مینگورہ،جمعیت علمائے اسلام ف کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان نے کہاہے کہ سانحہ پشاور قوم دشمن کارروائی تھی ، سانحے کے بعد وزیر اعلیٰ پرویزخٹک کو ناکامی تسلیم کرکے مستعفی ہوجا نا چاہیے تھا ،وزیر اعلیٰ اور آئی جی خیبر پختونخوا کو مورد الزام ٹھہراکر انہیں گرفتار کرلیناچاہیے تھاقوم اور معصوم بچوں کو تحفظ نہ دینے والوں کو اقتدار اور اسٹار لگاکر لمبی قطاروں میں چلنے کا کوئی حق نہیں ،دینی مدارس کو دہشت گردی کے زمرے میں لانا اوران کے خلاف سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا ،نشریاتی اداروں پر جے یو آئی اور علمائے کرام کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت نہ دینے پر ہم عوامی عدالت جاکر اپنی آواز پہنچائیں گے ،موجودہ حالات میں فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے مینگورہ میں جے یوآئی سوات کے ضلعی دفترمیں تحفظ مدارس دینیہ کانفرنس سے خطا ب اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،اس موقع پر وفاق المدارس خیبر پختونخواکے ناظم اعلیٰ مولاناحسین احمد ،جے یو آئی سوات کے امیر قاری محمود،جنرل سیکرٹری حاجی محمد اسحاق زاہد،قاری شمس الرحمن اور حافظ محمد ادریس نے بھی خطا ب کیا ،انہوں نے کہاکہ ہم نے پہلے بھی طاقت کے استعمال سے بدامنی پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا تھااور آج بھی اسی موقف پر قائم ہے انہوں نے کہاکہ پشاور سانحے میں بچوں کا قتل عام کا کوئی مذہب اجازت نہیں دیتا اور یہ تاریخ کی بدترین ظلم اور قومی دشمنی ہے لیکن اس سانحے کے بعد وزیر اعلیٰ کو مستعفی ہوجا ناچاہیے تھا اور پھر وزیر اعلیٰ اور آئی جی خیبر پختونخوا کو گرفتار کرلینا چاہیے تھا ،انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں اس وقت چور اور ڈاکو بیٹھے ہوئے ہیں لیکن پارلیمنٹ وہ مدارس والے بھی موجود ہیں جو آئین کی بالادستی کے لئے کردار اداکررہے ہیں ،لیکن ہم حکومت پر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ دینی مدارس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسلام کے قلعے ہیں اور ان کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا ،انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک میں فوجی عدالتوں کا قیام وقت کی ضرورت ہے اور اسی کے ذریعے ہی دہشت گردی ختم کی جاسکتی ہے انہوں نے کہاکہ میڈیا والے ہماری آواز نہیں اٹھارہے لیکن اب ہم عوام کی عدالت میں جائیں گے کیونکہ میڈیا پر دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کاجواب ہم عوامی عدالت میں دیں گے انہوں نے کہاکہ دینی مدارس کے حوالے سے پندرہ جنوری کو پشاور میں عظیم الشان کانفرنس ہوگی جس میں پارٹی قیادت اور علمائے کرام آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
894 total views, no views today


