مینگورہ ، پختون قوم ازل سے عدم تشدد کے نظرئیے پر کاربند ہے اس لئے پشتو کی ہم عصر زبانوں کے خاتمے کے باوجودبھی پشتو زندہ ہے اور تا قیامت زندہ رہے گی، پختون ثقافت کی احیاء کیلئے موجودہ صوبائی حکومت کی کاؤشیں قابل ستائش ہیں ، ان خیالات کا اظہار محکمہ ثقافت کے ثقافتی ورثے کی احیاء پر وگرام کے تحت سوات یوتھ فرنٹ کے زیر اہتمام ادبی و ثقافتی تڑون کے اشتراک سے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ مشاعرہ سے خطاب کر تے ہوئے صدر مجلس ممتاز ادیب وودانشور بدر الحکیم حکیم زئی نے کیا، انہوں نے کہا کہ پشتو صرف زبان ہی نہیں بلکہ ہماری ثقافت بھی ہے اور ہمیں پشتو کو زندہ رکھنے کے مطالبات کے بجائے پشتو کو زندہ اور تابندہ رکھنے کیلئے اپنی ذات سے آغاز کر تے ہوئے اپنے بچوں ، کاروباری اداروں، رہائشی آبادیوں اور تعلیمی اداروں کے نام پشتو زبان میں رکھنے چاہئے ، انہوں نے شعراء ادیبوں اور فنکاروں کو ماہانہ اعزازیہ جاری کرنے پر صوبائی حکومت کو خراج تحسین پیش کر تے ہوئے اسے تاریخی کارنامہ قرار دیااور کہا کہ ثقافتی ورثے کی احیاء کا پرو گرام تاریخی اقدام ہے اور اس کے ثقافتی ورثے کی احیاء پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوں گے ، مشاعرے سے خطاب کر تے ہوئے سوات یوتھ فرنٹ کے آرگنائزر حارث بدر نے پر وگرام کے تحت سوات کے چھ تحصیلوں میں جاری سر گرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ، مشاعرے میں42شعراء کرام نے اپنا کلام پیش کر کے شرکاء سے داد وصول کی ، مشاعرے میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ممتاز شاعر ظفر علی ناز نے سرانجام دیئے جبکہ مہمان خصوصی عبدالعلی اشناء اور ناولنگار پائندہ محمد خان تھے۔
735 total views, no views today


