پرزہ جات سے مل کر کوئی مشنری تشکیل پاتی ہے۔ مشینری ہی کے دم قدم سے بڑے بڑے کارخانے اور آمد و رفت کے لیے موٹر گاڑیوں کا سلسلہ رواں دواں رہتا ہے۔ انسان بھی انسانی پرزہ جات کا مرکب ہے۔ دل، گردے، معدہ، جگر، آنتیں اور وریدیں وغیرہ یہ تمام کے تمام پرزے ہیں۔ ان پرزوں کو درست مقامات پہ ترتیب کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ پھر انھیں ہڈیوں، پٹھوں گوشت اور جلد میں ملفوف و محفوظ کرکے اس میں روح پھونک دی گئی ہے۔ جب یہ مجموعہ ایک جیتا جاگتا جسم بن گیا، تو اسے علم و آگہی سے نوازا گیا، حرکات و سکنات سے واقفیت دی گئی، تو پھر اسے انسان کا نام دیا گیا۔ اس کے بعد اسے زمین پہ اُتار کر کچھ امور کی تکمیل اور ذمے داریاں سونپی گئیں۔ خیر بات ہو رہی تھی مشینری کی، تو مشینری کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ وقتاً فوقتاً خرابی کا شکار بھی ہوتی رہتی ہے۔ اسی طرح انسانی جسم میں بھی پرزوں کی خرابی رونما ہوتی رہتی ہے۔ بعض اوقات کئی انسانی پرزے بہ یک وقت توڑ پھوڑ کا شکار ہوکر انسان کو بیمار کرکے لیٹا دیتے ہیں۔
اس توڑ پھوڑ اور بیماری سے نجات حاصل کرنے کے لیے علاج کرایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیماریوں سے بچاؤ اور نجات حاصل کرنے کا طریقہ بھی بتادیا ہے۔ اور علاج کرنے والے مخصوص لوگوں کو منتخب کرکے انھیں حکمت کا علم بخش دیا ہے۔ علاج کرنے والوں کو معالج، طبیب یا ڈاکٹر کا نام دیا جاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی مرض کا شکار ہوجائے، تو وہ طبیب کے پاس جاکر اپنے مرض یا بیماری کا علاج کراتا ہے۔ جہاں باقاعدہ تشخیص کے بعد نسخہ دیا جاتا ہے۔ ہر دور میں تشخیص (معائنے) کے مختلف طریقے رائج رہے۔ عصر حاضر میں ہر بیماری کے علاج سے قبل ٹیسٹ واجب ہوچکے ہیں اور یہ طریقہ تشخیص اچھا بھی ہے، کیوں کہ طبیب ایک حتمی نتیجہ تک پہنچ کر علاج کی ابتداء کرتا ہے۔
کئی جذباتی لوگوں کا کہنا ہے کہ بات بے بات ڈاکٹرز حضرات، ہمیں ٹیسٹ کرانے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ لوگ بنا ٹیسٹ کے کچھ نہیں جانتے اور نہ ہی ہمارا علاج کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ ان میں پہلے والے حکماء کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ وہ حکماء جو ایک نظر دیکھ کر مریض کو پہچان لیا کرتے تھے، اب تو اگر کوئی بیماری سے مرتا ہے، تو مرجائے جب تک ٹیسٹ نہ کیا جائے، علاج کی ابتداء ہی نہیں ہوپاتی۔
خیر یہ تو عام لوگوں کا نظریہ یا خیال ہے۔ بیماری کی درست تشخیص یا ادراک کے لیے اگر ٹیسٹ کرالیا جائے، تو اس میں کوئی برائی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی نقصان ہے۔ بہ ظاہر ٹیسٹ پر دی گئی فیس تھوڑا سا پریشان ضرور کرتی ہوگی، ورنہ تو کسی بیماری کے لیے ٹیسٹ کرانے میں بہترین اور اچھائی ہی ہے۔
آج کل ایسی بیماریاں بھی موجودہیں کہ جو خاموشی سے اپنا کام کرجاتی ہیں اور مریض کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ جب تک مریض کو مرض کا پتہ چلتا ہے، تب تک مرض جڑ پکڑ چکا ہوتا ہے۔ لہٰذا ٹیسٹ کرانا بری بات نہیں ہے بلکہ ضروری ہے بیماری کو اگر ابتداء ہی سے گرفت میں لے لیا جائے، تو تندرست ہونے کے امکانات قوی تر ہوجاتے ہیں۔ کسی نے کہا تھا کہ ’’پرہیز علاج سے بہتر ہے‘‘۔
