مینگورہ،علاقہ پنجیگرام کی رہائشی شادی شدہ دوشیزہ کے اغواء کیخلاف کئی علاقوں کے سینکڑوں لوگ سراپااحتجاج بن گئے،رپورٹ درج ہونے کے باوجود کوئی پیش رفت نہ ہوسکی،بازیابی کیلئے تین دن کی ڈیڈلائن دے دی،مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں ضلع کی سطح پر احتجاجی مظاہرے شروع کرنے سمیت اہم شاہراہوں کو بھی بند کیا جائے گا،اس سلسلے میں گذشتہ روز علاقہ پنجیگرام،تندوڈاگ،بلوگرام،اوڈیگرام،منگلور ،گوگدرہ ،غالیگے اوردیگرعلاقوں کے سینکڑوں لوگوں نے جلوس نکال کر سوات پر یس کلب پہنچ گئے
جہاں پر مظاہرین نے شدیدنعرہ بازی کی اورلڑکی کی بازیابی کا مطالبہ کیابعدازاں لڑکی کے والد محمدیوسف نے عمائدین کے ہمراہ سوات پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایاکہ ان کی بیٹی مہرین کی شادی تین مارچ 2014کو علاقہ شگئی کے رہائشی افسراقبال سے ہوئی جس کے بعدافسراقبال مزدوری کی غرض سے بیرون ملک چلاگیا اوراس وقت سے لے کر ابھی تک اس نے ہمارے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا،انہوں نے کہاکہ میرے بیٹی کے دیورارشداقبال اسے میر ے گھر لے آیا اورپانچ جنوری کو اس کے دوسرے دیور حضرت اقبال نے مجھے فون کیا کہ ان کی ساس بیمارہے لہٰذہ مہرین کو واپس گھر لے جانے آرہاہوں اس کے بعدوہ آیا اورہمارے گھر کے باہرسے کال کی جس پر ہم نے اپنی بیٹی کواس کے ساتھ روانہ کردیا ،انہوں نے کہاکہ سسرال جانے کے دوتین دن بعدہم نے اس کا حال پوچھنے کیلئے اسے فون کیا مگر کسی نے اٹینڈ نہیں کیا تاہم اگلے دن مہرین کی ساس کا فون آیا اور اسی کے بارے میں پوچھاتو ہم نے جواب دیا کہ اسے توحضرت اقبال یعنی اس کا دیور تمہارے گھر لے گیا ہے جس پر اس نے شورمچانا شروع کیااورہمارے گھر آکرشوشراباکیا،انہوں نے کہاکہ ہم نے بیٹی کی گمشدگی کے خلاف سیدوشریف پولیس اسٹیشن میں رپورٹ درج کرائی جس میں اس کے دیور حضرت اقبال کو ملزم نامزدکیا مگرجب ایک ہفتہ تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں آئی تو ہم فریاد لے کرآئی جی پی کے پاس گئے جن کی ہدایت پر ہماری رپورٹ سیدوشریف سے رحیم آباد پولیس اسٹیشن منتقل کردی گئی انہوں نے کہاکہ نامزدملزموں میں سے ایک ملزم ارشداقبال وکیل ہے جن کے خلاف کیس ضلعی عدالت میں چل رہاہے جس کی وجہ سے کوئی وکیل ہماراکیس لڑنے کیلئے تیار نہیں تاہم عدالت نے ملزمو ں کی ضمانت ضبط کی جس کے بعدچندوکلاء نے جج کیخلاف نعرہ بازی کی اورعدالت میں توڑپھوڑ بھی کی ،انہوں نے کہاکہ بیٹی کی گمشدگی پر پوراگھرانتہائی پریشانی میں مبتلاہے کئی ہفتے گزرجانے کے باوجود بھی اس کا کوئی پتہ نہیں چلا جس کی وجہ سے آج سینکڑوں لوگوں کے ہمراہ چیف جسٹس ،صدر پاکستان،وزیراعظم،وزیراعلیٰ ،پولیس حکام اوردیگر ذمہ دارو ں سے اپیل کرتاہوں کہ وہ میری بیٹی کی بازیابی کیلئے اقدامات کریں ،انہوں نے کہاکہ اگر تین دن کے اندراندرمیری بیٹی کا پتہ نہیں چلا تو یہ سینکڑوں لوگ ضلع بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کریں گے اوراہم شاہراہوں کو بند کیا جائے گا،اس موقع پر تحریک انصاف کے سابق صدر علی خان ،پیپلزپارٹی کی ضلعی صدرسلیم خان ،معروف سیاسی وسماجی شخصیت ظفراللہ خان اوردیگر مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے افرادسمیت عمائدین کی کثیرتعدادبھی موجود تھی۔
327 total views, no views today


