سوات،سوات میں نیک پی خیل جرگہ نے مذاکراتی عمل میں شہداء کے لواحقین کواعتماد میں لینے کامطالبہ کردیا ، ہمارے پیاروں کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے والوں کیساتھ ہمیں اعتماد میں لئے بغیر مذاکرات شہداء کے خون کیساتھ غداری ہے ، ہم نے ملک کی بقاء اور سلامتی کی جنگ لڑی ہے ، دھرتی کی خاطر جانوں کی قربانیاں دی ہیں طالبان اور حکومت کی مذاکراتی عمل میں ورثاء شہداء کو اعتماد میں نہ لینا
ہماری زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے ، کشیدگی کے دوران قیام امن کے لئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے اپنے خون کاحساب کس سے لیں گے کیونکہ جن لوگوں نے ذمہ داری قبول کی ہے آج ان کے ساتھ مذاکرات کی جارہی ہے ، ان خیالات کااظہار نیک پی خیل قومی امن جرگہ سوات کے میڈیا ترجمان اور ممتاز قانون دان فیروز شاہ خان ایڈوکیٹ نے اپنی رہائش گاہ دمغار میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ سوات اور نیک پی خیل کے عوام نے سوات میں قیام امن کے لئے سینکڑوں جانوں کی قربانیاں دی ہیں اور ہم نے خون وآگ کا دریا عبور کرتے ہوئے سوات میں امن کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرکے دکھایا ہے سوات میں خون اور آگ کاکھیل کھیلنے والوں نے شریف شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا تھا، لیکن سوات کے پر امن شہریوں نے اس علاقے کومزید خون میں نہلانے سے بچانے کیلئے خود کو قربان کرکے ان لوگوں کے آگے دیوار بن کر اس دھرتی کی تحفظ کی خاطر جام شہادت نوش کی، انہوں نے کہاکہ جو لوگ قیام امن کے لئے قربانیوں کو نظر انداز کرکے آج ان لوگوں کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں جنہوں نے اس دھرتی کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کئے اور ان کے ورثاء کو اعتماد میں لئے بغیر ان کے ساتھ مذاکرات کررہے ہیں یہ سراسر زیادتی و نا انصافی ہونے کے ساتھ ساتھ شہداء کے خون کیساتھ غداری ہے ، انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے حوالے سے ہمارے کافی تحفظات ہیں لہٰذا حکومت ہماری تحفظات کو دور کرے اور جن لوگوں نے ہمارے پیاروں کو شہید کیا ہے ان لوگوں کو یا تو ذمہ داری واپس لینی چاہئے یا حکومت کو اس حوالے سے ہمیں بھی اعتماد میں لیں انہوں نے کہاکہ ہمارے ہر گھر سے شہداء کے جنازے اٹھے ہیں صرف ہمارے خاندان کے اکیس افراد نے جام شہادت نوش کی ، جبکہ اس علاقے سے تعلق رکھنے والے ممبر صوبائی اسمبلی ڈاکٹر شمشیر علی خان ، افضل خان ، شاہ دوران ، خان گل ، محمد کرم خان ، طاہر خان ، ملک ریاض خان ، خان نواب کے خاندان کے دس افراد کے علاوہ دیگر سینکڑوں لوگوں اور میڈیا کے نمائندوں کی شہادت کے خون کا حساب کہاں تلاش کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم نے ہمیشہ امن ، ترقی وخوشحالی کی بات کی ہے اور اس جرگہ کے قیام کا مقصد بھی امن ترقی اور خوشحالی ہی ہے ، انہوں نے کہاکہ اس خطے کیلئے قربانیاں دینے کے باوجود عوام کو آج تک کسی قسم کی ریلیف نہیں ملی انہوں نے کہاکہ یہ علاقہ اب تک سوئی گیس کی سہولت سے محروم ہے ، لہٰذا حکومت اس علاقے کے عوام کی قربانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سوئی گیس فراہمی کویقینی بنائیں ایوب برج کو ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں ، انہوں نے کہاکہ اپریشن متاثرین جوکہ آج بھی معاوضوں سے محروم ہیں ان کو معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے انہوں نے علاقے کے عوام کے نام پیغام دیتے ہوئے کہاکہ ایک پر امن وترقیافتہ معاشرے کے قیام کیلئے عوام کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔۔
438 total views, no views today


