مینگورہ،مینگورہ شہر سمیت ضلع بھر میں پرائیویٹ سکول مالکان کی من مانیاں جاری ،ہائی کورٹ کے ریلیف دینے کے فیصلے کو نظر انداز کردیا گیا ہے ،بچوں کے فیسوں میں بے تحاشہ اضافہ ،بورڈ حکام بھی خاموش والدین میں سخت تشویش کی لہر ،زرائع کے مطابق ایم ایم اے کے دور حکومت میں بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے اور شرح خواندگی بڑھانے کیلئے ہائی کورٹ پشاور نے ایک فیصلہ دیا تھا جس میں پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا اور اس فیصلے کا مقصد غریب
اور بادار بچوں کو اعلی اور معیاری تعلیم کیلئے والدین کو خصوصی ریلیف دیا گیا تھا اور پہلے بچے کی فیس پوری ،دوسرے کی ادھی اور تیسرے بچے کو بھی ادھی فیس پر تعلیم دلانا تھا جس کے تحت عام لوگوں کے بچے بھی اعلی اور معیاری تعلیم سے مستفید ہوسکیں گے لیکن دس سال گزرنے کے باوجود سوات کے پرائیویٹ سکولوں نے اس فیصلے کو نظر انداز کیا ہے اور وہ بچوں اور بچیوں سے پوری فیس وصول کر رہے ہیں جس کے وجہ سے زیادہ تر والدین اپنے بچوں کے فیس برداشت نہ کرنے کی وجہ سے انہیں سکولوں سے نکال رہے ہیں اور انہیں کسی ورکشاپ یا دکانوں میں بھرتی کر رہے ہیں اس فیصلے کو بورڈ کی جانب سے بھی عملی بنانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں اور بورڈ عملہ بھی اسمیں برابر کا ملوث ہے ،جس کے وجہ سے پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کی تعداد کم ہو رہی ہے والدین نے فوری طور پر پی ٹی ائی کی صوبائی حکومت سے اس فیصلے کو عملی جامہ پہننانے اور سکولوں مالکان کو اسکا پابند بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
سوات میں تقریبا 550 پرائیویٹ سکولوں میں تقریبادو لاکھ بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہے ،مالکان راتوں رات کروڑ پتی بن رہے ہیں ،سوات میں اس وقت پانچ سو پچاس پرائیویٹ سکول قائم ہے جو مالکان کیلئے صرف اور صرف کمائی کا زریعہ بن گئے ہیں اور ان سکولوں میں تعلیم کے معیہار پر بھی کچھ خاص خیال نہیں رکھا جارہا ہے اور مالکان صرف اور صرف اس سے کمائی کرکے راتوں رات کروڑ پتی بن رہے ہیں اور چند سالوں میں انہوں نے عالیشان عمارتیں تعمیر کردی ہے جبکہ مینگورہ شہر سمیت ضلع بھر میں چند پرائیویٹ سکولز مالکان نے اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے جو اپنے من مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ پرائیویٹ سکولز منجمنٹ ایسوسی ایشن نے بھی اس پر معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔
بھاری بھر فیسوں کے وجہ سے بچوں کے مشقت میں اضافہ ،ورکشاپوں میں بچوں کی بھیڑ لگ گئی ،سوات کے پرائیویٹ سکولوں میں پچوں سے بھاری بھر فیسوں کے وصولی کے وجہ سے زیادہ تر والدین انکی استطاعت نہ رکھنے کے وجہ سے اپنے بچوں کو سکولوں سے نکال کر انہیں ہنر سیکھانے کیلئے ورکشاپوں اور دیگر کاموں پر لگا دیا ہے جس کے وجہ سے مینگورہ شہر سمیت ضلع بھر میں ننھے پھول یا تو ورکشاپوں ،چائے کے دکانوں یا وڈیو گیمز کے دکانوں میں نظر اتے ہیں اور ان میں سے اکثر بچے یا تو معاشرے میں بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں یا منشیات اور غلط کاموں کی طرف راغب ہو رہے ہیں اس سلسلے میں مقامی لوگوں اور والدین نے انتظامیہ سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔
482 total views, no views today


