سوات ، عورت فاؤنڈیشن کے آواز اور جوابدہی پروگرام کے تحت سوات میں خواتین اسمبلی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تیس سے زائد خواتین نے شرکت کی۔ اسمبلی اجلاس میں معلومات تک رسائی کے قانون 2013 پر تفصیلی بحث ہوئی اور اس بات کا اعادہ کیا گیا، کہ خواتین متعلقہ محکموں تک اپنی رسائی کو یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کریں گی۔ خواتین اسمبلی نے ضلع سوات میں خواتین کو درپیش مسائل خصوصا سہولیات کے حصول میں رکاؤٹوں پر تفصیلی بحث کی۔ اور ضلع سوات کی خواتین کی موثر سہولت کاری کے لئے اپنے مطالبات پیش کئے۔ خواتین اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ خواتین کے لئے پولیس تھانوں میں علیحیدہ ڈسک بنائے جائے اور خوتین اہلکار تعینیات کئے جائے۔ ہر یونین کونسل کی سطح پر خواتین کے لئے زچہ بچہ سنٹرز تعمیر کئے جائے۔ تعمیر وترقی کے کاموں میں خواتین کو شامل کیا جائے اور خواتین کونسلرز کو اضافی فنڈز دئے جائے، تاکہ وہ ترجیحی بنیادوں پر خواتین کے لئے کام کرسکے۔ ناخواندہ خواتین کے لئے روزگار سکیمیں متعارف کرائی جائے اور تعلیم یافتہ خواتین کو ملازمت کے مواقع فراہم کئے جائے۔ تحصیل اور ضلع کی سطح پر ہسپتالوں میں خواتین کی سہولت کاری کے لئے فی میل الٹرا ساؤنڈ اور ایکسرے ٹیکنیشن تعینیات کئے جائیں ۔ ویلج کونسل کے تمام دفاتر میں خواتین کی سہولت کاری کے لئے خواتین اہلکاروں کے لئے کوٹہ مختص کئے جائیں تاکہ خواتین کی رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔نادرا دفاتر میں خواتین کے لئے علیحیدہ ڈسک بنائے جائے اور خواتین اہلکار تعینیات کی جائیں ۔ یونین کونسل کی سطح پر خواتین کے لئے انفارمیشن سیلز بنائے جائیں تاکہ خواتین کی معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے، جبکہ خواتین اسمبلی سوات نے آخر میں یہ پرزور مطالبہ بھی کیا ، کہ تمام سرکاری محکموں کے اہلکاروں میں صنفی شعور اجاگر کرنے کیلئے موثر اقدامات کئے جائیں۔
580 total views, no views today


