سوا ت یو نیورسٹی کے چیف پراکٹر حضرت بلال صاحب نے جب یونیورسٹی میں لڑکوں اور لڑکیوں کے مل بیٹھنے اور گھومنے پر پابندی لگائی، تو میں سوچنے لگا کہ کیا انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے یا پھر اختیارات کا؟ کیا چیف پراکٹر نے یہ فیصلہ اسلامی تعلیمات کی رو سے کیا ہے یا پختون روایات کو برقرار رکھنے کی خاطر اور یا پھر اس کی وجہ کسی بھی دہشت گردی کے ممکنہ حملے سے بچنا ہے؟ میں فی الحال اس بحث میں پڑنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔
چارسدہ میں جب باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کا حملہ ہوا، اس میں ہم نے اپنے اکیس جوان کھودیئے جو کہ مستقبل کے درخشاں ستارے تھے۔ خدانخواستہ اگر یہ حملہ سوات یونیورسٹی پرہوا ہوتا تو……؟ اب تک کوئی یونیورسٹی یا کوئی کا لج یہ گارنٹی نہیں دے سکا کہ ان کے سیکورٹی انتظامات ’’فول پروف‘‘ ہیں۔ اس طرح جو قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، ان کو یا ان کے سوگواروں کو بھی تاحال کوئی انصاف نہیں مل سکا ہے۔ البتہ حملے کے بعد طالبان کے ایک دھڑے کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی اور کالجز ایسی جگہیں ہیں جہاں سے ڈاکٹر، انجینئر، اعلیٰ آفیسر اور جرنل وغیرہ نکلتے ہیں جو کہ ہماری بقا کے لئے مستقبل میں خطرہ بن سکتے ہیں۔ سو ہم کل آنے والے خطرے کو آج سے ہی ختم کرنے کا آغاز کرتے ہیں۔ تو کیا اب یہ سوات یونیورسٹی کے لئے کسی خطرے کی دستک نہیں؟ ہم اس دستک کو بار بار سن کے بھی اَن سنی کیوں کر رہے ہیں؟ خدارا! اس دستک کو سنیں۔ سوات ابھی تک حالت جنگ میں ہے۔ اس صورتحال میں چیف پراکٹر صاحب کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ کیونکہ طالبان ہمارے بچوں کے تعلیم کے حصول کے بالکل خلاف ہیں۔ اس صورتحال میں یہ فیصلہ برقرار رکھا جانا بہتر ہے۔ کل کف افسوس ملنے کے بجائے آج اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا ہی عقل مندی ہے۔
سوات یونیورسٹی سوات کا اثاثہ ہے۔ اس ادارے میں خوف کی فضا کو ختم کرکے تمام تر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھی جانے کیلئے یہ اچھا اقدام ہے۔ تاکہ دہشت گردوں کو کوئی بہانہ نہ مل سکے۔ ورنہ کل یہ ذمہ واری سوات یونیورسٹی کی انتظامیہ پر عائد ہوگی جوکہ اس فیصلے پہ نظرثانی کے حق میں ابھی تک نہیں ہیں۔
میں نے اپنے ہی ایک آرٹیکل میں لکھا تھا: ’’میری جنت نظروادیٔ سوات پر جو داغ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے لگا ہے، وہ اب صرف سوات میں وومن یونیورسٹی کے قیام سے ہی دھل سکتا ہے۔‘‘ حالات چاہے کچھ بھی ہوں، سوات میں ایک وومن یونیورسٹی کا قیام اب بے حد ضروری ہے تاکہ وہ بچیاں پُرسکون ماحول میں اچھی تعلیم کے حصول کو ممکن بنا سکیں۔ پھر چیف پراکٹر صاحب کو ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ میرے اُس آرٹیکل ’’باچا خانی پکار دہ‘‘ کے دو دن بعد ملا لہ یوسفزئی کے والد صاحب ضیاء الدین یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں سوات میں وومن یونیورسٹی ملالہ کے نام سے بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اب یہ انہوں نے میرا کالم پڑھنے کے بعد سوچا یا ان کا ارادہ پہلے سے ہی ایسا تھا، یہ تو اُن سے پوچھنا پڑے گا۔ خیر، میرا ذاتی خیال تو یہ ہے کہ ملالہ کے نام سے ہماری بچیاں غیر محفوظ ہوں گی۔ سو وہ یہ نیک عمل کی تکلیف اپنے ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اٹھائیں، تو ہی بہتر بات ہوگی۔
آخر میں ایک بات شیئر کرنا چاہتا ہوں، اپنے معزز دوستوں سے کہ کچھ عرصہ قبل میں نے اپنا قلم کو ایک کونے میں رکھ دیا تھا۔ کیونکہ مجھے محسوس ہواتھا کہ میرے چند دوست جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا بلکہ ابھی تک سیکھ رہا ہوں، میرے لکھنے سے خوش نہیں ہیں، مگر پھر میں نے سوچا کہ میں لکھوں گا اپنے دلی سکون کے لئے۔ کیونکہ میں ان میں سے نہیں جو ظلم ہوتا دیکھیں اور پھر بھی چپ رہیں ۔ ہاں میں ایسا بالکل نہیں ہوں۔
702 total views, no views today


