سوات،آمن کے قیام کے بعد سوات میں کسی شادی بیاہ کے تقریبات میں ہوائی فائرنگ اور آتش بازی کے دوران دھماکوں کی اجازت نہیں دی جاتی تھی تاہم گزشتہ ایک مہینے سے مینگورہ شہر کے بااثر خاندان ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیکر شادی بیاہ کے تقریبات میں آتش بازی کے دوران دھماکے اور ہوائی فائرنگ کرتے نظر آتے ہیںشادی بیاہ کے تقریبات میں اتنے زور وشور سے آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کا مظاہرہ کیا جاتاہے کہ شہر بھر کے عوام میں اس سے شدید خوف وہراس پھیل جاتاہے
اور لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کہیں شہر میں کسی پولیس یا فوجی چیک پوسٹ پر حملہ ہوا ہے اور حملے کے بعد دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے عوام تزبزب کی حالت میں ایک دوسرے کو فون کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے دھماکوں اور فائرنگ کے بارے معلوما ت کے لئے فون گھماتے ہیں ادھر باوثوق زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شادی بیاہ کے تقریبات میں آتش بازی کے دوران دھماکوں اور فائرنگ کی اجازت باقاعدہ طور پر مقامی پولیس کے طرف سے لی جاتی ہے عوامی حلقوں نے ڈی سی سوات اور ڈ ی پی او سوات سے مطالبہ کیا ہے کہ خوشی کے تقریبات میں خوشی کا اظہار کرنا ہر شہر ی کا حق ہے لیکن سوات جسے علاقے میں ایسے آتش بازی اور ہوائی فائرنگ سے عوام میں شدید خوف وہراس پھیل جاتاہے اس لئے یا تو شہر بھر میں آتش بازی اور ہوائی فائرنگ کے بارے شہریوں کو اعلانات کرکے آگاہ کریا جائے یا اتش بازی اور ہوائی فائرنگ پر سے پابندی لگادی جائے تاکہ سوات کے ذہنی طورپر مفلوج عوام مزید ذہنی کوفت کا شکار نہ ہو۔
407 total views, no views today


