سوات ،ملاکنڈڈویژن پاٹا شرعی نظام عدل پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ڈویژن بھر میں شہریوں میں تشویش ‘عمل درآمد کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ملاکنڈڈویژن صوبائی قبائلی علاقہ جس میں یہاں کے رسم ورواج کے مطابق جرگہ سسٹم تھا اور ڈویژن بھر میں ایک مثالی امن قائم تھا‘بدقسمتی سے چند وکلاء نے پاٹا ریگولیشن کو پہلے ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ۔ تو یہاں پر شرعی ریگولیشن 1994ء پھر 1997 اور پھر 2009 میں شرعی نظام عدل نافذ کیا گیا ۔ جس میں یہاں مراعات دینے کے بجائے مراعات چھینے گئیں۔ اور جو ٹوٹا پھوٹا ریگولیشن نافذ کیا گیا ہے۔ 2009ء سے لیکر اب تک اس پر ایک فیصلہ بھی نہیں ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے عام شہریوں میں تشویش پھیلی ہوئی ہے۔ ڈویژن اور خصوصاً سوات کے عوام نے شریعت کے نفاذ کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ مگر پھر بھی یہاں کے لوگوں کے ساتھ ایک بہت بڑا مذاق کیا جارہا ہے۔ جس کے خلاف عام شہریوں میں لاوا اندر ہی اندر پکھ رہا ہے۔ لہٰذا اعلیٰ حکام اور ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
686 total views, no views today


