مینگورہ،علاقہ فضاگھٹ کے رہائشی عادل زادہ نے کہاہے کہ پینتالیس دن قبل ان کی والد ہ گھر میں گرگئی جس کے نتیجے میں ان کا ایک ہاتھ ٹوٹ گیا جنہیں وہ فوری طبی امدادکیلئے سنٹرل ہسپتال لے گئے جہاں پر ڈاکٹرنے ان کے ہاتھ پر پلسترچڑھا کر بیس دن بعدآنے کو کہا،اپنی والدہ کے ہمراہ میڈیا کو تفصیلات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر کے کہنے پر وہ بیس دن بعدوالدہ کودوبارہ ہسپتال لے گیا جہاں پر ڈاکٹرنے معائنہ کرنے کے بعد پرائیویٹ ایکسرے کرانے کی ہدایت کی اسی طرح ان کی ہدایت پرپرائیویٹ لیبارٹری میں سترہ عددایکسر ے کرائے ،انہوں نے کہاکہ اس کے بعدڈاکٹر نے دوبارہ بیس دن بعدآنے کو کہا،اس دوران میری والدہ شدید تکلیف میں مبتلا رہی تاہم کل جب ہسپتال گئے تو ڈاکٹر نے پلسترنہیں کھولا ،والدہ کی تکلیف کے پیش نظر ہم انہیں پرائیوٹ ہسپتال لے گئے جہاں پر پلسترکھولا گیا تاہم والدہ کاہاتھ ٹیڑھا ہوگیا تھا،انہوں نے کہاکہ اس دوران سولہ ہزارروپے کی ادویات بھی خرید یں مگر والدہ کی تکلیف میں کوئی کمی نہیں آئی،انہوں نے اس سلسلے میں محکمہ صحت کے حکام سے تحقیقات اوروالدہ کا سرکاری سطح پر علاج کرانے کی اپیل کی۔
612 total views, no views today


