مینگورہ ، تحصیل بابوزئی سوات کے کونسل کے بھاری اکثریت منظور ہونے والا قرارداد ٹھا ہ ، جنرل بس سٹینڈ پر ہونے والے قانونی کاروائی کے بعد 10ہزار روپے فی مربع فٹ زمین فروخت ہونے والے زمین کے قیمت سرکار نے 659 روپے مقرر کردیا ، دنیا بھر کے حکومتیں ادارے عوام کو سہولیات دیتے ہیں مگر یہاں پر حق اور سہولت چیھننے کا دور اور ہمیشہ گنگا اُلٹا بہتی ہے ،صوبائی حکومت نے انکھیں بند کرکے مینگورہ بائی پاس پر جنرل بس سٹینڈ کیلئے زمین پر قانونی کاروائی شروع کی جس پر متعلقہ زمینوں کے مالکانان نے احتجاج بھی کیا اور کہا کہ زمین مارکیٹ کی قیمت پر لیا جائے کیونکہ ہم ترقی کے خلاف نہیں بلکہ ترقی کی حمایت کرتے ہیں مینگورہ بائی پاس مینگورہ شہر پر ٹریفک کم کرنے کیلئے بنایا گیا تھا اگر اسی طرح آڈے اور دسرے پراجیکٹ مینگورہ بائی پاس پر بنتے رہے اور جس مقصد کیلئے بائی پاس بنایا گیا تھا وہ مقاصد کبھی بھی ان سے حاصل نہیں ہوں گے ، اس سلسلے میں تحصیل بابوزئی سوات کونسل نے ایک قرار داد کے ذریعے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جس جگہ پر جنرل بس سٹینڈ کیلئے جگہ کا تعین کیا گیا ہے وہ انتہائی غیر موزون جگہ ہے ، لہٰذا دوسری جگہ کا انتخاب عمل لایا جائے مگر نیچلی سطح کے عوامی نمائندوں کے فیصلے کو افیسر شاہی نے پاؤں تلے روندھ ڈالا اور دس ہزار روپے میں فروخت ہونے والے فی مربع فٹ زمین کی قیمت 659 روپے لگا یا گیا ہے ، لینڈ مافیاں کی ملی بھگت سے یہ منصوبہ شروع کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے پہلے آس پاس کے زمینوں کو خریدا ہے اس پراجیکٹ کے بعد ان کی زمینیں پیتل کے جگہ سونے میں تبدیل ہوجائیں گے ، جبکہ جن لوگوں کے زمینیں جنرل بس سٹیند میں آئے ہیں وہ انتہائی کمزور اور عام طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی زندگی بھر کے زندگی اس سے وابسطہ ہے ۔
638 total views, no views today


