جب مجھے علم ہی نہ تھا، جب مجھے خبر ہی نہ تھی، تو میں شورکیوں مچاتا، واویلا کیوں کرتا۔ اب جب یہ بری خبر مجھے وسعت اللہ خان بی بی سی اُردو ڈاٹ کام سے اخذ شدہ روزنامہ چاند کے کالم ’’بُراہومشیل اور ملالہ وغیرہ کا‘‘ پڑھنے کو ملا، تو پاؤں سے زمین کھسک گئی، سر چکرا گیا۔ دن کو بھی آسمان میں تارے نظر آنے لگے کہ افریقہ کے مسلمان ملک نائجیریا کے شمالی صوبے کے قصبے چیبوک کے گورنمنٹ سیکنڈری گرلز اسکول کے ہاسٹل سے بارہ تا پندرہ برس کی طالبات کو اغواء ہوئے لگ بھگ ایک ماہ ہوچلا ہے۔ یہ طالبات ایک نہیں دو نہیں بلکہ دو سو چھتر کی تعداد میں ہیں، اتنا بڑا سانحہ ہوا اور ہمارے مسلمان ممالک یکسر خاموش، گویا کچھ ہوا ہی نہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان اغوا ہونے والوں میں اب تک ترپن طالبات ظالموں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ دو طالبات سانپ کے کاٹنے سے مر گئی ہیں، بیس شدید بیمار ہیں اور درجن بھر سے اغوا کاروں نے نکاح کرلیا ہے۔ ان اغواء شدہ طالبات میں چند لڑکیاں عیسائی، باقی سب کی سب مسلمان ہیں۔ اس پر تشدد واردات کی ذمے دارتنظیم بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے واقعہ کے بائیسویں روز بعد منظر عام پر آنے والی وڈیو تقریر میں کہا کہ یہ لڑکیاں مغربی تعلیم کے حامیوں سے جاری لڑائی کا مال غنیمت ہیں، چناں چہ انھیں سر بازار نیلام کرنا یا لونڈی بنا کر رکھنا جائز ہے۔ یہ وہاں کی ایک اسلامی تنظیم کا مؤقف ہے۔ ہم مسلمانوں نے اسلام کا حلیہ بگاڑ کررکھا ہے۔ کہاں رسول مقبولؐ کا فرمان کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اور کہاں افریقہ کے نائجیریا ملک جو ایک عیسائی ملک ہے، اُس میں ایک تنظیم کا یہ ظالمانہ اور ناروا مؤقف؟ غزوہ بدر میں کفار مکہ 70 قیدی مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئے تھے، جس جس قیدی نے فدیہ دینا تھا، وہ دے کر آزاد ہوگئے اور جو قیدی رہ گئے تو رسول مقبولؐ نے فرمایا کہ جو قیدی مسلمان بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھائیں، تو اس کے بدلے میں وہ بھی آزاد ہو جائیں گے۔ علم پر قدغن لگانے والو، ذرا اس فرمان پر غور کرنے کی تکلیف گوارا کرو کہ یہ جو مکہ کے قیدی تھے، یہ کون تھے؟ یہ سب کے سب کے کفار تھے اور ان کفار سے رسولؐ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے بچوں کو یعنی مسلمان بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھاؤ۔ تو یہ تمہاری طرف سے ایک فدیہ ہوگا اور اس کے بدلے تم آزاد ہوجاؤ گے۔ کیا یہ اسلامی تاریخ کا ایک حصہ نہیں ہے؟ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک مسلمان خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی، مرد ہو یا عورت وہ کفار سے بھی علم حاصل کرسکتا ہے۔ رسول مقبولؐ نے فرمایا تھا کہ علم حاصل کرو، خواہ اس کے لیے تمھیں چین جانا پڑے۔ اے عقل کے اندھو، ذرا اس پر بھی غور کرو کہ اسلامی تعلیمات کا مرکز چین تھا یا مدینہ منورہ؟ اسلام ساری دنیا کے لیے آیا ہے۔ یہ کسی ایک قوم یا ایک ملک کی میراث نہیں۔ ہر کوئی اسلام قبول کرسکتا ہے۔ ہر کوئی اس سے استفادہ کرسکتا ہے اور یہ قرآن مجید بھی تمام بنی نوع انسانی کے لیے چشمہ ہدایت ہے۔ قرآن مجید میں اے لوگو! سے مراد مسلمان اور مومن کے علاوہ ساری انسانیت ہے اور اس کتاب پر تمام انسانوں کا حق ہے۔ وہ سب انسانوں کے لیے قابل قبول ہے۔ یہ قرآن مجید اب بھی دنیا کے بڑے اسکالروں کے زیر مطالعہ ہے اور وہ اس سے استفادہ کرتے ہیں۔
1,699 total views, no views today