یہ بات بھی درست ہے لیکن پرہیز بیمار ہونے سے قبل کیا جائے، تو یہ بہتر ہوتا ہے اور اسے احتیاط کہا جاتا ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر زندگی گزارنا بھی صحت مند زندگی کی نشانی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ انتہائی احتیاط اور ورزشوں کے باوجود بڑی بڑی بیماریوں کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، تو ’’امر ربی‘‘ کو ٹالا نہیں جاسکتا اور نہ ہی موت سے بچا جاسکتا ہے۔ علاج، احتیاط اور پرہیز تو ایک انسانی حیلہ ہے اور یہ حیلہ کرنا ضروری ہے۔ علاج تو صحت کے حصول کے لیے کرایا جاتا ہے، اس سے زندگی نہیں بڑھتی۔ کیوں کہ زندگی کا تعلق سانسوں کی مالا سے ہے۔ جب تک سانسوں کی مالا سلامت ہے، انسان زندہ ہے۔ مالا ٹوٹتے ہی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ موت کے لیے کسی بیماری کا ہونا لازمی بھی نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ علاج سے گریز کرکے صحت مند ہونے کا آسرا رکھا جائے یا پھر یکسر زندگی سے مایوس ہوکر گوشہ نشین ہوجائے۔ اگر صحت اور تن درستی کی اہمیت کی بات کی جائے تو ہزار ہاقسم کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بہ خوبی لگایا جاسکتا ہے کہ چھوٹے بڑے، ان پڑھ تعلیم یافتہ، مرد اور عورتیں خواہ کوئی بھی ہو جب آپس میں ملاقات ہو، تو ایک دوسرے کی صحت کے بارے میں ضرور پوچھتے ہیں، جس کو خیریت پوچھنا کہتے ہیں۔
کسی سیانے نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک صحت مند جسم میں صحت مند ذہن ہوتا ہے۔ یہ بات بھی کسی حد تک دل کو لگتی ہے کہ اگر انسان کی صحت درست ہوگی، تو وہ مطمئن اور پرسکون ہوگااور بہتر کام کرسکے گا، اچھا سوچ سکے گا۔ مگر ہم نے تو ایسے تن درست و توانا لوگوں کو بھی دیکھا ہے کہ اُن کا ذہن کام نہیں کرتا۔ وہ ذہنی طور پہ بے حد کم زور ہوتے ہیں، مگر صحت کے لحاظ سے ہٹے کٹے ہوتے ہوتے ہیں۔ کئی پاگل اس دنیا میں موجود ہیں جو صحت مند ہیں، مگر اُن کا ذہن غیر صحت مند ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بے فکر لوگ ہی صحت مند ہوتے ہیں۔ جو کسی بات پہ سوچتے نہیں ہیں۔ یہ درست ہے کہ بے تحاشا سوچنا، وہم کرنا یا مختلف قسم کے وسوسوں کے شکار لوگ ذہنی اور جسمانی دونوں بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں، مگر بعض اوقات یہی بے حس لوگ بھی موذی امراض کا شکار ہوکر بستر پر پڑجاتے ہیں۔ خیر کچھ بھی ہو، حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرنا بہت سی جسمانی تکالیف سے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کیوں کہ عقل بھی بہت بڑی نعمت ہے، اسے کام میں لانے کا حکم ہے۔
صاف ستھری غذا اور اُبلے ہوئے صاف ستھرے پانی کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ کیوں کہ صحت کے لیے یہ دونوں ضروری اصول ہیں۔ ورزش کرنا، صحت افزاء مقامات کی سیر و تفریح کرنا، معدے جگر اور گردوں کو ترو تازہ رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی کااستعمال کرنا صحت پر مثبت اور دور رس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ کھانے میں زیادہ سے زیادہ سبزی، فروٹ اور سلاد کا استعمال مفید تر ہے اس سے نظام ہاضمہ درست رہتا ہے۔
کھانا کھانے سے قبل یاکھانے کے درمیان پانی پینا بہتر ہے۔ مگر کھانے کے فوراً بعد پانی کا استعمال مضر صحت ہے۔ اس سے پیٹ بڑھتا ہے اور قبض کے امکانات روشن ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا کھانا کھانے کے کم از کم ایک گھنٹہ بعدپانی پینا چاہیے۔
غذائیت کے حصول کے لیے حسب معمول دودھ، دہی اور لسی کا استعمال بھی مفید ہے۔ کبھی کبھار گوشت کا استعمال بھی صحت کے لیے ضروری ہے۔ اسی طرح دالیں، چاول وغیرہ بھی شامل خوراک رکھنی چاہئیں۔ بیماری میں گرفتار ہونے سے پہلے اگر احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہوا جائے، تو اس کی مثال ’’ضمانت قبل از گرفتاری‘‘ کی سی ہے اور یہ دانش مندی کا ثبوت ہے۔
لوگوں کو موت سے بچانے کی کوشش کرنے والے مسیحا بھی وقت آنے پہ مرتے رہتے ہیں۔ کوئی کسی کوحتمی فیصلے سے نہیں بچا سکتا اور نہ ہی علاج زندگی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک سربستہ راز ہے۔ مگر احتیاط اور علاج سے برگشتگی بھی خود سوزی و خودکشی کی طرح ہے۔
جسم و جان تو امانت ہے اور امانت کی نگرانی فرض سمجھ کر کرنی چاہیے۔
858 total views, no views today


