مینگورہ ، علاقہ سنگوٹہ کے رہائشی سردارعلی نے کہاہے کہ گیارہ جون 2015کو ان کا بیٹاقتل ہوا تاہم مخالفین کے مسلسل جرگوں سے ہماری صلح ہوگئی مگر اس کے باوجود بھی اب مخالفین مجھے دھمکیاں دے رہے ہیں،پچھلے دنوں مجھے دفتربلا کر زدوکوب بھی کیا اور بعدازاں میرے خلاف تھانے میں رپورٹ بھی درج کرائی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز سوات پریس کلب میں بچوں اوررشتہ اروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہاکہ نیازاحمد کے بھتیجے نے 2015میں میرے بیٹے کو گولی مارکر قتل کیا جس کے بعد ہماری صلح ہوگئی مگر نیازاحمدنامی شخص کے ساتھ دفترمیں کام کرنے والاامجدسحاب نامی نوجوان اب میرے پیچھے پڑگیا ہے اورفون پر دھمکیاں دیتاہے یہ دونوں صحافت کا ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں،پچھلے دنوں مذکورہ نوجوان نے مجھے اپنے موبائل سے ایس ایم ایس کیا جس میں لکھا تھا کہ میں تین بجے ان کے آفس واقع جی ٹی روڈ مینگورہ آؤں جب میں مقررہ وقت پر گیا تو امجدسحاب میرے ساتھ الجھ گیا اورکہاکہ تمہاراایک بیٹا نیازاحمد کے بھتیجے نے ماراہے اور باقی دوبچوں کو میں مارڈالوں گا ،اس دوران نیازاحمد نے کہاکہ ابھی ہم خوداپنے آفس میں توڑپھوڑ کریں گے اور تم پر حملہ کرنے کا الزام لگادیں گے جبکہ امجدسحاب نے مجھ پر دلالی کرنے اورشراب سپلائرکے الزامات بھی لگائے،انہوں نے کہاکہ لوگوں نے بچ بچاؤ کیا جس کے بعد میں اپنی جان بچانے کی خاطر وہاں سے چلاگیا مگر کچھ دیربعدمجھے مینگورہ پولیس اسٹیشن سے فون آیا جس پر میں تھانے میں حاضر ہوا جہاں پر پولیس کے سامنے اپنی وضاحت کی اوررخصت ہوا مگر دوسرے دن نیازاحمداورامجد سحاب نے میرے خلاف اخبارات میں بیانات شائع کرائے جس میں لکھاتھا میں نے ان پر حملہ کردیا ہے جوکہ سراسرجھوٹ ہے ،انہوں نے کہاکہ بیٹابھی میراماراگیا اور دھمکیاں بھی مل رہی ہیں لہٰذہ اگر میرے بچوں کو کوئی نقصان پہنچاتو میراذمہ دارامجدسحاب اورنیازاحمد ہوں گے ،انہوں نے کہاکہ اگر میں مجرم ہوں تو مجھے سزادی جائے اور اگر بے گناہ ہوں تو مجھے انصاف دیاجائے۔
678 total views, no views today


