علم نفسیات میں عجیب و غریب اصطلاحات موجود ہیں۔ ان میں ایک اصطلاح نرگسیت کی بھی ہے جس کا مفہوم خود پسندی ہے۔ نرگسیت کی یہ اصطلاح قدیم یونان کی ایک دیومالائی کہانی سے لی گئی ہے جس کا کردار ’’نارس‘‘ نامی ایک خوب صورت ہیرو بتایا جاتا ہے۔ وہ اپنی خوب صورتی اور بہادری کے لیے بہت مشہور تھا لیکن اسے اپنے چاہنے والوں اور قرب و جوار کی دنیا سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ وہ محض اپنی تعریف سننے سے غرض رکھتا تھا اور اپنی تعریف سنتے سنتے وہ اتنا خود پسند ہوگیا تھا کہ ایک دن پانی میں اپنا عکس دیکھ کر خود پر عاشق ہوگیا۔ وہ ہر وقت پانی میں اپنا عکس تکتا رہتا تھا۔ کھانے پینے کا اسے ہوش نہیں رہا اس لیے بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوگیا۔ اس کا خیال تھا کہ اگر وہ پانی کو چھولے گا تو پانی کی سطح کے ہلنے سے اس کا خوب صورت عکس ٹوٹ جائے گا اور اس کی شکل کا جمال بے شمار ٹکڑوں میں بٹ جائے گا۔ چناں چہ وہ بھوک اور پیاس سے نڈھال ہوکر مرگیا۔ ایک دیومالائی کہانی میں لکھا گیا ہے کہ دیوتاؤں نے اسے نرگس کا پھول بنادیا جو عموماً دریا کے کنارے کھلتا ہے۔ اسی مناسبت سے خود پسندی کو نرگسیت کا نام دیا گیا ہے۔
نرگسیت انفرادی بھی ہوسکتی ہے اور اجتماعی بھی۔ نفسیات کے ماہرین کا خیال ہے کہ نرگسیت کی صحت مند حالتیں ہم سب میں موجود ہیں لیکن نرگسیت سے مراد بالعموم ایسی نرگسیت ہوتی ہے جس کا علاج ضروری ہوتا ہے۔ فرد کی مریضانہ نرگسیت اگر ایک طرف خاندان بھر کے لیے شدید مشکلات کا سبب بنتی ہے تو دوسری جانب اجتماعی نرگسیت انسانیت کی نشوونما کا راستہ روک لیتی ہے۔ میری مدعا یہاں مریضانہ نرگسیت پر قلم اٹھانا ہے۔ صحت مند خود اعتمادی، مسابقت کی خواہش، خود شناسی، خود بینی اور خود نگری جیسے جذبات شخصیت کی صحت مند شکلیں ہیں جنھیں صحت مند نرگسیت بھی کہا جاسکتا ہے۔
اجتماعی نرگسیت کی مشابہت صرف پشتونوں تک محدود نہیں۔ بھارت، جاپان، یورپ یہاں تک کہ افریقہ کے کمزور ترین معاشروں میں بھی نرگسیت کا مزاج یکساں ہے۔ جہاں بھی نرگسیت موجود ہے، وہاں اجتماعی اور انفرادی نرگسیت کی خصوصیات کا حلیہ اکثر ایک سا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جاپانی معاشرے میں پر وقار دھیما پن اور مثبت ردِ عمل جاپان کے ہر فرد کے رویے میں ملتا ہے۔ برطانوی معاشرے کی سرد مہری، کم گوئی یا اجنبی پن کے پیچھے جھلکتا ہوا فخر وہاں عام ملے گا۔ پوری دنیا میں فلسفۂ نرگسیت ہر ملک کی مخصوص معاشرتی زندگی کے مزاج اور اقدار کے مطابق پایا جاتا ہے۔ تاہم یہ ایک فطری عمل ہے جو زندگی گزارنے اور دوسری اقوام کی تاریخ و تمدن سمجھنے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ سیاست و معیشت، فنون لطیفہ اور دیگر کئی حوالوں سے معلومات اور تجربات سے مستفید ہونے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔
میرا مقصد پشتون قوم کی اپنے بارے میں نرگسیت کو موضوعِ بحث بنانا ہے، خواہ اس بارے میں وہ غلط فہمی کے شکار ہیں یا خوش فہمی کے، لیکن اس بات پر ہم سب متفق ہیں کہ پشتون بہ حیثیت قوم پوری کی پوری مسلمان ہے۔ مذہبی نرگسیت عام طور پر سارے مذاہب اور خاص طور پر اسلام کے پیروکاروں میں کچھ زیادہ پائی جاتی ہے۔ مسلمانوں کا خیال ہے کہ اسلام ہی وہ واحد دین ہے جس میں تمام دنیا کے مسائل کا حل موجود ہے، لہٰذا مسلمان دُنیا کے سب سے بہترین لوگ ہیں۔ اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ اسلام دنیا کا سب سے اچھا اور مکمل دین ہے لیکن اگر غیرجانب داری سے مسلمانوں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات عیاں ہوگی کہ مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہے ہیں۔ جتنا نقصان مسلمانوں نے اسلام کو پہنچایا ہے، وہ کسی اور نے نہیں پہنچایا اور یہی رویہ اسلامی اور انسانی تعلیمات کے یکسر خلاف ہے۔
