ضلع سوات میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں گزشتہ تین ماہ کے دوران میں بڑی شدت آئی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق تین ماہ کے دوران میں سترہ اہم شخصیات کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیاہے۔ ’’نامعلوم افراد‘‘ کی آزادانہ کارروائیوں سے سواتی عوام انجانے خوف میں مبتلا ہیں۔ بے سکونی کی زندگی میں مبتلا سوات کے عوام اسی کشکمش میں ہیں کہ 2007ء سے شروع کیا گیا یہ کھیل کب ختم ہوگا؟ طالب اور فوجی کی لڑائی میں اب تک سوات کے سیکڑوں بے گناہ عوام، سیکورٹی فورسز، ایف سی اور پولیس کے اہل کار شہید ہوچکے ہیں۔ کامیاب آپریشن کے بعد سوات میں زندگی کی رونقیں بحال ہوئیں۔ وادی کو دہشت گردوں سے آزاد کرواکرسیکورٹی فورسز نے سوات کے عوام کے دل جیت لیے، مگر کچھ عرصہ سے سوات میں ’’نامعلوم افراد‘‘ کی کارروائیوں نے سیکورٹی اداروں کے کامیاب آپریشن پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سوات کی مختلف جگہوں پر سیکورٹی فورسز کے ساتھ امن کے لیے کام کرنے والی سوات کی اہم شخصیات کو انتہائی حساس مقامات پر گولیوں کی بوچھاڑ کرکے با آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واردات کے بعد کرفیو لگا دیا گیا۔ سرچ آپریشن کیے گئے مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ سوات میں بے پناہ قربانیوں کی بدولت حاصل ہونے والی پررونق زندگی پر خوف کے گہرے سائے پڑ رہے ہیں۔ ’’نامعلوم افراد‘‘ بڑوں کو مار کر نسل نو کو ذہنی مفلوج بنانے کی سازشوں پر عمل پیرا ہیں۔ سوات کے عوام کو نہ جانے کس گناہ کی سزا دی جا رہی ہے؟
گزشتہ دنوں قمبرمیں ’’نامعلوم افراد‘‘ نے نماز عشاء کے بعد گھر جاتے ہوئے عوامی شخصیت اورپی پی پی سوات کے رہنما فضل حیات چٹان کو بڑی بے دردی سے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ ’’نامعلوم افراد‘‘واردات کے بعد تھانہ رحیم آباد اور قمبر چیک پوسٹ کے درمیان با آسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ حسب سابق کرفیو لگادیا گیا۔ سرچ آپریشن شروع کیا گیا مگر کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ تحریک طالبان پاکستان نے فضل حیات چٹان کے قتل کو جمہوریت کے لیے کام کرنے کی وجہ قرار دیتے ہوئے ذمہ داری قبول کرلی۔ میرے خیال میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ طالبان کی جانب سے سوات میں جمہوریت کے لیے کام کرنے پرقتل کی ذمہ داری لی گئی ہے۔اس واقعہ کے بعد یقیناًسوات کی سیاسی شخصیات کے لیے ایک نئے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ ’’نامعلوم افراد‘‘ تمام جمہوری جماعتوں کی اہم سیاسی شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت پسند ہیں اور جمہوری طریقے سے معاملات رواں دواں رکھنے کی خواہش مند ہیں، مگر حالیہ واقعہ نے سوات کے سیاسی فضا کوسوگوار کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بھی خوف میں مبتلا کردیا ہے۔ موجودہ وقت میں سوات پاکستان کی واحد جگہ ہے جہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔ حالاں کہ قانون کی عمل داری کے لیے سوات میں سیکورٹی فورسز اور پولیس اور ایف سی سب مل کر کام کرہے ہیں مگر یہ سب’’نامعلوم افراد‘‘ کے مسئلے میں مکمل طور پرنا کام ہیں۔ سیکورٹی اداروں کی موجودگی میں ٹار گٹ کلنگ کے ساتھ ’’نامعلوم افراد‘‘ اب مینگورہ شہرکی معزز شخصیات کو بھتہ کے لیے خطوط بھیج رہے ہیں اور بھتہ نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔وہ اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پروفیسر یاسر عرفات کے گھر اور حاجی محمد رحمان کے پمپ پرہینڈ گرینیڈ پھینکنے کے واقعات اس کے منھ بولتا ثبوت ہیں۔ اس ساری صورت حال میں سیکورٹی اداروں اور پولیس کی کارکردگی پر انگلی اٹھنا ایک عام سی بات ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کی طاقت ملک کے اہم سیکورٹی اداروں سے زیادہ ہے۔ کیوں کہ گلی گلی کی خبر رکھنے والے ’’نامعلوم افراد‘‘ سے ابھی تک سواتی عوام کو نجات نہ دلا سکے۔ پے درپے واقعات سیکورٹی فورسز کے مورال کو نیچے گرارہے ہیں۔ حیران کن ’’نامعلوم افراد‘‘ کارروائی کے بعد ایسے غائب ہوجاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ کئی ایک مقامات پر سخت سیکورٹی والی جگہ پر بھی امن کمیٹی کے ممبران کو مار کر با آسانی فرار ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
عوامی حلقوں کے مطابق سیکورٹی ادارے سوات میں ’’نامعلوم افراد‘‘ کے مسئلے کو حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں جب کہ پولیس نے ’’نامعلوم افراد‘ ‘کے کھاتے میں درج ہونے والے مقدمات میں ابھی تک کسی ایک مقدمہ کو بھی حل نہیں کیا ہے۔ نہ ان میں کوئی پیشرفت ہی ہوئی ہے۔ ابھی تک کسی بھی واقعہ کے ذمہ داروں کو گرفتار نہ کرنا سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر برا اثر ڈال رہی ہے۔سوات کے عوام کو سیکورٹی اداروں اور پولیس سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں مگر اب یہ امیدیں’’نامعلوم افراد‘‘کی وجہ سے دم توڑتی نظر آرہی ہیں۔ حالیہ واقعات سیکورٹی اداروں اور پولیس کی ناکامی ظاہر کرتے ہیں۔
اگر ایک طرف سوات کے عوام ’’نامعلوم افراد‘ ‘کے رحم وکرم پر ہیں، تو دوسری طرف جن لوگوں سے سوات کے عوام کی امیدیں وابستہ ہیں، ان میں سے زیادہ تر نے چپ کا روزہ رکھا ہے۔ جب کہ بعض نے تو ایک دوسرے پر ٹھیک ٹھاک الزامات کا سلسلہ شروع کردیا ہے، جو سوات کے حالات کوخراب کرنے کے لیے ’’نامعلوم افراد‘‘ کے عزائم کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے راہ ہم وار کرنے کے مترادف ہے۔ کچھ دن پہلے ایسے ہی الزامات سے بھرپور اجلاس میں امن کمیٹی کے ایک مقامی ممبر نے سچ بول کر مذکورہ اجلاس کی قلعی کھول دی۔ اجلاس امن کانفرنس اور سیکورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کے نام پر بلایا گیا تھا جس میں پورے سوات کی امن کمیٹیوں سے تعلق رکھنے والے ممبران نے شرکت کی۔ میں بھی اپنے استا د جیسے دوست سینئر صحافی ناصر عالم صاحب کی دعوت پر کوریج کے لیے گیا۔ اجلاس سے مختلف لوگ خطاب کررہے تھے کہ مینگورہ سے تعلق رکھنے والے امن کمیٹی کے ممبر و اے این پی کے رہنما نے دبے الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’نامعلوم افراد‘ ‘کی وجہ سے ان کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ گھر سے باہر نکلنادشوار ہوچکا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم امن کے لیے فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتے ہیں، مگر ہمیں خود محفوظ نہیں۔ سیکورٹی فورسز والے خودہمیں اطلاع دیتے ہیں کہ آپ کو مارنے کے لیے ٹارگٹ کلر آئے ہیں۔ لہٰذا احتیاط کیجیے۔ نامعلوم افراد ہمیں نشانہ بنا رہے ہیں۔
