اخباری خبر کے مطابق سرگودھاکے ایک نواحی علاقے سے ایک آدمی کی لاش ملی ہے۔ دشمنوں نے اسے قتل کرکے اس کی لاش کو نہر میں ڈال دیا تھا۔ بوسیدہ لاش کو بستی والوں نے لاوارث سمجھ کر دفن کرنے کا فیصلہ کیا۔ مسجد میں اعلان ہوا کہ لاوارث لاش ہے، اس کے لئے کفن خریدنا ہے۔ لہٰذا چندہ جمع کیا جائے۔ آدھے گھنٹہ تک اعلان ہوتارہا، تب جاکر کفن کے پیسے پورے ہوئے اور اس دفنایا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد پولیس نے لواحقین کی شکایت پر جب ابتدائی تحقیقات کے بعد مشکوک افراد کو گرفتار کیا، تو قاتلوں نے آلۂ قتل، جائے قتل اور لاش کو ٹھکانے لگانے والے واقعہ سے پردہ اٹھایا۔ لواحقین، پولیس سمیت جب گاؤں پہنچے، توتب گاؤں کے لوگوں کو پتہ چلا کہ جس لاوارث لاش کے لئے وہ چندہ اکھٹا کررہے تھے وہ بذات خود اپنے علاقے کا بڑا زمیندارآدمی تھا۔ اس کے چار جوان بیٹے تھے۔ بارہ مربع میں اس کے باغات تھے اور کروڑوں روپے اس کے بنک اکاؤنٹ میں تھے۔ اس بندے نے کبھی زندگی میں سوچا بھی نہ ہوگا کہ اس کو چندے کی کفن نصیب ہوگی اور اس کے لئے بھی مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے آدھا گھنٹہ اعلان ہوتا رہے گا۔
انسان دنیا میں تین چیزوں کے بارے میں بہت حساس ہوتا ہے۔ ایک اپنے نام کے بارے میں کہ اس کا نام اونچا ہو۔ عزت سے اس کا نام پکارا جائے۔ پکارنے والا اس کے ساتھ سابقے و لاحقے جمع کرکے ہی پکارے جیسے حاجی، جناب، ڈاکٹر، پروفیسر،شیخ الحدیث، شیخ القرآن، صاحب، خان وغیرہ وغیرہ۔ فہرست میں اپنا نام نہ پائے، تو اس کو عزت کا مسئلہ بنادیتا ہے اور اگر غلطی میں سٹیج سے اس کے ہم عصروں کا نام لیا جائے اور اسے یاد نہ کیا جائے، تو ناراض ہوجاتا ہے۔ بہت سارے اخراجات صرف نام کے لئے ہی اٹھاتا ہے۔ تاکہ لوگ اسے بڑے نام سے یاد رکھیں۔ حالانکہ فائدہ اس کا کوئی نہیں ہوتا۔ حاجی صاحب کو کسی نے پروگرام میں مدعو کیا ہواتھا۔ اس نے بے انتہا فضول اخراجات کئے تھے اور اسراف کی آخری حد تک پیسے اڑائے تھے۔ حاجی صاحب نے اس بندے کو دیکھ کر فرمایا:’’اللہ کے بندے، آپ نے اتنے سارے اخراجات کرکے جو چیز (نام) آج خریدی ہے، افسوس اگر کل بوقت ضرورت بازار میں فروخت کرنے لگو، تو دو ٹکے کی بھی نہ بکے۔‘‘ دوسری چیز جس کے بارے میں انسان بہت حساس ہوتا ہے، وہ اس کا کپڑا ہوتا ہے جسے وہ زیب تن کرتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ کپڑوں کو دیکھ کر شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں جیسے ملانصیرالدین ایک مرتبہ پٹھے پرانے کپڑوں میں ایک دعوت میں گیا، تو کسی نے اندر جانے نہیں دیا۔ پھر اس نے جاکر نیا سوٹ پہنا اور دوبارہ دعوت میں گیا۔ اب کی بار اس کی بڑی آؤ بھگت ہوئی۔ ملانصیرالدین ایک نوالہ خود کھاتا اور دوسرا کوٹ کی جیب میں ڈالتا۔ کسی نے کہا: ’’ملاصاحب، یہ کیا سادگی ہے؟‘‘ ملا صاحب نے کہا: ’’سادگی نہیں بلکہ حقیقت یہی ہے۔ دعوت میں اجازت ان کپڑوں کی بدولت ہے، لہٰذا ان کا بھی برابر کا حق ہے۔‘‘
