تحریر ؛۔ ساجد خان
تین اضلاع پر مشتمل سوات تعلیمی بورڈ کیخلاف احتجاجی مظاہروں کا زور کم نہ ہوسکا ، تینوں اضلاع کے طلبا وطالبات رزلٹ کیخلاف سراپا احتجاج بن گئے ہیں ۔ اج بدھ کے روز ضلع سوات بونیر اورشانگلہ کے سینکٹروں طلبا جہانزیب کالج کے قریب سیدو شریف سڑک پر اکھٹے ہوگئے ، جن کی قیادت مختلف سیاسی پارٹیوں کے طلبا تنظیموں نے کی ۔ طلبا نے احتجاج کےطور پر سیدو شریف سڑک ٹریفک کیلئے بند کردیا ۔
دو گھنٹے مسلسل سڑک بند ہونے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر تحصیل بابوزئی شوزب عباس نے طلبا کے ساتھ مذاکرات کیلئے پہنچ گئے ، طلبا نے اس موقع پر ایک ہی مطالبہ کیا کہ پرچوں کو ٹھیک طرح سے چیک نہیں کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ مارکس میں زیادتی کی گئی ، طلبا تنظیموں کے لیڈرز نے اے سی بابوزئی سے کہا کہ جن طلبا کی کلاس اور کالجز میں پوزیشن اتی تھی انہوں نے سات سو مارکس لئے ہیں جبکہ جن طلبا کے مارکس پچاس فیصداتے تھے ان کو A اور A ون گریڈ دیا گیا ہے ، طلبانے کہا کہ سوات تعلیمی بورڈ وقت ضائع کررہے ہیں اور طلبا کے مسائل کو حل نہیں کررہے ۔
طلبا کے ان مطالبات کو سنتے سنتے سڑک بند ہونے کے تین گھنٹے ہوچکے تھے اس موقع پر ڈی سی سوات جنید خان بھی پہنچ گئے تاہم طلبا کو اس پر بھی تسلی نہیں ۔ جس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر بابوزئی نے طلبا کو اپنے ساتھ لیکر سوات تعلیمی بورڈ روانہ ہوئے ۔ جہاں پر پولیس کی جانب سے سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے تھے، بورڈ کی عمارت کو چاروں جانب پولیس نے گھیرے میں لے رکھا اور ان کے پاس ڈنڈے موجودتھے تاکہ اگر کو مزاحمت ہو طلبا کی جانب سے تو اس کو بروقت روکا جا سکے ۔
اے سی بابوزئی نے بورڈ حکام سے بات کرنےکے بعد سیکرسی میں چند طلبا کے مارکس اور پیپرز چیک کئے گئے جس میں طلبا کے مطابق غلطیاں سامنے ہوئی ، جس پر اے سی نے بورڈ انتظامیہ کی سخت مذمت کی اور ان کو ہدایت کی گئی کہ جو طلبا ری چیکنگ کیلئے رقم جمع کرتے ہیں ان کے مارکس اگر تبدیل ہوجاتی ہے تو ان کو ری چیکنگ کے تمام رقم واپس کی جائے گی ۔
سیکرسی سے نکل اے سی بابوزئی نے طلبا سے مخاطب ہوکر کہا کہ اپ لوگ ری چیکنگ کیلئے داخلے کریں اور اپنے پیپرز چیک کرے اگر کوئی غلطی سامنے ائے تو بورڈ انتظامیہ اس کو ٹھیک کرے گی ۔
مظاہرے کے دوران چند طلبانے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ان کے پیپرز یا تو تبدیل ہوچکے ہین یا جو ایکسڑا شیٹس پیپرز کیساتھ دیئے گئے ہیں وہ غائب ہیں ۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان پر بھی تحقیقات اور کارروائی کی جائے ۔
احتجاج کےبعد سوات تعلیمی بورڈ کے انتظامیہ سے بات چیت کرنے اور ان الزامات کے متعلق مزید جاننے کی کوشش کی گئی تاہم اس موقع پر نہ تو چیئرمین سوات تعلیمی بورڈ موجود تھے اور نہ ہی سیکرٹری اور کنٹرولر موجود تھے، جبکہ ان سے فون پر رابطہ کی کوشش کی گئی تو ان کے موبائل نمبر پر رابطہ بھی نہ ہوسکا ۔
723 total views, no views today