پشتون قوم کی تاریخ اور تہذیبی ارتقاء پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہم پشتون جس نرگسیت کا شکار ہیں، وہ دراصل ہماری تاریخ سے ناخبری، غلط فہمی یا خوش فہمی ہے۔ ہمارے آباو اجداد نے وہ کونسا کارنامہ انجام دیا ہے جس پر ہم حقیقی فخر کرسکیں۔ پشتون قوم کی پوری زندگی جنگ و جدل میں گزری ہے۔ ہم نے انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کون سے ایسے کام کئے ہیں جن کی بہ دولت ہم دوسری قوموں سے اپنے آپ کو ممتاز کرسکیں؟ مثال کے طور پر اگر ہم انسانیت کے لیے سائنسی ایجادات کی بات کریں تو جس نے پنسلین، انجن، ریڈیو، ٹیلی فون اور ٹیلی وژن وغیرہ ایجاد کئے ہیں، وہ دُنیا کے محترم لوگ ہیں۔ اس طرح کے لوگ اگر مثبت نرگسیت کا دعویٰ کریں تو بہ جا ہوگا۔ دوسری طرف دنیا کی بربادی کے لیے جو چیزیں بنائی گئی ہیں، مثلاً ایٹم بم، کلاشنکوف، توپ وغیرہ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ منفی نرگسیت کی مختلف مثالیں ہیں۔
جب ہم بات پشتونوں کی کرتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے نہ عصری علو م حاصل کئے ہیں اور نہ ہی دوسری اقوام کی طرح اپنے وطن او ر بچوں کو محفوظ بنانے کے لیے کبھی سوچا ہے۔ ہم تو ایسے لوگ ہیں کہ خفیہ ہاتھوں کے بہکاوے میں آکر اپنے ہی بچوں کے تعلیمی ادارے تباہ کر رہے ہیں۔ اپنے ہی گھروں کو مسمار کر رہے ہیں۔ اپنے ہی لوگوں کو خون کی ہولی میں نہلا رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہماری خواتین بیوہ، بچے یتیم اور والدین مضبوط سہاروں سے محروم ہو رہے ہیں۔ دوسرے لوگوں نے ہمیشہ ہمارے کندھے پر بندوق رکھ کر اپنے مقاصد پورے کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا ہمیں ایک جنگ جو قوم کی حیثیت سے پہچانتی ہے۔ دنیا میں دہشت گردی، مذہبی انتہاپسندی اور دوسرے ناقابل رشک معاملوں میں پشتونوں کے نام لیے جا رہے ہیں۔ اور ایک ہم ہیں کہ اپنے آپ کو پوری دنیا کی بہادر، ہوشیار اور نڈرقوم سمجھ رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہم نے پوری دنیا کے جنگ و جدل اور تھانیداری سنبھال رکھی ہے، جبکہ حقیقت میں ہم نے کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا اور اپنی سرزمین اور اپنے بچوں کے مستقبل کو غیریقینی کی صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ پشتون قوم میں فلسفۂ نرگسیت ایک زہر قاتل کی حیثیت رکھتا ہے جو ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہماری اسی نرگسیت نے ایک بڑی بیماری کا روپ دھار لیا ہے۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم پشتون قوم از سر نو اپنے اہداف متعین کریں۔ اقوام عالم کی تاریخ کا گہرا مطالعہ کریں اور پشتون قوم کی بقاء اور اپنے پشتون بیلٹ کو تباہی سے بچانے کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ تمام اہل علم چاہے وہ دانشور ہوں، سیاست دان ہوں، عالم دین ہوں، ادیب اور یا شاعر ہوں، مل بیٹھ کر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ پشتونوں میں منفی نرگسیت کے متعلق بحث و تمحیص کا آغاز کریں۔ اور اس کے نتیجے میں اپنے مستقبل کی راہیں متعین کریں۔ نئے سرے سے پشتون کی بقاء اور روشن مستقبل کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔ ورنہ آنے والے دنوں میں ہم مزید مشکلات اور زبوں حالی کا شکار ہوں گے۔ تمام اہل قلم اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کریں تاکہ ہم اپنی آنے والی نسل کے لیے نئے دور کے نئے تقاضوں کے مطابق حالات سازگار بنائیں۔
2,261 total views, no views today


