذکرہ فرمایا کہ سب سے آخر میں خاتم النبی آنے والے ہیں اور ہر نبی نے بھی یہ بشارت اپنی قوم کو سنائی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے سامنے جو حضورﷺ کا تذکرہ کیا تھا، وہ قرآن میں مذکور ہے: (ترجمہ) ’’اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب حضرت مریم کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اے بنی اسرائیل، میں تمہارے پاس اﷲ کا بھیجا ہوا پیغمبر ہوں (اور) جو (کتاب) مجھ سے پہلے آچکی ہے (یعنی) تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے، جن کا نام احمد ہوگا، ان کی بشارت سناتا ہوں۔‘‘(الصف: ۶)
حضرت عیسی علیہ السلام کے اس قول کا اشارہ اس بشارت کی طرف ہے، جو نبی اکرمﷺ کے متعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے دی تھی۔ انہوں نے فرمایا: ’’تیرا خدا تیرے لیے تیرے ہی درمیان سے، یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی سننا اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، سو ٹھیک کہتے ہیں۔ میں ان کے لیے ان ہی کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا، وہی وہ ان سے کہے گا اور جو کوئی میری ان باتوں کو جن کو وہ میرا نام لے کر کہے گا نہ سنے، تو میں ان کا حساب اس سے لوں گا۔‘‘
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ اپنے تفسیری فوائد میں مذکورہ آیت کی تشریح میں رقم طراز ہیں : ’’یعنی پچھلے کی تصدیق کرتا ہوں اور اگلے کی بشارت سناتا ہوں۔ یوں تو دوسرے انبیائے سابقین بھی خاتم الانبیاءﷺ کی تشریف آوری کا مژدہ برابر سناتے آئے ہیں، لیکن جس صراحت و وضاحت اور اہتمام کے ساتھ حضرت مسیح علیہ السلام نے آپﷺ کی آمد کی خوشخبری دی، وہ کسی اور سے منقول نہیں۔ شاید قریب عہد کی بنا پر یہ خصوصیت ان کے حصہ میں آئی ہوگی، کیونکہ ان کے بعد نبی آخر الزماں کے سوا کوئی دوسرا نبی آنے والا نہ تھا۔ یہ سچ ہے کہ یہود ونصاریٰ کی مجرمانہ غفلت اور معتمدانہ دستبرد نے آج دنیا کے ہاتھوں میں اصل تورات وانجیل وغیرہ کا کوئی صحیح نسخہ باقی نہیں چھوڑا، جس سے ہم کو ٹھیک پتا لگ سکتا کہ انبیائے سابقین خصوصاً مسیح علیہ السلام نے خاتم الانبیاﷺ کی نسبت کن الفاظ میں اور کس عنوان سے بشارت دی تھی اور اسی لیے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ قرآن کریم کے صاف وصریح بیان کو اس تحریف شدہ بائبل میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے جھٹلانے لگے ، تاہم یہ بھی خاتم الانبیاﷺ کا معجزہ سمجھنا چاہیے کہ حق تعالیٰ نے محرفین کو اس قدر قدرت نہیں دی کہ وہ اس کے آخری پیغمبر کے مطلق تمام پیش گوئیوں کو بالکلیہ محو کر دیں کہ ان کا کچھ نشان باقی نہ رہے۔ موجودہ بائبل میں بھی بیسیوں مقام ہیں، جہاں آنحضرتﷺ کا ذکر قریب تصریح کے موجود ہے اور عقل وانصاف والوں کے لیے اس میں تاویل وانکار کی قطعاً گنجائش نہیں اور انجیل میں تو فارقلیط (یا پیرکلوطوس) والی بشارت بہت صاف ہے۔ علمائے اسلام نے بحمدﷲ بشارات پر مستقل کتابیں لکھی ہیں اور تفسیر حقانی کے مؤلف فاضل نے ’’فارقلیط‘‘ والی بشارت اور تحریفِ بائبل پر سورۂ ’’صف‘‘ کی تفسیر میں نہایت مفصل بحث کی ہے۔ حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ فرماتے ہیں؛ مہاجرین حبشہ کو جب نجاشی نے اپنے دربار میں بلایا اور حضرت جعفر بن ابی طالبؓ سے نبی کریمﷺ کی تعلیمات سنیں تو اس نے کہا: ’’مرحبا تم کو اور اس ہستی کو جس کے ہاں سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اﷲ کے رسول ہیں اور وہی ہیں جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں اور وہی ہیں جن کی بشارت عیسیٰ بن مریم نے دی تھی۔‘‘پھر کہا؛ اگر امور سلطنت کی یہ پابندیاں نہ ہوتیں، تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کے جوتے اٹھانے کی خدمت بجا لاتا۔ عطاء بن یسارؓ روایت کرتے ہیں؛ میں عبداﷲ بن عمرو بن عاصؓ سے ملا اور میں نے کہا کہ مجھ سے رسول کریمﷺ کا وہ حال بیان کریں، جو تورات میں ہے۔ انہوں نے کہا؛ بخدا تورات میں آپﷺ کی بعض صفتیں وہی ہیں جو قرآن میں بیان کی گئی ہیں، اے نبی! ہم نے تم کو گواہ بنا کر اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا اور ان پڑھ لوگوں کا بچاؤ کرنے والا بنا کر بھیجا ہے، آپﷺ ہمارے بندے اور رسول ہو، آپﷺ کا نام ہم نے متوکل رکھا ہے، آپﷺ نہ تو بدخواہ ہو اور نہ سنگ دل اور نہ بازار میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ، برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کر دیتے اور بخش دیتے ہیں۔
رسولِ کریمﷺ کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ ﷺکی امت کو اﷲ تعالیٰ نے بہترین امت بنایا ہے،جیسے آپ ﷺکی شان بلند ہے، ویسے ہی آپ کی نسبت و برکت سے آپؐ کی امت کی شان بھی بلند ہے اور سابقہ آسمانی کتابوں میں ان کی خوبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ موجود ہے۔ قرآن میں ہے: (ترجمہ) ’’حضرت محمدﷺ اﷲ کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے بارے میں تو سخت ہیں اور آپس میں رحم دل (اے دیکھنے والے ) تو ان کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے ) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں، ان کے یہی اوصاف تورات میں (مرقوم) ہیں اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں‘‘۔
تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تشریح و تفسیر میں درج ہے:
’’ حضرت عثمانؓکا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے اندرونی پوشیدہ حالات کی اصلاح کرے اور بھلائیاں اگرچہ پوشیدگی سے کرے، اﷲ اس کے چہرے کی سلوٹوں پر اور اس کی زبان کے کناروں پر ان نیکیوں کو ظاہر کر دیتا ہے۔ الغرض دل کا آئینہ چہرہ ہے ،جو اس میں ہوتا ہے اس کا اثر چہرہ پر ہوتا ہے۔‘‘
1,634 total views, no views today


