سانحہ پشاور سولہ دسمبر 2014ء کے بعد خیبر پختونخواہ کے تمام سرکاری اسکولوں میں چار دیواری کو بلند کرنے اور اسکولوں کو دہشت گردوں سے محفوظ کرنے کے لیے ہر ایک اسکول کو فنڈ فراہم کیا گیا، تاکہ وہ اسکولوں کی دیواروں کو اونچا کریں اور دہشت گردوں سے ان کو محفوظ کریں۔ تمام اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر صاحبان نے اس کام کو خوش اسلوبی کے ساتھ سرانجام دیا اور تقریباً تمام اسکولوں کی دیواروں کو اُونچا کیا گیا۔ اس پر خار دار تار بھی لگایا گیا، تاکہ تعلیمی ادارے دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ چور اچکوں سے بھی محفوظ رہیں۔ ہیڈ ماسٹر صاحبان کا تسلی بخش کام دیکھ صوبائی حکوم تعلیم نے بعض اسکولوں کو جس میں مزید کمروں کی ضرورت تھی، کے لیے فنڈ ٹھیکہ داروں کے بجائے اسکول فنڈ میں جمع کردیا۔ تاکہ ہیڈ ماسٹر صاحبان بذات خود اسکولوں میں کمرے بنائیں۔ یہ حکومت کا ایک اچھا اقدام تھا۔ کیوں کہ جو رقم ٹھیکہ داروں یا کسی اور کو منتقل ہوجاتی ہے، اس میں آدھی سے زیادہ رقم دوسروں کی جیب گرم کر دیتی ہے اور باقی رقم میں ناقص میٹریل کے استعمال سے کام مکمل ہوتا ہے۔ یہ عمل قوم کے مستقبل کے ساتھ سراسر ظلم تھا ۔
قارئین کرام! ایسے ڈھیر سارے اسکول میری نظر میں ہیں جن میں کنسٹرکشن کا کام خوش اسلوبی کے ساتھ جاری ہے۔ سرِ دست یہاں میں صرف گورنمنٹ پرائمری اسکول آسوگے کبل کا ذکر کروں گا جس کو ہیڈ ماسٹر حنیف اللہ صاحب نے نہایت دیانت داری کے ساتھ سرانجام دیا۔ علاقہ اسوگے کے ممبر اور اسکول کے چیئرمین جناب محبوب الرحمان، اکرام اللہ استاد صاحب، اسکول کے کلاس فور اور ہیڈ ماسٹر صاحب کے شانہ بہ شانہ موجود رہے اور بغیر کسی لالچ اور معاوضہ کے اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔ جناب چیئرمین محبوب الرحمان ہر وقت مزدوروں کے ساتھ موجود رہتے، تاکہ ناقص میٹریل کا استعمال نہ ہو۔ اس کے علاوہ وہ بذات خود نو تعمیر شدہ عمارت کی ترائی کی خدمات انجام دیتے رہے، تاکہ عمارت کی مضبوطی قائم رہے۔ جناب ہیڈ ماسٹر صاحب کو صرف چار دیواری کو اُونچا کرنے اور دو کمرے بنانے کے لیے ایک محدود رقم دی گئی تھی لیکن اس رقم میں حنیف اللہ صاحب نے وہ کام کر دکھایا جو باقی ماندہ اسکولوں کے لیے ایک مثال ہے۔ مذکورہ رقم کی مدد سے سب سے پہلے ہیڈ ماسٹر صاحب نے اسکول کی چاردیواری کو مزید چار فٹ بلند کیا اور دونوں اطراف کو پلستر کرکے اس پر خاردار تار لگا دیا۔ اس کے بعد اسکول میں دو نئے کمروں کی تعمیر شروع کردی۔ چوں کہ اسکول پہاڑی علاقہ میں ہے اور اس میں ہموار سطح کم ہے، لہٰذا ہیڈ ماسٹر صاحب نے بچوں کی اسمبلی والی جگہ کو کمروں کے لیے منتخب کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اسی مخصوص شدہ رقم میں ایک جگہ کی کٹائی شروع کر دی۔ اس جگہ کی کٹائی کے ملبے سے انہوں نے نئے دو کمروں کی بھرائی کے ساتھ ساتھ پورے اسکول کی بھرائی کی اور اس کی سطح کو ہموار بنایا۔ یوں طالب علموں کے لیے اسمبلی اور کھیل کود کا انتظام بھی ہوا۔ اس کے علاوہ اسکول میں اساتذۂ کرام کے بیٹھنے کے لیے کوئی مخصوص جگہ نہیں تھی۔ وہ اسکول کے برآمدے میں بیٹھا کرتے تھے۔ لہٰذا ہیڈ ماسٹر صاحب نے اسی فنڈ میں اساتذۂ کرام کے لیے ایک الگ دفتر کا انتظام بھی کیا۔ ان مسائل کے ساتھ اسکول میں پانی کا بھی مسئلہ درپیش تھا۔ اسکول کا کلاس فور ہر روز دور دور سے پانی لے آتا تھا جو اس کے لیے ایک مشکل کام تھا۔ پھر ڈھیر سارے بچوں کو پانی فراہم کرنا کہاں ایک آدمی کے بس کی بات ہے؟ جناب حنیف اللہ صاحب نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کام کے دوران میں اسی فنڈ میں اسکول کے اندر کنویں پر بھی کام شروع کیا۔ یہ اُن کے خلوص اور صاف نیت کا ہی نتیجہ تھا کہ کنواں کامیاب رہا اور اس پہاڑی علاقہ میں صرف ستّر بہتّرفٹ کی کھدائی کے بعد کنویں میں پانی آگیا جو اسکول کے لیے ان کا تحفہ ہے۔
اس کے علاوہ اسی فنڈ میں جناب حنیف اللہ صاحب نے اسکول کی پرانی چاردیواری کا پلستر جو ناقص میٹریل کے استعمال سے جگہ جگہ اکھڑ گیا تھا، دوبارہ پلستر کیا اور ساتھ ساتھ پورے اسکول کے فرش کو بجری سے پختہ کیا۔ کبل سرکل کے اے ڈی او جناب فضل ربی صاحب وقتاً فوقتاً اسکول کا معائنہ کرتے رہے اور کام کو سراہتے رہے۔ اسکول میں اب صرف رنگ و روغن، کھڑکیوں اور دروازوں کا کام باقی ہے جو ان شاء اللہ اسی فنڈ میں مکمل ہوجائے گا۔
حنیف اللہ صاحب کی اس اسکول کے حوالے سے ایک دیرینہ خواہش ہے۔ ساتھ ساتھ یہ اہل علاقہ کا مطالبہ بھی ہے کہ حکومت اس اسکول کو مڈل کا درجہ دے، تاکہ یہ مینارہ نور اسی طرح نور پھیلاتا رہے۔
694 total views, no views today


