مینگورہ،مینگورہ شہر کے اہم کاروباروں پر غیر قانونی طور پر مقیم افغانیوں کا راج قائم،مقامی باشندوں کیلئے مینگورہ شہر میں کاروبار خواب بن گیا،اہم کاروباری مراکز پر پچاس فیصد سے افغانی قابض ہیں،ٹھیلوں سے کاروبار شروع کرنے والے اج مینگورہ میں کروڑوں کے جائیدادوں کے مالک بن چکے ہیں،مقامی باشندوں سے لاکھوں پیشگی رقم کا مطالبہ کرنے والے دکانوں اور پلازوں مالکان کو غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہا جرین بخوشی پیشگی رقم دیتے ہیں،مقامی باشندے کاروبار کیلئے لاکھوں کا پیشگی رقم کا بندوبست نہ کرنے پر صرف کاروبار کے خواب دیکھنے لگے،غیر قانونی طور پر مقیم افغانی سوات کے مقامی باشندوں کے کاروبار وں پر اثر انداز ہونے لگے،شہر سمیت سوات بھر میں اہم کاروبار افغانیوں کے قبضے میں ہونے کیوجہ سے مقامی لوگوں کے جاری کاروبار بھی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں،سوات میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو باعزت طریقے سے نکالنا وقت کے ضرورت بن چکا ہے،انتظامیہ اور سیکورٹی ادارے افغان مہاجرین کو نکالنے کیلئے خصوصی اقدامات اٹھائیں۔سالوں سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کے ملی بھگت سے پاکستانی شہریت بھی حاصل کر چکے ہیں جبکہ اہم کاروباری مراکز پر افغان مہاجرین براجمان ہے جس کیوجہ سے مقامی لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے افغان مہاجرین کو نکالنے کیلئے تا حال کسی قسم کے اقدامات نہیں اٹھائے گئیں جس کیوجہ افغان مہاجرین بلا خوف وخطر سوات کے اہم کاروباروں پر براجمان ہے ٹھیلے سے کاروبار کا اغاز کرنے والے اج مینگورہ شہر میں جائیدادوں کے مالک ہیں۔ان لوگوں کیوجہ سے مینگورہ شہر میں کسی دکان کو حاصل کرنا جوئے شیر لانے کا مترادف ہے افغان مہاجرین دکانوں اور پلازوں کے مالکان کو بھاری بھر کم پیشگی رقم دے کر قبضہ حاصل کرلیتے ہیں جبکہ مقامی باشندے دل پر بڑا پتھر رکھ صرف کاروبار کے خواب دیکھ رہے ہیں۔انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں سے اپیل ہے سوات میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین کو نکالنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
744 total views, no views today


