گزشتہ روز پانچ ستمبر 2014ء کو ایک مذہبی کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت اور اس پر مقالہ لکھنے کا شرف ر ا قم الحروف کو حاصل ہوا۔ مذ کو ر ہ کتا ب کے مصنف ڈ ا کٹر امیر فیاض پیر خیل صاحب خود بھی مو جو دتھے، جن کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے لیکن ان کی سیاسی بصیرت اورفر ا خ دلی پر اس وقت حیرت ہوئی جب اسٹیج پر میں نے جماعت اسلامی کے سیاسی حریف جماعت (اے این پی) کے سر کردہ راہ نما محترم افضل خان لالا کو بہ حیثیت مہمان خصوصی خو د دیکھا۔ ڈاکٹر فیاض صاحب کی اس معاملے میں نیت اور حکمت کا اندازہ اللہ تعالیٰ کو ہوگا لیکن خدا گواہ ہے کہ مجھے انتہائی خوشی اور اطمینان محسوس ہوا اور محفل میں اتحاد بین المسلمین کے جذبے سے بھر پور نور انیت بھی محسوس ہوئی ۔ اس سے پہلے میں نے کبھی اس طرح کے فراخ دلانہ ما حول کا سوچا بھی نہیں تھا۔ کیوں کہ فرقہ پرستی کے اس دور میں مثبت سوچ کی کسی سے کوئی امید نہیں؛ کاش ہم ہمیشہ کے لیے اس طرح اتنے فر ا خ د ل ہو کر تنگ نظری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی قابل قوم بن پائیں۔ افضل خان لالا کے علاوہ مذکورہ پروگرام میں واجد علی خان بھی موجود تھے اور سر کاری سطح کے مہما نو ں میں ڈپٹی کمشنر سوات اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پاسپورٹ ظہور خان بھی تشریف فرما تھے۔ پروگرام میں میرے علاوہ تمام مقالہ نگاروں نے اچھے خاصے پرکشش مقالے پیش کیے تھے لیکن میں نے خود جتنی بھی بولنے کی کوشش کی، اس نے میرے مقالے کی ساخت میں طوالت اور طوالت نے بوریت پیدا کی۔ بہ ہر حال بعض افراد کی طرف سے مجھے بالواسطہ دادبھی ملا، جن کا مقصد پروگرام سے لطف اٹھا نے کی بجائے تحقیق کی روشنی حاصل کرنا تھا۔ میں نے صراط مستقیم اور رہبانیت کے مو ضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی تھی جس میں صراط مستقیم کے عقیدے پر کسی نے بہ راہ راست کوئی اعتراض نہیں کیا اور رہبانیت ہی کے موضوع پر واجد علی خا ن نے کھلم کھلا اعتراض کر کے کہا کہ ملا صاحبان دنیا کو’’مردار‘‘ اور لا یعنی چیز قرار دے کر وقت کے تقاضوں سے فرار اختیار کر رہے ہیں اور رہبانیت کی گنجائش دین میں بالکل نہیں ہے، تو میں واجد علی خان سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر آپ نے دنیاوی سیاست کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی فکر کرنی ہے، تو قرآن مجید کا ترجمہ خود پڑھ کر دیکھ لیں۔ تفسیر کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی جس میں اللہ تعالیٰ نے خود اس دنیا کو بڑی حقیر اور فانی چیز قرار دیا ہے۔ میں مانتا ہوں کہ دنیا میں بھی مسلمانوں نے عظیم مقام تک پہنچنے کے لیے اللہ ا و ر ملک دشمنوں سے ہر میدان میں مقابلہ کیا ہے اور قرآن مجید میں اس حوالے سے ہدایات بھی موجو د ہیں لیکن وہ اس مقصد کے لیے کہ مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت کفار کے مقابلہ میں مضبوط ہو، جو اسلام میں جائز ہے۔ غیر مذہبی اور غیراخلاقی سرگرمیوں میں مقابلہ کرنے کا کوئی حکم قرآن مجید میں موجود نہیں اور دنیا کو ضرورت سمجھ کر اسے بروئے کار لانے میں کوئی حرج بھی نہیں لیکن اگر دنیا داری کی لالچ کے تحت اس سے اس حد تک لگاؤ ہو، جس سے اللہ کا خوف اور آخرت کی فکر کا خاتمہ ہو، تو یہ ہلاکت کا سبب ہے اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے حقیر چیز قرار دیا ہے، یہ ملا کا حکم تھوڑی ہے۔
ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم ملا کو تو ہر نقصان کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس سے نفرت کے ساتھ ساتھ دین سے نفرت کرنے اور کروانے کا ماحول متعارف کرنے میں ا پنے آ پ کو راہِ حق کے مجا ہد سمجھتے ہیں لیکن ہم نے کبھی بہ حیثیت مسلمان ملا کی بجائے خود دینِ اسلام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھنے کا سوچا بھی نہیں۔ میں یہ بھی ما نتا ہو ں کہ ا کثر ملّاوں نے غیروں کے ا یجنڈے کی تکمیل کے لیے ا پنی آ خرت اور ا یما ن کو داؤ پر لگانے میں کو ئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے اور ا ن کی و جہ سے ملا کا نا م سننے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ ا س لیے امن پسند ا و ر محب و طن علمائے حق کو میر ا بھی مشو ر ہ ہے کہ ا پنے لیے حضرت، فقیر وغیرہ کے القابات مقر ر کر کے ملا کا وہ نام جو مو جو د ہ زمانہ میں انتہائی بدنام ہوچکا ہے، ان ناحق اور سازشی ملاؤں کے لیے رکھ چھوڑیں جو ا س کی بد نا می کے اصل ذمہ د ا ر ا و ر حق دار ہیں لیکن محب و طن ا و ر ا من پسند علما ئے حق کو بر ی نگا ہ سے صر ف ا سی و جہ سے دیکھنا کہ وہ بھی فی ا لحا ل ’’ملا‘‘ ہی کہلا ئے جا تے ہیں، کو ئی انصا ف نہیں۔
و اجد علی خان نے اجتہاد کے موضوع پر بھی بحث کی جس میں ر ا قم ا ن کے سا تھ مکمل طو ر پر متفق ہے، لیکن ا نھو ں نے رہبانیت کی نفی کی اور اس کی بات ا س حد تک ٹھیک بھی تھی کہ پوری زندگی انسان اور انسانیت کے ما حول سے الگ تھلگ ر ہ کر تنہا ئی میں و قت گز ارنا دین کا حصہ نہیں لیکن اللہ پاک کی معرفت حاصل کرنے کے لیے زندگی کا کچھ نہ کچھ حصہ تنہائی کے عالم میں گزار کر خشوع و خضوع کے ساتھ ا للہ کے ذکر میں مشغول رہنا انتہائی ضروری ہے جسے رہبانیت کا حصہ قرارد یا جا سکتا ہے اور یہ سعا د ت تمام انبیاء ا و ر اولیاء اللہ نے حاصل کی ہے۔
افضل خان لالا نے اپنی تقریر میں اللہ تعالیٰ کی معرفت پر ایک حدیث کے حوالے سے روشنی ڈالی جس میں نبی ؑ نے ایک صحابی کے سوال کے جواب میں معرفت کو سب سے بڑی چیز قراردے کر اس کی اہمیت کا اظہار کیا تھا۔ افضل خان لالا نے کہا کہ جب یہی معرفت حاصل ہوتی ہے، تو منصور تختۂ دار پر بھی انا الحق کا نعرہ بن کر سامنے آتا ہے اور نیچے بھی۔ افضل خان لالا نے ڈاکٹر امیر فیاض صاحب کی کتاب کو قابل ستائش کارنامہ قرار دے کر مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ انھیں آئندہ کے لیے اردو زبان کی بجائے پشتو زبان میں لکھنے پر اس جواز کے ساتھ زور دیا کہ پشتو ہماری مادری زبان ہے اور اردو اسٹیٹ کی۔ پشتو زبان میں نثرکا فقدان بھی ہے لیکن میرے خیال میں ڈاکٹر امیر فیاض صاحب نے دین اسلام کی عالمگیر تعلیمات کی ضروت کو محسوس کرتے ہوئے اردو زبان میں لکھنے کو ا س وجہ سے تر جیح دی ہوگی کہ مذکورہ کتاب کی تعلیمات صرف پشتون قو م کے لیے نہیں، غیر پشتون مسلمان بھائیوں تک بھی ڈاکٹر صاحب کا پیغام پہنچنا چاہیے۔ البتہ اگر صرف پشتون روایات پر مبنی کتاب میں خصوصی طور پر پشتون کو مخاطب کرنا ہو یا اردو نہ جاننے والے پشتونوں کی سمجھ میں لانے کے لیے مذکورہ کتاب ’’حقیقی ذکر الٰہی کیا ہے ؟‘‘ کو پشتو میں ترجمہ کر کے شائع کرنا ہو،تو یہ دین کے ساتھ سا تھ پشتو ا و ر پشتونوں کی بھی خدمت ہوگی لیکن فی الحال انھوں نے عالمگیر دین کا عالمگیر پیغام کم از کم ایسی زبان میں دینا تھا جس پرزیادہ سے زیادہ لوگوں کا عبور حاصل ہو اور اگر اس سے بھی بڑ ھ کر ڈاکٹر صاحب کی استطاعت ہو، تو انگریزی زبان میں دین اسلام کی حقانیت تسلیم کر ا نے کے لیے کتابیں لکھنے کا بھی ارادہ کر لیں۔ اگر پشتونوں نے دوسری زبانوں میں مشکل محسو س کر کے مذکورہ کتابوں کو پشتو میں ترجمہ کرنے اور سمجھنے کی خواہش ظاہر کی، تو یہ ذمہ داری دیگر پشتون مصنفین کی بھی بنتی ہے کہ وہ دین کی خدمت، پشتو زبان میں کر کے دین اسلام کو ملا، عالم اور اولیاء کی میراث سمجھ کر صرف اس کی بدنامی پر اکتفاء نہ کریں بلکہ اپنی طرف سے بھی بہ حیثیت مسلمان کچھ فریضہ ادا کریں۔دوسروں کی عیب جوئی کر کے خود حق سے فرار اختیار کرنا اخلاص نہیں منا فقت ہے۔ حقو ق ا لعبا د کا بہا نہ بناکر حقو ق اللہ کو نظر ا ند ا ز کر نا شیطا ن کے جا ل میں پھنسے ہو ئے بد قسمت مسلما نو ں کی گویا فطرت ثانیہ ہے اور ا نھیں یہ ا حسا س نہیں یا وہ سمجھنا نہیں چا ہتے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا کوئی جھگڑا نہیں۔ حقوق اللہ کسی کو حقوق العباد سے منع نہیں کرتے، یہ تو دراصل دین سے نفرت کرنے والوں کی ایک بے جا د لیل ہے، حالاں کہ انسانیت کی خدمت میں وہ سب سے پیچھے ہوتے ہیں اور اگر کسی غیر سرکاری تنظیم میں کچھ خدمت کرتے بھی ہیں، تو وہ بھی غیروں کے ایجنڈے لے کر اسلام اور پاکستان کی جڑیں اکھاڑ پھینکے اور فارن ایڈ پر اپنی جیبیں گر م کرنے کے لیے جواز کے طور پر۔ قوم وملک اور اسلام کے ساتھ خلوص ووفا کے ترانے لکھنے والے ا کثر ادیبوں اور شاعروں نے بھی اپنا جذبہ الفاظ تک محدود رکھا ہے۔ محبت کے دعوے کرنے والے لکھاری ایک دوسرے کے پاؤں پر کلہاڑی ماکر عملاً نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ لو گ دعویٰ کرتے ہیں کہ ادباء و شعراء قوم کی آنکھیں ہیں مگر پھران ہی آنکھوں میں مکرو فریب کی دھول خو د جھو نک رہے ہو تے ہیں۔اس منافقت کا افضل خان لالا نے اپنی تقریر میں ذکر کر کے راقم الحروف سمیت سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور کردیا۔ ہم بہت شرمندہ تھے، جب انھوں نے کہا کہ ادباء و شعراء قوم کی آنکھیں ہیں لیکن یہ آنکھیں ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں، جب یہ آپس میں منتشر ہیں تو قوم کی وحدت میں کیا کردار ادا کریں گے؟ اس پر مجھے بے حد افسوس ہوا کہ کاش ادبی سر گرمیوں کے انتظام کے خواہش مندوں کی نیت میں فتور نہ ہوتی تو ہم خان لالا کو ثابت کرتے کہ ہم صرف گفتار کے نہیں کر دارکے بھی غازی ہیں لیکن فی الحال وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔
ڈپٹی کمشنر سوات نے سوات میں ادبی سرگرمیوں کی کمی کا رو نا ر و یا ا و ر یہا ں پر ا د بی ما حو ل کے فر و غ کے لیے سر کا ر ی طو ر پر معا و نت کی یقین دہانی کرکے ا د یبو ں ا و ر شا عر و ں کی حو صلہ ا فز ا ئی کی۔ میں اس کالم کی وسا طت سے ڈپٹی کمشنر سوات کا شکر یہ ا دا کر کے ا نھیں درخواست کروں گا کہ آپ نے سوات میں قومی یا بین الاقوامی سطح پر ایک عظیم الشان ادبی شو کے اہتمام کا جو ارادہ ظاہر کیا ہے، اسے اُس وقت تک ؤوخر کردیں جب تک ادباء و شعراء اپنے قول وفعل میں تضاد کا علاج کرکے آپ کی ادب کے ساتھ محبت کا پورا پورا حق ادانہ کریں اور اس شو پر آپ کا اور آپ کی ٹیم کا ایسا عملی شکریہ ادا کریں کہ پھر آپ کو او ر اس معاشرے کو یہ با ت ماننی پڑے کہ شعراء وادباء حقیقت میں ملک وقوم کا لازوال سرمایہ ہیں ۔
1,269 total views, no views today


