جب کوئی حادثہ ہوتا ہے اور ہمارا کوئی بہت ہی قریبی دوست یا رشتہ دار اس فانی دنیا کو تیاگ کر دوسری دنیا کے مرحلہ میں داخل ہوجاتا ہے، تو ہمیں کتنا دکھ ہوتا ہے۔ مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسا میرا ایک عضو مجھ سے کاٹ لیا گیا ہو۔
وطن عزیز میں جس تواتر سے دوست، احباب، عزیز و رشتہ دار ہم سے بچھڑ رہے ہیں، تو ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے ہم قسطوں میں مر رہے ہیں۔ وہ ماں جس سے اُس کا جوان بیٹا چھن جائے اُس کے لیے ہر صبح غم کی خبر لے کر طلوع ہوتی ہے۔ کیا وہ قطرہ قطرہ نہیں مر رہی؟
کچھ لوگ اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ لوگ بے گناہ کیوں مر رہے ہیں؟ لوگ کیوں اچانک ایک اندھی گولی کا شکار ہوجاتے ہیں؟ ایک بچہ کیوں اچانک مر جاتا ہے؟ ایک ماں جس نے بڑی مشکل سے اپنے بچے کو پڑھا لکھا کر ایک بڑا افسر بنایا ہوتا ہے۔ اچانک دروازے پے دستک سن کر باہر نکلتی ہے اور اپنے جوان بیٹے کی لاش دیکھ کر ہوش و حواس کھو بیٹھتی ہے۔ اس کی کیا تُک ہے؟ ایسا کیوں ہے؟ اشفاق احمد صاحب کے بہ قول: ’’مگر وہ جو علم مطلق ہے، اس کی مرضی میں کوئی راز ہوتا ہے۔ وہ مالک ہے۔‘‘
ہمارے بزرگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی پانچ سالہ بچہ اتفاق سے اسپتال میں ٹہلتے ٹہلتے آپریشن تھیٹر میں چلا جائے۔ جہاں پر سرجن آپریشن میں مصروف ہوں۔ ہاتھوں میں خون آلود چھریاں اور نشتر، منھ پر آدھے سفید نقاب، سامنے بے ہوش مریض، جس کا پیٹ کٹا، پھٹا اور خون آلود ہو، تو بچہ کیا کرے گا؟
وہ چیختے ہوئے باہر نکلے گا۔ لوگوں سے چیخ چیخ کر کہے گا۔ لوگو ظلم ہورہا ہے۔ اسے بچاؤ۔ اچھے بھلے آدمی کا پیٹ کاٹ رہے ہیں، تو کچھ ایسا ہی حال ہم تمام انسانوں کا اسی بچے کی طرح ہے۔ چیونٹی جیسے ایک سمندر کو نہیں سمجھ سکتی۔ انسان اللہ کے راز، افعال اور اُس کے کام اور قانون کو نہیں سمجھ سکتا اورنہ جان ہی سکتا ہے۔ خوش قسمتی یہ ہے کہ اُس نے ہمیں کچھ احکام دیئے ہیں اور کچھ ہدایات دی ہیں۔ انسان کا کام ان احکامات کو ماننا ہے اور مانتے ہی چلے جانا ہے۔ غلطی ہو، تو توبہ کرے اور پھر عمل کرے اور مانتا جائے۔ پھر غلطی ہو، تو پھر توبہ کرے۔ اللہ کی رحمت سمندروں سے زیادہ وسیع ہے۔ اس کی محبت ستر ماؤں سے زیادہ ہے۔
یہ دنیا بس ایک امتحانی ہال ہے۔
رب نے کیا یہ نہیں فرمایا: ’’پھر تم کو ایک بچہ کی صورت میں نکال لاتے ہیں۔ تاکہ تم اپنی پوری جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بلالیا جاتا ہے۔ اور کوئی بد ترین عمر کی طرف یعنی (بڑھاپہ) کی طرف پھیر دیا جاتا ہے۔ تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔‘‘
اسی لیے تو کسی شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
اپنے بالوں کی سفیدی پہ سہم جاتا ہوں
زندگی اب تیری رفتار سے ڈر لگتا ہے
قرآن کی یہ پکار بھی سنتے جائیں: ’’ہر جان دار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہم اچھے اور برے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمایش کررہے ہیں۔‘‘
قارئین کرام! یہی ہے ہمارے سوالوں کا جواب۔ اب تو کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ اگر ایک عورت سے اُس کا شوہر چھین لیا جائے، تو اب اس کے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو آزمایا جارہا ہے کہ وہ اُس کی کتنی مدد کرتے ہیں؟ کون اس مشکل گھڑی میں اُس کے زخموں کا مرہم بنتا ہے۔
ایک شخص جو کسی دھماکا یا حادثہ میں معذور ہوتا ہے، تو یہاں بھی آزمایش کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے کہ معذور انسان اس حادثہ کو اللہ کی طرف سے ایک آزمایش سمجھ کر صبر سے کام لے کر ’’ہم اللہ کے ہیں اور اُسی کی طرف پلٹنے والے ہیں‘‘ کہتا ہے۔ یا تقدیر کو برا بھلا کہنے پر لگ جاتا ہے اور عملی طور پر بھی عبادات سے غافل ہوجاتا ہے۔ اس کے دوست رشتہ دار اور پڑوسی بھی اب امتحان میں ہیں کہ وہ اس اپاہج کا ان آڑے وقتوں میں کتنا ساتھ دیتے ہیں۔
اس امتحان اور آزمایش کے علاوہ ایسے واقعات عذاب الٰہی بھی ہوتے رہے اور کچھ لوگ جو گناہوں کی دلدل میں ڈوبتے چلے جاتے ہیں۔ اور گناہ کو گناہ سمجھتے ہی نہیں تو پھر قدرت کا تازیانہ حرکت میں آجاتا ہے۔ اور وہ عذاب الٰہی میں جکڑ لیے جاتے ہیں۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے محمدؐ ان سے کہو کون ہے جو رات کو یا دن کو تمھیں رحمان سے بچا سکتا ہو؟‘‘ (الانبیاء)
اس لیے پیارے بھائیو اور بہنو۔۔۔! ہمیں جس چیز کا علم نہ ہو، اُس کے بارے میں لا حاصل بحث سے بچے رہیں، تو اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ کیوں کہ سورۂ حج کی ایک آیت کا ترجمہ ہے: ’’بعض لوگ ایسے ہیں جو علم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں اور یہ شیطان سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔‘‘
قارئین کرام! ہم تو چیونٹیاں ہیں۔ سمندر کے بارے میں کیا جانیں اور کاینات تو لاکھوں سمندروں سے بڑی ہے۔
*۔۔۔*۔۔۔*
926 total views, no views today


