تحریر :۔ خورشید علی
طیف بانڈہ تک پہنچنے کیلئے اپ کو دودھ کی طرح صاف پانی اور گھنے جنگلات سے گزرنا پڑے گا، یہ وادی ایڈوینچر کے شوقین افراد کیلئے کمال کی جگہ ہے ۔ اس وادی میں دلکشی بھی اور بلند وبالا پہاڑ اور ائنہ کی طرح صاف شفاف ہوا بھی ہے۔

طیف بانڈہ سوات کے وادی مانکیال سے تقریبا 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر پہاڑوں کے بیچوں بیچ واقع ہے،مینگورہ شہر سے مانکیال تک سیاح اپنے گاڑی میں سفر کرنے کے بعد وہاں اپنی گاڑی چھوڑ جاتے ہیں اور مانکیال سے فور بائی فور جیپ اس وادی کو جانے کیلئے مانکیال سے بااسانی ملتے ہیں، طیف بانڈہ تک جانے کیلئے فور بائی فورگاڑیاں چار سے پانچ ہزار روپے لیتے ہیں۔

طیف بانڈہ ویسے تو مانکیال سے نزدیک علاقہ ہے لیکن سڑک کچہ اور پرخطر ہونے کی وجہ سے یہ فاصلہ دو گھنٹوں میں طے کیا جاتا ہے، اس وادی تک پہنچنے سے پہلے اپ کو بڈئی سیرئی کے علاقہ سے گزرنا پڑتاہے جو تاریخی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے، یہاں پر سیاحوں کو ایک مقبرہ بھی ملے گا جس میں کئی صوفیا اور شہدا دفن ہے، جنہوں نے اسلام کی تبلیغ کیلئے اس وادی کارخ کیا تھا اور یہاں پر لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا تھا، بڈئی سیرئی تک سڑک کچھ گزارا کرلیتا ہے اوراس کے بعد اونچائی شروع ہوجاتی ہے۔ ہزاروں فٹ نیچے اپ کو صاف شفاف دریا نظر ائے گا، جو طیف بانڈہ تک اپ کا ہم سفر ہوگا۔
ہم سوات نیوز کے چار دوست صبح چھ بجے مینگورہ سے طیف بانڈہ کیلئے روانہ ہوئے ، مانکیال پہنچنے تک ہمیں تقریبا 2 گھنٹے لگے، وہاں پر سابقہ ناظم ڈاکٹر شاہ خان کے بھائی عمران نے ہمارا استقبال کیا ، ہم نے اپنی گاڑی مانکیال میں چھوڑی اور فور بائی فور گاڑی میں سوار ہوکر روانہ ہوگئے ، ساتھ میں مانکیال بازار سے کچھ کھانے پینے کے اشیائ بھی خرید لئے تاکہ اگر وہاں پر کھانے کو کچھ نہ ملے تو ہمارے پاس اپنا سٹاک موجود ہو، تقریبا 9 بجے صبح ہم نے اپنا سفر شروع کیا اور گیارہ بجے تک طیف بانڈہ کے سرحد پر پہنچ گئے، وہاں پر مقامی لوگوں نے ہمیں چائے کی دعوت دی ، چائے پینے کے بعد پیدل سفر شروع کیا۔

گھنے جنگلات ، صاف شفاف دریائوں کو پارکرنے کے بعد اخر کار تین گھنٹے مسلسل سفر کےکے بعد ہم طیف بانڈہ پہنچ گئے ۔ طیف بانڈہ کے چاروں جانب بلند وبالا پہاڑ ہیں، جو جولائی کے مہینے میں بھی برف سے ڈھکی تھیں، اس وادی کے دوسری جانب کوہستان ، گورنئی، اسریت واقع ہے،اس وادی میں پانی جھیل کی طرح نظر اتی ہے، جو پورے وادی میں تیرتی نظر اتی ہے۔اس وادی میں تقریبا پچاس کے قریب کچے مکانات ہیں، جس میں گجر قوم رہتی ہے، یہ قوم سال میں صرف چار مہینے کیلئے (مئی ، جون ، جولائی ،اگست) اس وادی میں اتےہیں۔ اس کے بعداپنی مال مویشی کیساتھ وہاں سے واپس روانہ ہوجاتے ہیں،
وادی کے کھلے میدانوں میں جون سے لیکر جولائی کے درمیانی تاریخ تک مختلف پھولوں نظر اتے ہیں جو سیاحوں کا استقبال کرتے ہیں،اس وادی میں بچوں کی واحد تفریح کرکٹ کھیلنا ہے۔ بچے صبح سویرے اپنے مویشیوں کو پہاڑی پر چھوڑ جاتے ہیں اور واپس اکر کرکٹ کھیلنا شروع کردیتے ہیں جو عصر تک کھیلتے رہتے ہیں۔ہم تقریبا سہ پہر چار بجے تک وہاں پر رہے ، ریکارڈنگ کی ،اور مقامی لوگوں نے چائے پلائی، لوگوں سے گپ شپ لگانے کے بعد سہ پہر چار بجے واپسی کا سفر شروع کیا۔
803 total views, no views today



