سرمایہ داری کے تحت گزرتا ہوا انسانی سماج اور ہر لمحہ سماجی انتشاراور اپاہج پن کا اظہار کر رہاہے۔جس کے بھیانک اثرات پاکستانی سماج میں ان تمام عمومی مسائل کے ساتھ ساتھ بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ اور ان کی آسمان سے باتیں کرتے ہوئی قیمتوں نے محنت کش طبقے کی زندگیوں کو اجیرن کرکے رکھ دیا ہے۔ اب بجلی کے لوڈ شیڈنگ کے گرمیوں کے بھر پور آغاز سے قبل ہی یہ صورت حال ہے کہ پندرہ پندرہ گھنٹے تک بجلی کانام و نشان تک نہیں ہوتاجبکہ گرمیوں کے ابھار سے یہ صورتحال مزید بھیانک شکل اختیار کرے گی لیکن اس سے امیروں کو تو کوئی فرق نہیں پڑتاکیونکہ ان کے گھر وں میں تو جنریٹرز اور UPSجیسے آلات نسب ہیں لیکن اس کا شکار بھی محنت کش طبقہ ہی ہورہاہے جن کے معصوم بچے اور بوڑھے والدین گرمی کی شدت کی وجہ سے بلک رہے ہیں اور جن کیلے یہ زندگی ایک قیامت خیز منظر پیش کر رہی ہے لیکن اس کا احساس ائیر کنڈیشنز گھروں ، ایوانوں اور گاڑیوں میں بیٹھے ہوئے سرمایہ دار، جاگر دار حکمران طبقات کوبھلا کیسے ہوسکتا ہے جنہیں کسی طور بھی ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے اس کے بر عکس جو ں جوں محنت کش اور غریب طبقات کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہیں توں توں حکمران طبقات کا لوگوں کو نان ایشوز پردوکھا دینے کا عمل شدت اختیار کر رہاہے۔ کبھی عدلیہ کی آزادی کو محنت کشوں کے تمام مسائل کا حل گردانا جاتاہے اور کبھی آمریت کے خاتمے اور نام نہاد جمہوریت کے بحالی کوہر مسئلے کا حل بنا کر پیش کیا جاتاہے۔ کبھی میڈیا کی نام نہاد آزادی اور کبھی ایک متروک نظام کے متروک ائین اور قوانین کے بحالی کو نجات کا زریعہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن سرمایہ داری کی تاریخی متروکیت کے بڑھتے ہوئے عمل نے آج آمریتاور نام نہا د جمہوریت کے درمیان اس فرق تک کو بھی مٹا کر رکھ دیا ہے جو سرمایہ داری کے ترقی پسندانہ عہدوں میں کم ازکم نام نہادشکل میں ہی موجود تھا۔پیپلز پارٹی اس نظام کے اند ر رہتے ہوئے 1973ء کے ائین کے بحالی کے زریعے ان مسائل کا حل پیش کر رہے ہیں جبکہ نواز شریف جو پہلے اپنے اپ کو 1973ء کے ائین کی بحالی ، عدلیہ کی نام نہاد آزادی اور نام نہا د جمہوریت کی مظبوتی کا ہیرو بنا کر پیش کر رہا تھا ، نے اچانک ایک ”U”ٹرن اس لیے لیا ہے چونکہ اس کے نزدیک یہ تمام مسائل (جو در اصل نان ایشوز ہیں)اگر حل ہوجائے تو اس کی سیاست (غریب عوام کو دوھوکہ دینے )کا کھیل ختم ہوجاتاہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ حکمرانوں کے ان تمام مسائل کا محنت کشوں اور غریب عوام کی زندگیوں کو اجیرن کرتے ہوئے مسائل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ 1973ء اور اج کے عہد کے کردار میں بہت بڑا فرق ہے1973ء میں سرمایہ داری کسی اور کیفیت میں تھی اور اج اس کا کردار کچھ اور ہے 1973ء میں سرمایہ داری کے اندرانسانی سماج کو ترقی دینے کی پھر بھی کچھ نہ کچھ صلاحیت موجود تھی جبکہ اج اس کے پاس محنت کش اور غریب عوام کودینے کیلے ماسوائے بربریت ، انتشار ، زلتوں ، بیروزگاری، مہنگائی اور جنگی بر بادیوں کے اور کچھ نہیں ہے۔ مسئلہ ائین کی بحالی یا اس کے خاتمے کا نہیں ہے مسئلہ امریتوں اور جمہوریتوں کا بھی نہیں ہیں کیونکہ یہ تمام سرمائے کی لونڈیاں ہیں اور جب سرمایہ داری بحیثیت ایک نظام کے ہی متروک ہوچکے ہے تب حکمرانوں کے ان نان ایشوز سے غریب عوام کا کو ئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں ہے بلکہ سرمایہ داری کے تحت ان مسائل میں اس سرمایہ داری کا مکمل خاتمہ کرنا ہوگا اور ایک ایسے سماج کی بنیاد رکھنا ہوگی جہاں یہ تمام صنعتیں ، جاگیریں ، بینک اور دیگر تما شعبہ ہائے زندگی محنت کش طبقے کے اجتماعی کنٹرول کے زریعے اجتماعی ملکیت میں ہوں، تبھی جاکر پیداوار کے مقصد کو پیداوار برائے منافع سے تبدیل کرکے پیداوار برائے تکمیل انسانی ضروریات میں ڈالا جاسکتا ہے یہی ہمارے مسائل کا واحد حل اور آج کا نا گزیر تاریخ تقاضہ ہے جس کے تکمیل کیلے اور اپنا بقاء کے تقاضو ں کو پورا کرنے کیلے اب آگے بڑھنا ہی ہوگا کیونکہ ہمارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں اور جیتنے کو سارا جہاں پڑا ہے۔
908 total views, no views today


