سیاست میں جھوٹ کی بکثرت ملاوٹ نے عام آدمی کو اس کے بارے میں پڑھنے سے بھی اپنی طبیعت مکدر محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس لیے راقم بہت کم ہی اس میدان میں طبع آزمائی کرتا ہے۔ اس لیے آج بھی منہ میٹھا کرنے والی چیز ہی سے لکھنے کا آغاز کرتا ہوں یعنی مٹھائی، مگر یہ ایسی مٹھائی یا سویٹ ہے جسے کھانے والا بھی پچھتائے اور نہ کھانے والا بھی۔
آپ سمجھ گئے ہوں گے، میرا اشارہ ’’شادی‘‘ خانہ بربادی ہی کے بارے میں ہے۔ ایک دوست کے بقول اگر آپ کسی اجنبی گھر کے کمرے میں گھس جائیں، وہاں میز اور الماریوں میں آپ کو خوشبودار پرفیومیز، بیڈ منٹن کے ریکٹس، جاگنگ شوز اور ہائی فائی ڈیک کے ساتھ بہترین ناولوں اور سی ڈیز کی کلیکشن نظر آئے، تو سمجھ جائیں کسی کنوارے کے کمرے میں گھس پڑے ہیں۔
اور اگر کمرے میں آپ کو ایک طرف میز پر سردرد کی گولیاں، ساتھ میں نظر کی عینک، پیمپرز کا ادھ کھلا پیکٹ، قالین پر لڑھکتا فیڈر اور سامنے والی الماری میں ہیئر کلر ٹیوب کے ساتھ ’’موت کا منظر‘‘ نامی کتاب نظر آئے، تو سمجھ لیجئے یہ اُس بے چارے، قابل اور ہمدرد انسان کا کمرہ ہے جو یہ مٹھائی دو عشرے قبل تناول فرما چکا ہے۔
ہاں، یاد آیا کسی گھر میں شادی تھی اور قربانی کا بکرا، معاف کیجئے دولہا بے چارہ دُلہن کو لینے مع باراتیوں کے موصوفہ کے گھر پہنچ گیا۔ خوشی سے اُس کی باچھیں کھلی جارہی تھیں۔ ڈھول بتاشے بج رہے تھے۔ دوسری طرف لڑکی کی ماں، بیٹیاں اور والد صاحب رو رہے تھے۔ دُلہن بے چاری نے تو رو رو کر آسمان سر پر اُٹھا لیا تھا۔ ایسے میں دلہن کے چھوٹے بھائی نے اپنے والد صاحب کا ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا: ’’ابو یہ سب کیوں رو رہے ہیں اور دُلہا بھائی کیوں منہ پر رومال رکھے شرماتے ہوئے مسکرائے جارہے ہیں؟ باپ نے آنسو بہاتے اور ناک سے بہتے آبِ رقیق کو رومال میں جذب کرتے ہوئے اور ہچکیاں مارتے ہوئے کہا: ’’بیٹا! ہم تو آج رو کر چپ ہوجائیں گے، مگر آپ جو اس رومال کے پیچھے مسکراتے منہ کو دیکھ رہے ہیں۔ اسے ساری عمر رونا ہوگا۔‘‘
بات ہورہی تھی دُلہن کی، تو ہمارے ہاں ماؤں میں ایک عجیب سی عادت ہوتی ہے کہ دُلہن لاؤں گی اپنے چاند کے لیے مگر ’’کاسہ مخی‘‘ چاند کی طرح گول مٹول۔ اور اکثر کسی بدقسمت مستقبل کے شوہرِ نامدار میں موصوفہ کچھ زیادہ ہی گول مٹول نکل آتی ہیں۔ جیسا کہ ایک دلہا بے چارے کے ساتھ ہوا۔ اچھا خاصا یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا۔ فائنل ائیر میں تھا۔ ہاسٹل میں رہتا تھا۔ سمارٹ، دبلا پتلا، کلین شیو۔ نہ جانے اماں کو کیا سوجھی کہ ایسی ہی ایک گول مٹول، اَن پڑھ قسم کی لڑکی جس کا باپ ایک بڑے ہوٹل کا کھاتا پیتا مالک تھا، مانگ بیٹھیں۔ لڑکے نے انکار کیا مگر جب ماں نے روتے ہوئے فون پر کہا کہ دودھ کی دھاریں نہیں بخشوں گی، اگر انکار کیا تو۔ آخر قربانی کے بکرے کو ہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔ چند ماہ بعد شادی خوب دھوم دھڑکے سے ہوئی۔ دُلہا صاحب نے لڑکی نہیں دیکھی۔ بس ذہن میں اُس کا تصویر جمائے تیسرے دن عازم حجلۂ عروسی ہوا۔ کیوں کہ دو دن وہ اپنے دوست کی بیٹھک میں چھپارہا، جس نے اُسے دلہن کے لیے ایک شعر لکھ کردیا تھا۔ جب گھر پہنچا تو معلوم ہوا کہ دُلہن کی محترم بہن تا حال کمرے میں براجمان ہیں۔
چوتھے دن آخر بیگم صاحبہ سے شرف بازیابی کا موقع ملا۔ ہاتھ میں چند گلاب جامن لیے چھپتے چھپاتے عازم کمرہ ہوئے۔ ذہن میں انڈین فلموں کے اشعار کی مالا سجائے۔ ایک نازک اندام سی دلہن کے خیالی مخروطی انگلیوں کو تھامنے کے تصور کے ساتھ جب وہ کمرے میں داخل ہوئے، تو دُلہن صاحبہ کو ایک خراٹے لیتے ہوئے دیکھ کر اُن کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ ایسے لگ رہا تھا کوئی بھینس ابھی ابھی جگالی کرتے کرتے محو خواب ہوئی ہو۔
ذہن میں کلبلانے والے رومانوی اشعار نوحے میں بدل گئے۔ وہ دھپ سے کرسی پر گر پڑے۔
اچانک ایک کاغذ جو اُن کے ہاتھ میں دبایا ہوا تو جو اُن کے دوست نے لکھ کردیا تھا، غیر شعوری طور پر اُس کی تحریر نظروں میں گھوم گئی۔
شعلہ حسن سے نہ جل جائے تیرے چہرے کا نقاب
اپنے رخسار سے آنچل کو ہٹائے رکھنا
مگر ماں کے فیصلے نے اُس کے ارمان توجلادیئے تھے۔ نقاب جلے یا نہ جلے۔
728 total views, no views today


