اخباری اطلاعات کے مطابق واہ کینٹ میں گرفتار قصائی باپ بیٹے نے پولیس کی حراست میں انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے اب تک ساٹھ گدھوں کو ذبح کرکے گاہک کو کھلایا ہے۔ خبر کا سب سے دل چسپ پہلو یہ ہے کہ قصائیوں نے فوڈ انسپکٹر سمیت کئی سرکاری اداروں کے افسران کو تحفہ کے طور پر بھی کئی مرتبہ گدھے کا گوشت پہنچانے کا راز طشت از بام کیا ہے جس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ حرام خور انسان صرف آخرت میں حرام کی کمائی کے لیے اللہ کے حضور جواب دہ نہیں ہوں گے بلکہ انھیں اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اس طرح گدھے کا گوشت کھلا کر نشان عبرت بنا لیتا ہے۔ میرے خیال میں میری طرح ہر کسی نے اس خبر کو پڑھ کر تھوڑی دیر کے لیے اولاً منھ پر ہاتھ رکھا ہوگا اور ثانیاً کئی بار زمین پر تھوکنے کا عمل دہرایا ہوگا جب کہ بہت سے لوگوں نے آیندہ گوشت کھانے سے اگر توبہ نہ کی ہوگی، تو دل میں کم ازکم یہ عہد ضرور کیا ہوگا کہ آیندہ وہ بڑے ہوٹلوں میں گوشت کھانے سے اجتناب کے علاوہ اپنے گھر کے لیے ہر اس قصائی سے گوشت خریدیں گے جس سے جان پہچان ہو اور ذبح کرتے ہوئے جانور کو دیکھا جاتا ہو۔ یہ تو بھلا ہو واہ کینٹ پولیس کا کہ انھوں نے بروقت کارروائی کرکے لوگوں کو گدھے کا گوشت کھلانے سے بچایا مگر ملک کے دیگر حصوں میں جو گوشت فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں کسی نے اب تک پوچھا ہے؟ کہ یہ کس جانور کا ہے؟ اسے کس نے ذبح کرکے مارکیٹ تک پہنچایا جاتا ہے؟ کیاملک بھر میں قایم مذبح خانوں میں ویٹرنری ڈاکٹرز اور فوڈ عملہ کی نگرانی میں درست طریقہ سے تن درست اور حلال جانوروں کو ذبح کیا جاتا ہے؟ کیا ہوٹلوں اور سجی سنٹروں میں جومرغیاں فروخت ہورہی ہیں، وہ حلا ل ہیں یا مردار؟ کیوں کہ عرصۂ دراز سے یہ افواہیں بھی گردش کرتی ہیں کہ ہوٹلوں اور سجی خانوں میں مردہ مرغیاں بھی پکائی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ثبوت کے طور پر یہ بات بتائی جاتی ہے کہ پہلے جب مرغیاں فارم سے لانے والی گاڑیوں میں مرغیوں والے لاتے، تو اس میں جو مرغیاں مرجاتیں، تو انھیں مختلف مقامات پر گاڑی سے پھینک کر سڑکوں کے کنارے وہ ہر کسی کو نظر آتی تھیں مگر اب ایک عرصہ سے کسی بھی جگہ گاڑیوں سے پھینکی جانے والی مردہ مرغیاں نظر نہیں آتیں۔ کیوں کہ انھیں صاف کرکے مبینہ فروخت کیا جاتا ہے (واللہ اعلم)۔ اس طرح بعض مقامات میں گوشت فروخت کرنے والے قصائی دوسرے علاقوں سے تیار گوشت لاکر فروخت کرتے ہیں جن کے حلال یا حرام ہونے کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حالاں کہ حکومت کی طرف سے اس کے لیے قانون بھی موجود ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی، مگر ان اداروں میں متعین عملہ نے غفلت اور لاپروائی شروع کرکے بہ قول گرفتار قصائی انھیں مہریں بناکر دیگر عوام کو ان حرام خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جس کا نوٹس لینا ضروری ہے مگر اس کے ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہماری روزمرہ کمائی میں حلال و حرام کی بھی کوئی تمیز ہے؟ رشوت لینے اور دینے والوں کے لیے، تو حدیث نبوی ؐ بھی موجود ہے کہ ’’رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں۔‘‘ مگر ہم نے آج تک اس حدیث پر کس حد تک عمل کیا ہے؟ ہم روز ہی مختلف سرکاری دفاتر میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی کام رشوت اور سفارش کے بغیر نہیں ہو رہا۔ کیا رشوت کے پیسوں سے خریدا گیا حلال گوشت ہم پر حرام نہیں؟ کیا حرام کمائی گدھے اور سور کے گوشت سے بد تر نہیں؟ جسے نہ صرف ہم خود کھاتے ہیں بلکہ اپنی بیوی بچوں، بھائی بہنوں اور ماں باپ کو بھی کھلاتے ہیں۔ علمائے کرام کے مطابق تو حرام کی کمائی سے جسم میں جو خون بنتا ہے، وہ بھی حرام ہوتا ہے اور اس خون سے ہماری نسلیں جو پرورش پاتی ہیں، انھیں ہم کون سانام دیں گے؟ سرکاری اداروں کے علاوہ پرائیوٹ سطح پر بھی ہم حلال اور حرام میں کوئی تمیز نہیں کرتے۔ کھانے پینے کی تمام اشیاء میں ملاوٹ کرنا اب کوئی عیب نہیں رہا۔ حالاں کہ رشوت کی طرح ملاوٹ کے لیے بھی پیغمبر اسلام حضرت محمدؐکا حکم ہے کہ(من غش فلیس منا) یعنی ’’جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ مگر ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ چاول، گھی، مصالحہ، چائے، آٹا سب چیزیں ملاوٹ سے بھری پڑی ہوتی ہیں۔ ادویہ میں اچھی چیز کے نام پر سیکڑوں ہزاروں قسم کی ہم نام ادویہ بناکر لوگوں کو فروخت کرنے کو کوئی جرم قرار نہیں دیتا۔ ڈاکٹرز جوکہ مسیحا کا درجہ رکھتے ہیں کے بارے میں بھی یہ کہا جاتا ہے کہ وہ مریضوں سے بھاری فیس وصول کرنے کے باوجود لیبارٹری مالکان سے ٹیسٹوں اور میڈیسن کمپنیوں سے تجویز کردہ ادویہ پر بھی کمیشن وصول کرتے ہیں جو کہ رشوت کا دوسرا نام ہے۔غرض یہ کہ جتنے بھی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ہیں وہاں بیٹھ کر ہمیں حلال طور پر تو معاوضہ ملتا ہے، اگر ہم نے اس پر اکتفا کیا، تو ہم گدھوں اور سؤروں کے کھانے سے بچ جائیں گے۔ ورنہ صرف ظاہری طور پر گدھے یا کتے کا گوشت کھانے سے اجتناب پر ہم حرام خوری اور مردار خوری سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خود بھی اور اپنے اہل و عیال کوبھی حرام کی کمائی سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرماوے، آمین ثم آمین۔
770 total views, no views today