قارئین کرام! امن کمیٹی کے ممبرکی اس بات پرمیں حیران رہ گیا۔ کیوں کہ یہ اجلاس سیکورٹی فورسز سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقد ہوا تھا مگر اس سچ نے اجلاس کے رنگ کو میرے لیے بدل کر رکھ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ باتیں میڈیا میں نہیں آئیں، مگرحقیقت یہ ہے کہ سیکورٹی ادارے اپنے ساتھ تعاون کرنے والے لوگوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہیں۔ سخت سیکورٹی حصار میں امن کمیٹی کے ممبران کو قتل کیا جارہا ہے جس سے’ ’نامعلوم افراد‘‘ کی قوت کا اندازہ ہوتا ہے جب کہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کے سامنے دنیا کا بہترین سیکورٹی ادارہ بھی ناکامی کا شکارہے۔ ہر واقعہ کے بعد ایف آئی آر ’’نامعلوم افراد‘‘ کے کھاتے میں درج کی جاتی ہے۔ اب تو مقامی لوگ اپنے اداروں تک پر شک کررہے ہیں۔ جگہ جگہ سوات میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعہ کے بعد چہ میگوئیاں شروع ہوجاتی ہیں کہ اتنی سخت سیکورٹی میں آخرکار’’نامعلوم افراد‘‘ کہاں چلے جاتے ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے بعد سرچ آپریشن اور کرفیو لگاکر’ ’نامعلوم افراد‘‘ کو معلوم کرنے کی ناکام کوشش بھی کی جاتی ہے۔ البتہ سرچ آپریشن اور کرفیو کے نام پر مقامی لوگ عذاب کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
قصہ مختصر، سواتی عوام کے دلوں میں اپنے اداروں کے لیے محبت کم ہورہی ہے۔ مسلسل قتل کی وارداتوں اور بد امنی کی وجہ سے مقامی جرگہ کو بھی میدان میں کودنا پڑا مگر بے جا تنقید کی وجہ سے اب جرگہ والوں نے خاموشی اختیار کرلی ہے۔ سوات سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی فضل خالق صاحب نے اپنے تازہ کالم میں لکھا ہے کہ ہم سواتی بجلی لوڈشیڈنگ،پانی کی قلت اور دیگر مسئلوں کے حل کے لیے تو روڈوں پر نکلتے ہیں مگر نامعلوم افراد کے مسئلے پر چپ سادھ لی ہے۔ خصوصاً پاکستان تحریک انصاف جس کی صوبے میں حکم رانی ہے، انھوں نے ابھی تک نامعلوم افراد کی کاروائیوں کی مذمت تک گوارا نہیں کی۔ جناب فضل خالق صا حب کی یہ بات سو فی صد درست ہے۔ ’’نامعلوم افراد‘‘ سوات کے لیے اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ پے در پے رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے یہاں مقامی کاروبار پر بھی برے اثرات پڑچکے ہیں۔ سیاسی لوگوں کواپنی دکان چمکانے کے لیے پانی اور بجلی جیسے چھوٹے چھوٹے مسئلوں پر تقریروں کے لیے وقت ہے، مگر اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے مل کر بیٹھنے کی ہمت نہیں، جب کہ سوات سے منتخب ہونے والے ممبران اسمبلی سواتی عوام کے ساتھ سخت ظلم کررہے ہیں۔ ابھی تک ’’نامعلوم افراد‘‘ کی بدمعاشیوں کے بارے میں نہ کبھی اسمبلی میں آواز اٹھائی گئی ہے اور نہ کبھی زبان سے مذمت کرنے کی زحمت ہی گوارا کی گئی ہے۔ سوات کے عوام کو اپنے ممبران اسمبلی ،سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سماجی شخصیات اور خصوصاًمیڈیا جو اس مسئلے میں اہم کردار اداکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، سے عوام کی بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ اگر اسی طرح خاموشی چھائی رہی، تو آج فضل حیات چٹان کے گھر کو اجاڑنے والے کل ہمارا گھر بھی اجاڑ سکتے ہیں۔خاموشی سب کولے ڈوبے گی۔
ان ’’نامعلوم افراد‘‘ کے خلاف تمام سیاسی وسماجی شخصیات و جماعتوں کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر چند لوگوں کی قربانی سے نسل نو کا مستقبل درخشاں ہوتا ہے، تو ایسی قربانی پر فخر محسوس ہونا چاہیے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
896 total views, no views today