کپڑوں کے بعد جس چیز کے بارے میں انسان بہت حساس ہوتا ہے، وہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ اگرچہ آج کل مکان بہت ہوگئے ہیں اور گھرناپید ہوگئے ہیں لیکن پھر بھی انسان مکانات کی تعمیر میں جتا ہوا ہے اور اسے ’’گھروں‘‘ سے تشبیہ بھی دے رہا ہوتا ہے۔ مکان تو اینٹوں، سریے، سیمنٹ اور بجری سے بنتے ہیں جبکہ محبت، اخوت، یگانگت، ہمدردی، احساس اور اتفاق جیسی خوبیاں اسے گھر بنا دیتی ہیں۔ اب چونکہ یہ ساری خاصیتیں ناپید ہوگئی ہیں اس لئے مکان تو بن رہے ہیں، اس میں مکین بھی بستے ہیں لیکن جسے گھر کہتے ہیں وہ ’’ہنوز دور است‘‘ کے مصداق ہے۔ مکان بناتے وقت انسان اتنی بہتر منصوبہ بندی کررہا ہوتا ہے جیسے اس نے مرنا ہی نہیں یا پھر اسے بہت عرصہ بعد مرنا ہو۔ ان تین چیزوں (نام، مکان اور لباس) کی وجہ سے انسان اپنے رب کو بھول جاتا ہے۔ پانچ وقت لاؤڈسپیکروں سے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان ہوتا ہے لیکن پھر بھی یہ ان تینوں کو حاصل کرنے کے درپے ہوتا ہے اور اصل فلاح کو بھول جاتا ہے۔ پھر ایک دن اسی لاؤڈ سپیکر سے اسی بندے کا اعلان ہوجاتا ہے: ’’حضرات! اعلان سماعت فرمائیں۔ فلاں کا بھائی، فلاں کا بیٹا اور فلاں کا والد بزرگوار بقضائے الٰہی فوت ہوگیا ہے۔ احباب سے گزارش کی جاتی ہے کہ جنازے میں شرکت فرمائیں، جزاک اللہ۔‘‘
اب قدرت کا انتقام دیکھئے، بندے کے اوپر سب سے پہلا وار اس کی مذکورہ بالا تین چیزوں پر ہی ہوتا ہے۔ اب نام تبدیل ہوگیا۔اب ہسپتال والے یہی کہیں گے کہ ’’لاش‘‘ کو اٹھاؤ۔ نام سے لاش اور لاش سے مردے کا سفر آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ محلے کے لوگ جب جنازہ اٹھانے آجاتے ہیں، تو پوچھتے ہیں۔ ہاں بھائی، جنازہ تیار ہے؟ کیا مردے کو نہلادیا ہے یا نہیں؟ اب بیٹا بھی نہیں کہتا کہ ’’تھوڑا صبر کریں، ابو کو نہلایا جارہا ہے‘‘ بلکہ کہتا ہے ’’تھوڑا صبر کریں، مردے کو نہلایا جارہا ہے۔‘‘ قبر میں ڈالتے وقت کوئی نہیں کہتا کہ ڈاکٹر صاحب کو آرام سے اتارئیے بلکہ مردہ کہہ کرآرام اور ذکر سے اتارنے کا کہا جاتا ہے۔
پھر دوسرا وار اس کے کپڑوں پر ہوتا ہے۔ اسے بھی وہ کپڑے پہنائے جاتے ہیں جو دنیا بھر کے مردوں کو پہنائے جاتے ہیں جن میں نہ کوئی خاص برانڈ ہوتا ہے اور نہ جیبیں۔ اس کے بعد اس کو اس کے اصل گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے اور منوں مٹی تلے اسے دفن کیا جاتا ہے۔ اب اس کا گھر بھی عام مزدور، غریب اور کمزور آدمی کے گھر جتنا ہوتا ہے۔ اب اس کی گہرائی، چوڑائی اور روشنائی کے لئے کوئی چیز کام نہ آئے گی، سوائے ’’عمل‘‘ کے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ موت بذات خود ایک بہت بڑا واعظ ہے جس سے روزانہ ہم سب کا واسطہ پڑتا ہے لیکن پھر بھی اس بھول جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ جس چیز کا اندیشہ تھا وہ امت والوں کا دنیاسازی کے منصوبوں میں آخرت سے غافل ہونے کا تھا۔ایک مرتبہ فرمایا: ’’میں اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ اندیشہ کرتا ہوں، وہ یہ ہے کہ میری امت خواہشات کی پیروی کرنے اور دنیاوی مال و متاع کے لمبے چوڑے منصوبے بنانے میں لگ جائے گی، تو اس کی خواہشِ نفس کی پیروی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ حق سے دور جا پڑے گی اور دنیا سازی کے منصوبے آخرت سے غافل کردیں گے۔ اے لوگو! یہ دنیا کوچ کرچکی ہے، جارہی ہے اور آخرت کوچ کرچکی ہے، آرہی ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک کے ماننے والے ہیں جو ان سے محبت کرتے ہیں۔ یہ اچھا ہوگا کہ تم دنیا کے پرستار نہ بنو۔ تم اس وقت عمل کے گھر میں ہو اور حساب کا وقت نہیں آیا ہے۔ کل تم حساب کے گھر(آخرت) میں ہوگے، جہاں عمل کو کوئی امکان نہ ہوگا۔‘‘
702 total views, no views today


