چترال، صوبہ خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے ضلع چترال میں پچھلے تین مہینوں سے ڈسٹرکٹ انجنئیر کی آسامی خالی پڑی ہے جس کی وجہ سے ضلع بھر میں ترقیاتی کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ کونسل چترال میں چند ماہ قبل ڈسٹرکٹ انجنئیر کے ریٹائر منٹ کے بعد سے یہ اہم آسامی خالی پڑی ہے اور اس جانب توجہ نہیں د ی جا رہی ہے۔
چترال میں ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں بمشکل چند ماہ کام کئے جاسکتے ہیں اور اسکے بعد موسمی حالات تعمیراتی کاموں کے لئے موزو ں نہیں رہتے تاہم اس انتہائی قلیل دورانئے کے دوران بھی چترال کے ترقیاتی کام متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ڈسٹرکٹ انجنیئر کی آسامی پر تعیناتی نہیں ہو سکی ہے۔اس سلسلے میں ٹھیکیدار برادری کی طرف سے بھی بار بار مطالبہ کرنے کے باوجود ڈسٹرکٹ انجنئیر کی تعیناتی نہیں ہو سکی۔ ذمہ دار ذرائع نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ حال ہی میں ضلع چترال کے ڈسٹرکٹ انجنئیر کی اضافی ذمہ داری ضلع دیر کے ڈسٹرکٹ انجنئیر کو دی گئی ہے جو کہ ایک حیران کن امر اور محکمہ بلدیات کا احمقانہ فیصلہ ہے۔ ضلع دیر میں مقیم ایک آفیسر کے لئے کیسے ممکن ہوگا کہ وہ 14850مربع کلومیٹر پر محیط صوبے کے اس سب سے بڑے ضلع کے اندر ترقیاتی کاموں کی نگرانی کرے۔ چترال کے عوامی اور سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کاموں میں تیزی اور انکے بروقت تکمیل کے لئے ضلع کے اندر مستقل طور پر ڈسٹرکٹ انجنیئر کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ ان حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت فوری طور پر چترال میں مستقل ڈسٹرکٹ انجنئیر کی تعیناتی کرے یا ترقیاتی کاموں میں مزید تاخیر کو روکنے کے لئے چترال میں موجود ادارے کے انجنیئر کو اضافی چار ج دیا جائے جو کہ اس علاقے کے حالات اور مشکلات سے واقف بھی ہو گا ۔ اس سلسلے میں عوامی حلقوں نے چترال سے اراکین صوبائی اسمبلی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس جانب توجہ دیجائے تاکہ چترال کے ترقیاتی کام متاثر نہ ہو جائیں۔
449 total views, no views today


