پتہ نہیں آگے کیا ہوا ہوگا کیونکہ میں نے لطیفہ یہاں تک سنا ہے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں روز بروز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں کہ اب لطیفے بھی سچ لگنے شروع ہوگئے ہیں۔ شاید آپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال قصہ خوانی بم دھماکے میں شہدا کے ساتھ ساتھ ایک بے ہوش زخمی کو بھی تابوت میں بند کیا گیا تھا۔ وہ تو اچھا ہوا کہ عین جنازے کے دوران اسے ہوش آیا ورنہ منوں مٹی تلے تابوت کے اندربے موت مر جاتا۔ ویسے بھی آج کل مجذوب بابا کی طرح اللہ والے تو ہیں نہیں، جو زندہ اور مردہ کے فرق کو پہچان سکیں۔
کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ طلبہ شرارت کے طور پر مسجد کے باہر ایک زندہ لڑکے کا ’’جنازہ‘‘ لے آئے اور مجذوب بابا کوبلاکر کہا کہ اس کا جنازہ پڑھائیں۔ مجذوب بابا نے کچھ لمحے توقف کیا اور پھر جنازہ پڑھایا۔ اب طالب علموں نے ہنسنا شروع کیا اور فقرے کسنے لگے: ’’یہ دیکھیں، بڑا بزرگ بنا پھرتا ہے۔ ایک زندہ بچے کا جنازہ پڑھا لیا۔‘‘ جب شور بہت زیادہ ہوا، تو مجذوب بابا نے کہا: ’’اللہ کے بندو! مجذوب زندوں کے جنازے نہیں پڑھاتا۔ جب تک وہ زندہ تھا، میں لیت و لعل سے کام لیتا رہا لیکن جس وقت میں نے جنازہ پڑھنا شروع کیا، وہ مرچکا تھا۔یقین نہیں آتا تو جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔‘‘ طلہء نے فوراً جاکر دیکھا، تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، کیونکہ بچے کی روح قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی اور آئے ہوئے طلبہ اپنے دوست کو کھوچکے تھے۔
جس طرح سردارنی کو اپنے زندہ شوہر سے زیاد ہ ڈاکٹر کے اوپر یقین تھا، بالکل اسی طرح جب مقتدر اداروں اور حکمرانوں نے کہہ دیا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑدی گئی ہے، تو ہم نے بھی سکھ کا سانس لے لیا کہ اس معاملے میں یہ لوگ بہت سیانے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان ’’بدبختوں‘‘ کو چونکہ ہمارے ادارے اور حکمران اچھی طرح جانتے ہیں اورباہمی راہ و رسم کی ایک طویل داستان رکھتے ہیں، تو اس لئے جب انہوں نے کمرتوڑنے کا اعلان کر دیا، تو ہم نے آنکھیں بند کرکے یقین کرلیا کہ اب تو انشاء اللہ جان چھوٹی۔ اس لئے نہ ہم نے میڈیکل رپورٹ طلب کیا، نہ کمر کا ایکسرے، نہ بعد از علاج پرہیز اورنہ ہی اس آپریشن پر آنے والے اخراجات کاحساب۔ ہم نے کسی سے یہ بھی نہ پوچھا کہ اس کمر کو توڑنے کے لئے اپنے کتنے بازو ٹوٹے ہیں، کتنے سینے چھلنی اور کتنی سر پھٹ چکے ہیں؟ ہم نے یہ بھی نہ پوچھا کہ صاحب! کچھ بچت بھی ہوئی ہے یا کولیشن سپورٹ فنڈ میں ابھی تک خسارہ ہی خسارہ چل رہا ہے۔ ہم نے زمینوں کا حساب، مارشل لاؤں کا شمار، چیک پوسٹوں کی قطار، مشرفی یلغار، ملک ریاض، ڈی ایچ اے سٹی اور ارسلان افتخار، ریمنڈ ڈیوس اور پتہ نہیں کیا کچھ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ ہمیں تو بس ایک ہی چیز کی خوشی تھی کہ اب کمر ٹوٹ گئی ہے اور اب ہم قدرے محفوظ ہیں، لیکن آج احساس ہوا کہ کمر ٹوٹ گئی ہے لیکن شائد انہوں نے افغانستان کے کسی کارخانو مارکیٹ سے نئی کمر خرید لی ہے۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ جب سے دیسی کمر کے بجائے ’’ودیشی کمر‘‘ دہشت گردوں نے استعمال کرنا شروع کیا ہے، اسی دن سے روز ہمیں کچھ نہ کچھ دکھ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ پچھلے ہفتے سوات کے دو نوجوان پولیس سپاہیوں کو نامعلوم افراد نے گولی کا نشانہ بنایا۔ پھرجمرود روڈ پر کارخانو مارکیٹ کے پاس خاصہ دار فورس کی چیک پوسٹ کے قریب خودکش حملہ ہوا جس میں بارہ شہید اور پچیس افراد زخمی ہوئے۔ اسی دن پشاور ریگی کے علاقے سے چار بوری بند لاشیں ملی تھیں جبکہ جنوبی وزیرستان پر افغانستان سے راکٹ حملہ ہوا تھا جس میں تین افراد جان بحق ہوئے تھے۔ افغان علاقے برمل سے داغا گیایہ راکٹ انگوراڈہ میں دکان پر آگرا تھا، اس سے تین افراد جان بحق ہوگئے تھے جبکہ دوسر راکٹ ’’خوش قسمتی‘‘ سے ویرانے میں گرا تھا۔ ان ظالموں کو اتنی عقل نہیں کہ جن پر وہ راکٹ برسا رہے ہیں، وہ پہلے ہی ان ہی کی وجہ سے’’کولیٹرل ڈمیج‘‘ کے ’’مزے ‘‘لوٹ رہے ہیں۔ اگلے دن باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گردوں نے اندر گھس کر اکیس افراد کو شہید کیا جس میں پروفیسر سمیت درجن بھر طلبہ نے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے اگلے روز پشاور میں ایلیٹ فورس کے دوجوانوں کو نامعلوم افراد نے گولیاں مارکر شہید کیا اور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی روایتی تعزیتی بیانات اور کھوکھلے اعلانات۔ صوبے کے وزیراعلیٰ نے فرمایا: ’’آخری دشمن کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔‘‘ کوئی ان سے پوچھے، کہ جناب! کیا جنگ اس طرح لڑی جاتی ہے؟ اس سے زیادہ سنجیدگی سے تو ہمارے ہاں ساس اور بہوکی لڑائی لڑی جاتی ہے۔ محترم نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاق اور خیبرپختونخواہ ایک پیج پر ہیں اور نیشنل ایکشن پلان پر بھر پور عمل جاری ہے۔‘‘ مجھے تو یقین نہیں آرہا کہ انہوں نے ایسا کہا ہوگا اور اگر کہا ہے، تو ایک ’’غدار‘‘انہیں بھی سمجھا جائے۔ یہ عجیب ایک پیج ہے کہ جب بھی ترقیاتی کام ہو، وہ پنجاب میں اور جب بھی خون کی ندیاں بہیں، تو پختونخواہ میں۔ گورنر صاحب نے خیبر پختونخواہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’دہشت گردی اندرونی ہویا بیرونی ہو، خواہ کسی بھی نام اور شکل میں ہو اس کا صفایا کیا جائیگا۔‘‘ہمیں حسن ظن ہے کہ’’ اندرونی‘‘ سے گورنر صاحب ان دہشت گردوں کو بھی مخاطب کر رہے تھے جس کی سرپرستی رانا ثناء اللہ جیسے مسلم لیگی رہنما کررہے ہیں۔ ایپکس اجلاس میں اس عزم کا بھی اظہار کیا گیا کہ معصوم بچوں کو وحشت وبربریت کا نشانہ بناکر دہشت گردوں نے قوم کی غیرت کو چیلنج کیا ہے۔‘‘کاش!کوئی انہیں بتائیں کہ صاحب! تم لوگوں کوبھی کبھی غیرت آئے گی؟ افسوس آج تک تو نہ آسکی۔ اس اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ ’’عوام کے فعال تعاون سے انہیں دندان شکن جواب دیا جائے گا۔‘‘ماشاء اللہ، چشم بددور۔ عوام نے سقوط ڈھاکہ میں بھی فعال تعاون کیا تھا۔ وہ اب بدترین ریاستی انتقام کاشکار ہیں۔ کبھی ان کا حال احوال پوچھا ہے کبھی؟ فعال تعاون تو چارسدہ کے عوام نے کرکے بھی دکھایا۔ دہشت گردوں کو ’’ہٹ اینڈ رن‘‘ منصوبے میں کامیاب نہ ہونے دیا اور انہیں گھیر دیا۔ یہاں تک کہ فوجی جوان پہنچ گئے اور ان دہشت گردوں کو واصل جہنم کردیا۔ اب اتنا تو لوگ کررہے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے محترم، کیا اب عوام ٹینک بھی چلانا شروع کردیں؟ اس عوام نامی ’’بدبخت‘‘ مخلوق سے اور کتنی قربانیاں لینی ہیں۔ اسحاق ڈار نے تو ان کا پہلے ہی سے بھرکس نکالا ہوا ہے اور رہی سہی کسر آپ لوگ ’’کوریڈور‘‘ میں پورا کر دیں گے۔
ایک سیاسی قائد نے کہا کہ ’’باچاخان یونیورسٹی پر حملہ بزدلانہ فعل ہے۔‘‘ کیوں صاحب، آپ کو ان ظالموں سے بہادری کی توقع تھی جو پوری نہ ہوسکی؟ ہم بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ ان ’’بزدلوں‘‘ کے دانت کھٹے کرکے ثابت کردیجئے کہ آپ لوگ ان سے زیادہ بزدل نہیں ہیں، ورنہ ہم تو یہی سوچیں گے کہ آپ بھی خدانخواستہ……
ایک صاحب نے دس روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ’’جو ڈرتا ہے، وہ ہر روز مرتا ہے۔ موت داعش اور القاعدہ کے ہاتھ میں نہیں۔‘‘ کوئی اس محترم کا ریکارڈ درست کرتے ہوئے بس اتنا ہی کہہ دیں کہ یہ باتیں بشیر بلور شہیدجیسے لوگوں کے منہ سے ہی اچھی لگتی تھیں۔ آپ لوگ تو ایک دھماکے سے لندن بھاگنے والے اصحاب میں سے ہیں۔ اس لئے ایسے بیانات میاں افتخار حسین جیسے غازیوں سے دلوایا کریں۔
ایک صاحب نے ارشاد فرمایا کہ ’’دہشت گردوں کے مذموم عزائم کامیاب نہیں ہونے دینگے۔‘‘ اس صاحب پر کئی ایک خودکش حملے بھی ہوئے ہیں اور پچھلے دنوں اکبر بگٹی کیس سے باعزت بری بھی ہوئے ہیں۔ نیا نیا قوم پرست بنا ہوا ہے اور صوبائی حکومت میں شامل بھی ہے۔ اس محترم سے بس اتنی اپیل ہے کہ خدارا ، جس سنجیدگی کا درس آپ پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں عمران وقادری کے دھرنے کے خلاف دے رہے تھے، اس سنجیدگی کا مظاہرہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی کر دیجئے۔ ورنہ آپ کی قوم پرستی کے لئے پختون باقی نہ رہیں گے۔
ہر بار کی طرح اس بار بھی بڑے صاحب نے بریفنگ دیتے ہوئے فرمایا: ’’ان بزدلانہ کارروائیوں سے دہشت گرد قوم کا عزم متزلزل نہیں کرسکتے۔‘‘یہ صاحب ،اس مرتبہ بڑے غصے میں تھے اور اس مرتبہ تو اس کے منہ سے بے ساختہ گالی بھی نکلی۔محترم کے حضور میں کچھ کہنا خلاف اَدب ہی ہوتا ہے، اس لئے جان کی امان پاتے ہوئے، ہاتھ جوڑتے ہوئے اتنا عرض کریں گے ’’حضور، گالیاں نہ دیں۔ گالیاں تو کمزور لوگ دیتے ہیں۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے دنیا میں نمبر ون مانے جاتے ہیں۔ اس لئے گالیاں نہیں۔ صرف گولیاں اور وہ بھی ٹھیک ٹھیک نشانے پر اور ہوا سے نہیں بلکہ گھس گھس کر۔‘‘دل کے ایک کونے سے آواز آرہی ہے کہ چلا چلا کر یہ بھی پوچھ لوں: ’’صاحب! بتائیں نا، اور کب تک لڑنا ہے؟کوئی حتمی تاریخ؟ کوئی بھرپور لائحہ عمل؟ کوئی معلوم اہداف؟ کوئی واضح حکمت عملی؟ اور کتنی لاشیں، اجڑے گھر اورٹوٹے دل دیکھنے ہیں؟‘‘
804 total views, no views today


