انگریزی کا یہ مقولہ تو بچے بچے کو از بر ہے کہ “a stech in time saves nine.” اگر 2005ء کے زلزلے میں جہانزیب کالج کی عمارت کو پہنچنے والے نقصانات کا بروقت تدارک کیا جاتا، تو آج یہ گھمبیر صورت حال درپیش نہ ہوتی۔ اب تو اس عظیم درسگاہ کا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا ہے اور مقتدر حلقوں میں اسے زمین بوس کرنے کے مشورے ہو رہے ہیں۔ دس سال میں ایک کالج کی قسمت کا فیصلہ نہ ہوسکا۔ اتنی مدت میں تو اس سائز کے دس کالج بھی بن سکتے تھے۔ آخر اس دوران میں بر سر اقتدار صوبائی حکومتیں کیوں اتنی شدید غفلت اور بے حسی کا مرتکب ہوگئیں جس کا لازمی نتیجہ 2015ء کے زلزلے کے ناقابل تلافی نقصان کی صورت میں سامنے آیا۔
یہ بات البتہ حوصلہ افزا ہے کہ سواتیوں کی مجموعی لاپروائی اور غفلت کے باوصف، کچھ مخلص حضرات اس کالج کی موجودہ شکل کو بر قرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، ان بے لوث انسانوں میں ایک مشہور ماہر تعمیرات شوکت شرارؔ، سواتھیالوجی کے ان تھک طالب علم اور سوات کے شیدائی عثمان اولس یار اور سول سوسائٹی کے دیگر افراد شامل ہیں۔ مجھے اس بات سے بڑا دُکھ ہورہا ہے کہ لاکھوں سواتی اس قومی زیان کے بارے میں انجان بنے ہوئے ہیں۔ چاہئے تو یہ تھا کہ شانگلہ ٹاپ سے لنڈاکے تک عام لوگ ایک تحریک چلانے اور حکومت کو اس حساس معاملے پر اقدامات کرنے پر مجبور کرتے، مگر
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
میری دلی خواہش ہے کہ کالج کے اوریجنل خط و خال بھی قائم رہیں اور یہ انسانی زندگی کے لیے خطرہ کا باعث بھی نہ ہو، مگر خواہشات اور تلخ حقائق میں سمجھوتا اب ناممکن نظر آرہا ہے۔ اب تو شوکت شرار صاحب جیسے ماہرین ہی بتاسکیں گے کہ اس کا قابل قبول حل کیا ہونا چاہئے، لیکن اس پُرشکوہ عمارت سے ایک قلبی لگاؤ کی مناسبت سے میں یہ ضرور چاہتا ہوں کہ یہ کسی نہ کسی طور پہ اسی طرح کھڑی رہے۔ چاہے اس میں درس و تدریس کا کام ہویا نہ ہو بلکہ اس کو ایک ’’قومی ورثہ‘‘ قرار دیا جائے بلکہ یونیسف سے بھی اپیل کریں گے کہ اس کو انسانی تہذیب کے عالمی ورثے کا درجہ دیا جائے۔ کالج کے لیے قرب و جوار میں اگر ممکن نہ ہو، تو گلی گرام میں زمین حاصل کی جائے یا سیدو ہاسٹل کے عقب کی پہاڑی میں بھاری مشینری سے سائٹ بنواکر اسی نقشے کے مطابق نئی عمارت بنائی جائے۔ یہ کوئی ناممکن بات نہیں۔ 2015ء کے زلزلے میں کالج کی دیواروں میں جو “Diagonal”دراڑیں پڑگئی ہیں۔ میری ناقص رائے میں اب اس کی تلافی شائد ممکن نہ ہو، لیکن 2005ء والے زلزلے کے بعد یہ صورت حال نہیں تھی۔ اس وقت کے پیدا شدہ “Cracks”کا علاج ممکن بھی تھا اور کم خرچ بھی۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ اس وجوہات کی تحقیقات کی جائیں کہ گزشتہ دس سالوں اور تین صوبائی حکومتوں نے اس امر سے کیوں آنکھیں بند کیے رکھیں؟ کیا وہ ایسے ہی دن کا انتظار کررہی تھیں کہ کالج ناقابل استعمال ہوجائے؟ اور پھر اسے گراکر اربوں روپے سے دوسری عمارت بنائی جائے اور چند لوگوں کا بھلا ہوجائے۔ یہ تو ماننے والی بات نہیں کہ پاکستان میں اس “Calibre” کے انجینئرز نہیں کہ اس بلڈنگ کے نقصانات کو دور کرسکیں، لیکن جب حکومت نہیں چاہتی، تو ایک انجینئر کیا کرسکے گا؟ جو لوگ اختیار رکھتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ صرف ان کے پرکھوں یعنی ہندوؤں، بدھوں اور سکھوں کی یادگاریں محفوظ کریں۔ ان کے مائی باپ انگریز کی بنائی گئی عمارتوں کو قائم و دائم اور اصلی صورت میں رکھ سکیں۔ جہانزیب کالج سے ان کا ناتا نہیں بنتا۔ یہ تو ان ہزاروں غریب طلبہ کے لیے مقدس ہے جو یہاں ریاستی دور میں مفت تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں۔ سوات تو ان کو صرف اس لیے درکار ہے کہ اس کی معدنیات لوٹ لیں، جنگلات تباہ کرلیں، زمرد چرالیں اور امن وامان کا تیاپانچا کریں۔
دو دن پہلے سول سوسائٹی کے ایک نہایت متحرک شخص ’’مختصرف‘‘ خان سے اس موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر ان کی ’’کالج بچاؤ‘‘ مہم کے بارے میں کوئی میٹنگ ہوئی، تو آپ یہ سوال ضرور اُٹھائیں کہ کراچی کے فرئیر ہال “Frere Hall”کو سندھ حکومت نے کس طرح “Preserve”کیا ہے؟ وہ انگریز دور غلامی کی یاد گار ہے لیکن جہاں زیب کالج پاکستان ہی کے ایک نیم خود مختار علاقے کے مسلمان حکمران کی نشانی ہے۔ اس کی ’’پریزرویشن‘‘ میں کون سا امر مانع ہے؟
حکومت سواتیوں کے لیے جہانزیب کالج کا نعم البدل ضرور بنائے لیکن اس مقدس عمارت کو گرانے سے گریز کریں۔ اگر حکومت ایسا نہیں کرتی، تو سواتیوں کو ایک ’’چندہ مہم‘‘ چلا کر اسے بچانے کا فریضہ خود ہی انجام دینا چاہئے۔ یہ اُن کا قومی فرض بھی ہے اور میاں گل جہانزیب کا قرض بھی ہے۔
میں روزنامہ آزادی اور مقامی اخبارات میں تمام سواتی لکھاریوں سے عموماً اور روح الامین نایابؔ، غلام جیلانی اور روخان صاحب سے خصوصاً درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس سلسلے میں اپنی تحریروں سے قوم کو احساسِ زیاں دلائیں۔ اس وقت مجھے اپنے گراں قدر فضل مولا زاہد صاحب یاد آرہے ہیں کاش اُن کی توانا آواز اس تحریک کی قیادت سنبھال سکتی، تو صورت حال یقینا مختلف ہوتی۔ میں سول سوسائٹی سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ آرام ترک کردیں اور قوم کو اس وقت ایک فعال قیادت فراہم کریں۔ احمد شاہ صاحب اور حاجی زاہد خان صاحب اُٹھئے اور کچھ کر دکھائیں۔ جہاں تک وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے اس استدلال کا تعلق ہے کہ اس درسگاہ کو قومی ورثہ اس لیے قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اسے بنے ہوئے سو سال نہیں گزرے ہیں، تو اس کا صاف مطلب تو یہ ہے کہ صرف انگریزوں کی یاد گار ہی قومی ورثہ بن سکتی ہے۔ اس دلیل میں کوئی وزن نہیں۔ یہ صرف ایک ٹھیکیدارانہ ذہن کی سوچ ہے۔ ایک سیاستدان ایسی بات کبھی نہیں کہہ سکتا۔ آپ اگر اس عظیم الشان عمارت کی ’’پریزرویشن‘‘ نہیں کرسکتے، تو اس کو اپنی حالت پر چھوڑدیں اور اسے فطری طور پر انجام تک پہنچنے دیں۔ خود اس کو مسمار نہ کریں۔
اس حوالے سے اپنا ایک قطعہ معمولی ترمیم کے ساتھ دوبارہ عرض ہے:
تورہا علم و تمدن کا ٹھکانہ برسوں
تو لٹاتا رہا دانش کا خزانہ برسوں
اجنبی لوگ ہیں اب تجھ کو گرانے والے
میرے کالج تجھے روئے گا زمانہ برسوں
738 total views, no views today


