مینگورہ،آل سوات رکشہ ڈرائیورز یونین سی بی اے رجسٹرڈ کے صدر ابراہیم خانخیل نے کہا ہے کہ سوات انتظامیہ کو پانچ جنوری تک ڈیڈ لائن دیتا ہوں ۔کہ آپریشن زدہ علاقے سوات میں غریب رکشہ ڈرائیوروں کے خلاف انتظامیہ آپریشن بند کریں۔انتظامیہ پانچ جنوری سے پہلے رکشہ یونین کو اعتماد میں لیں ورنہ مینگورہ شہر کو نامعلوم مدت کے لئے مکمل بند کردینگے۔احتجاج میں رکشہ ڈرائیوراکیلے نہیں فیملی کے ساتھ نکلیں گے۔ پانچ جنوری کے بعد مذاکرات نہیں دمادم مست قلندر ہوگا۔جب تک پاکستان کی سپہ سالار آرمی چیف راحیل شریف نہیں آئیگی ۔اس وقت مینگورہ شہر بند رہیگا۔اگر انتظامیہ کی خواہش ہے تو مینگورہ رکشہ ڈرائیوروں کو رکشے کے بدلے رکشہ فراہم کریں۔ سوات میں انتظامیہ کو صرف رکشے نظر آرہے ہیں ۔ این سی پی کٹ گاڑیوں کے خلاف آپریشن کیوں نہیں کرتے کہ لاچار اور بے بس ڈرائیوروں کو تنگ کر رہے ہیں۔ میجر جنرل ملاکنڈ ڈویژن نادر خان سوات میں ہزاروں ٖغریب رکشہ ڈرائیوروں کے خلاف آپریشن کرنے پر ایکشن لیں۔ سوات میں ان خیالات کا اظہار انہوں اپنی رہائش گاہ اور نشاط چوک میں رکشہ ڈرائیوروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔محمد ابراہیم خانخیل نے کہا کہ رکشہ ڈرائیور و ں کے خلاف انتظامیہ کی کاروائی غیر منصفانہ ہے۔ انتظامیہ نے اگر رکشہ ڈرائیوروں کے پرانے رکشوں خلاف یونین کے اعتماد کی بغیر آپریشن کیا ۔تو مینگورہ شہر کو مکمل بند کردینگے۔اور اس کے ذمہ دار انتظامیہ خود ہونگے۔انتظامیہ پانچ جنوری سے پہلے پہلے یونین کو اعتماد میں لیں۔ورنہ پانچ جنوری کے بعد مذاکرات کے دروازے بند ہونگے۔اور نامعلوم مدت تک مینگورہ شہر بند کردینگے۔جب تک پاکستان کی سپہ سالار آرمی چیف راحیل شریف نہیں آئیگی ۔اس وقت مینگورہ شہر بند رہیگا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی پرانے رکشوں کو ختم کرنے کی خواہش ہے کہ رکشہ ڈرائیوروں کو پرانے رکشوں کی بدلے رکشے دے۔انہوں نے کہا کہ غریب بے بس اور لا چار رکشہ ڈرائیوروں کی رکشے کو کسی نے بھی ہاتھ ڈالا ۔تو وہ خود ذمہ دار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں ۔ورنہ ڈرائیور وں کے ساتھ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرینگے۔اگر لاء اینڈ آر ڈر کا مسئلہ پیدا ہوا۔ تو اس کے ذمہ دار انتظامیہ خود ہونگے۔
608 total views, no views today


